رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں سابق فوجیوں کے دن کی اہمیت


فائل فوٹو

امریکہ میں بدھ کو سابق فوجیوں کا دن منایا گیا اور اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقریبات کے ذریعے سابق فوجیوں کی خدمات کو سراہا گیا۔

اس سال یہ دن کرونا وائرس بحران کے دوران اور امریکہ میں ایک سخت مقابلے کے الیکشن کے تھوڑے ہی روز منایا گیا ۔

اس دن کو امریکہ میں 'ویٹرنز ڈے' کہا جاتا ہے اور یہ دن ہر سال 11 نومبر کو پہلی جنگ عظیم کے 1918 میں خاتمے کے دن کی مناسبت سے منایا جاتا ہے جب جرمنی نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

عام طور پر سابقہ فوجیوں کو یوم عسکری بینڈ اور پیریڈوں اور کئی تقریبات کے ساتھ منایا جاتا ہے لیکن اس برس کرونا وائرس سے بچاؤ کے پیش نظر بہت سی تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا اور باقی ماندہ تقریبات کو انٹرنیٹ کے ذریعہ دکھا کر یہ دن آن لائن منایا گیا۔

کرونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے آرلینڈو، فلوریڈا، پینسلوانیا اور ٹیکساس میں پیریڈیں منعقد نہیں کی جا سکیں۔

ورجینیا ریاست میں واقع آرلنگٹن کے قومی قبرستان میں منعقدہ ویٹرن ڈے کی تقریب میں عام لوگوں کو شرکت کرنے سے روک دیا گیا تھا اور نامعلوم سپاہی کی قبر سے اس تقریب کو آن لائن نشر کیا گیا۔

اسی طرح واشنگٹن اور نیو جرسی میں ویت نام میموریل کے مقامات سے تقریبات کو آن لائن دکھانے کا انتظام کیا گیا۔ ریایست ٹیکساس میں فورٹ ورتھ کے مقام پر ایک میموریل موٹر کیڈ نامی پریڈ منعقد کی گئی جس میں گاڑیوں کا ایک جلوس شامل تھا۔

نیویارک میں سماجی پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ویٹرنز ڈیے کی تقریبات کو منایا گیا۔

نومنتخب صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ فلاڈلفیا میں ویٹرنز ڈے کی تقریب مین۔ 11 نومبر 2020
نومنتخب صدر جو بائیڈن اور ان کی اہلیہ فلاڈلفیا میں ویٹرنز ڈے کی تقریب مین۔ 11 نومبر 2020

ویٹرنز ڈے اور الیکشن کا ماحول

اس سال کا ویٹرنز ڈے انتخابات کے ایک کڑے مقابلے کے ماحول میں ہو رہا ہے اور کئی ریاستوں میں ہار اور جیت میں بہت کم فرق نے امریکہ کو سیاسی سطح پر منقسم کر دیا ہے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق ظاہر کرتے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن کے 44 فی صد کے مقابلے میں 52 فی صد عسکری ووٹ حاصل کیے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے ووٹوں کا تناسب 2016 کے انتخابات میں حاصل کیے گئے ووٹوں سے کم رہا اور انہوں نے چار سال پہلے کے 59 فی صد کے مقابلے میں 35 فی صد ووٹ حاصل کیے۔

اکتوبر 2018 کے ایک ملٹری پول کے مطابق تقریباً امریکی فوج کے نصف ممبران اپنے آپ کو کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں کرتے اور گزشتہ سالوں سے یہی رجحان چلتا آ رہا ہے۔

ملٹری ٹائمز کے پول نے یہ بھی ظاہر کیا کہ تین جوتھائی افواج یہ سمجھتی ہیں کہ امریکی فوج حالیہ سالوں میں سیاسی طور پر منقسم نظر آتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ آرلنگتن کے قومی قبرستان میں ویٹرنز ڈے کی تقریب میں۔ 11 نومبر 2020
صدر ڈونلڈ ٹرمپ آرلنگتن کے قومی قبرستان میں ویٹرنز ڈے کی تقریب میں۔ 11 نومبر 2020

ویٹرنز ڈے کی تاریخ اور لوگوں کو یکجا کرنے کی روائت

روائتی طور پر ویٹرنز ڈے ایک ایسا وقت ہے جب سیاسی وابستیوں سے بالا طاق ہو کر امریکی اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس دن کا مقصد سابقہ فوجیوں کی خدمات کو خراج پیش کرنا ہے۔

یہ دن 1926 میں ایک قومی دن کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس وقت اسے آرمسٹس ڈے کے نام سے جانا جاتا تھا۔

یہ دن 1918 کے سال کے گیارہویں مہینے کے گیارہویں دن اور ٹھیک گیارہ بجے جرمن کی پہلی جنگ عظیم میں شکست سے منسوب ہے۔

امریکی کانگرس نے 1952 میں اس دن کا نام ویٹرنز ڈے رکھا تاکہ پہلی جنگ عظیم اور 1945 میں ختم ہونے والی دوسری جنگ عظیم دونوں میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں کو خراج پیش کیا جائے۔

اب یہ دن ان تمام سابقہ امریکی فوجیوں کی خدمات کو سراہنے کے لیے منایا جاتا ہے، چاہے انہوں نے کسی جنگ میں حصہ لیا ہو یا کوئی بھی جنگ نہ لڑی ہو۔

اور یہ دن مئی کے مہینے میں منائے جانے والے میموریل ڈے سے مختلف ہے کیونکہ میوریل ڈے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کی ایک یادگار تصویر۔ ٹینک بیلجیئم سے گزر رہے ہیں۔ 7 جنوری 1945
دوسری جنگ عظیم کی ایک یادگار تصویر۔ ٹینک بیلجیئم سے گزر رہے ہیں۔ 7 جنوری 1945

امریکہ میں آبادی کی شماریات کے مطابق اس وقت تقریباً ایک کروڑ 74 لاکھ سابقہ فوجی ہیں۔ پچھلے سال تک ان میں سے نصف فوجی 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔

سب سے زیادہ فوجی یعنی دس فیصد سے زائد ورجینیا، مونٹانا، وایومنگ اور الاسکا کی ریاستوں میں ہیں۔

محکمہ برائے فوجی امور کے ایک اندازے کے مطابق چار کروڑ 20 لاکھ امریکیوں نے 1775 کی انقلابی جنگ اور 1991 میں ڈیزرٹ سٹارم جنگ کے دوران ہونے والی جنگوں میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ ستمبر گیارہ 2001 کے دہشت گردی کے حملوں سے اب تک تین کروڑ اور تین لاکھ فوجیوں نے ملک کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG