رسائی کے لنکس

افغانستان میں نیٹو فوجیوں میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا


نیٹو فوجی، کابل میں کار بم دھماکے کے مقام کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

یورپ سے فوجی مہیا کرنے والے ایک اہم ملک جرمنی نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال کے لیے اپنے فوجیوں کی تعداد نہیں بڑھا سکے گا۔

امریکی فوجی عہدے داروں نے کہا ہے کہ نیٹو نے افغانستان میں مزید فوجی دستے بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس نے یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوجی قوت میں کمی سے ملک میں سیکیورٹی کی کمزور صورت حال کے لیے مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

نیٹو کے دفاعی نمائندوں کے ایک اجلاس میں، کمانڈروں کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کی حکمت عملی کے اعلان کے تین مہینے گذرنے کے بعد بھی نیٹو نے تربیتی مقاصد کے لیے اپنے فوجیوں کی تعداد میں اتنا اضافہ نہیں کیا جس کی توقع تھی۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے اس ہفتے کہا تھا کہ تربیتی مشن کے لیے فوجیوں کی تعداد 16 ہزار کے لگ بھگ تک لانے کے لیے نیٹو اتحادی اور امریکہ مشترکہ طور پر مزید تین ہزار فوجی فراہم کریں گے۔

دو سفارت کار یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ ممکنہ طور پر 2800 فوجی فراہم کرے گا جب کہ نیٹو، اس کے شراکت دار اور غیر اتحادی ملک تقریباً 700 فوجی بھیجیں گے، تاکہ نئے دستوں کی تعداد 3500 تک پہنچ سکے۔

یورپ سے فوجی مہیا کرنے والے ایک اہم ملک جرمنی نے کہا ہے کہ وہ اگلے سال کے لیے اپنے فوجیوں کی تعداد نہیں بڑھا سکے گا۔

افغانستان میں سیکیورٹی کی صورت حال اس کے بعد سے جب، 16 برس پہلے امریکہ نے افغان حکومت کے خلاف 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے گروپ القاعدہ کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے حملہ کیا تھا، حالیہ مہینوں میں تیزی سے خراب ہوئی ہے۔

نیٹو وزرا کے اجلاس سے پہلے امریکی عہدے داروں نے کہا تھا کہ اتحادیوں نے فوجیوں سے متعلق اپنے وعدوں کا 80 فی صد پورا کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے اجلاس کے بعد مزید کتنے فوجی بھیجے جائیں گے، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ کمی اب بھی موجود ہے۔

امریکی اندازوں کے مطابق افغانستان نے 43 فی صد اضلاع پر یا تو طالبان کا کنٹرول ہے یا کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG