رسائی کے لنکس

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا رجحان جاری


فائل

حالیہ سالوں میں پاکستان کی برآمد ات میں ہونے والی کمی وجہ سے بعض حلقوں کی طرف سے حکومت کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو کم کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا رہا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔

ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں گزشتہ جمعے کو شروع ہونے والی کمی کا رجحان رواں ہفتے بھی جاری رہا اور ڈالر کا انٹر بینک ریٹ 110.50 روپے تک پہنچ گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔

اگرچہ پاکستان کی مرکزی بینک، اسٹیٹ بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی غیر معمولی صورت حال میں اسٹیٹ بینک مداخلت کرے گا۔

دوسر طرف غیر ملکی کرنسی کے کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو کس سطح پر استحکام حاصل ہوگا تاہم ان کا کہنا ہے کہ ابھی ایک غیر یقنی کی صورت حال کی وجہ سے ڈالر کی مانگ میں بھی اضافہ ہو ہے ۔بدھ کی دوپہر کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کچھ استحکام دیکھا گیا اور اوپن مارکیٹ میں ایک ڈالر کی قیمت خرید 110.10 اور قیمت فروخت 111 روپے تھی جبکہ دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں بھی روپے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔

حالیہ سالوں میں پاکستان کی برآمد ات میں ہونے والی کمی وجہ سے بعض حلقوں کی طرف سے حکومت کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو کم کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا رہا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔

اس کے برعکس بعض حلقوں کی رائے تھی کہ ڈالر کی قدر میں ہونے والی کمی کی وجہ سے ملک پر ناصرف بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھے گا بلکہ ملک میں افراط زر کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے بدھ کو وائس ارمیکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " بہت دیر سے (مصنوعات برآمد کرنے والی ) پیدواری صنعت کا مطالبہ تھا کہ مارکیٹ کو ڈالر کی قیمت کا تعین کرنے دیا جائے جس کی وجہ سے برآمدات کو فروغ ملے گا اور درآمدات میں کمی آئے گی کیونکہ جو چیزیں درآمد ہو رہی ہیں وہ مہنگی ہو جائیں گے اس لیے لو گ ان کو خریدنا کم کردیں گے۔ تو یہی ایک خیال تھا جو کسی حد تک درست خیال تھا۔"

انہوں نے کہا کہ ملک میں سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کے منصوبوں کی وجہ سے ملکی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا " پاکستان کی معیشت کا رجحان درآمدات کی طرف زیادہ ہے۔ سی پیک کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ پاکستان کی معیشت پھیل رہی ہے۔ مشینری کی درآمدات بھی ہو رہی ہیں ۔۔ ہمارے لیے معیشت کو متوازن رکھنا چیلنج ہے لیکن طویل مدت کی جو سرمایہ کاری پاکستان میں ہو رہی ہے، ہمیں مستقبل میں بہتر پاکستان کی تصویر بھی دکھا رہی ہے۔ "

انہوں نے کہا کہ حکومت ساری صورت حال پر نظر رکھے ہوئے اور آئندہ کچھ دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام آ جائے گا۔ اسٹیٹ بینک ایک مناسب (روپے کی قدر کو) سطح کو دیکھ رہا ہے۔

دوسری طرف حزب مخالف کی جماعتیں روپے کی قدر میں اچانک اور تیزی سے کمی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس صورت حال میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔

اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ معاشی استحکام سے متعلق حکومت کے دعوے درست نہیں ہیں اس کی مثال روپے کی قدر میں کمی کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ لیکن حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کی تنقید بلا جواز ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG