رسائی کے لنکس

سعودی عرب میں دنیا کی مہنگی ترین گھڑ دوڑ کے لیے میدان سج گیا


سعودی کپ کے نام سے ہونے والی اس گھڑ دوڑ میں تقریباً 10 ہزار تماشیوں کی شرکت متوقع ہے۔ (فائل فوٹو)

سعودی عرب میں دنیا کی مہنگی ترین گھڑ دوڑ کے لیے میدان سج گیا ہے۔ رواں ہفتے 'سعودی کپ' کے نام سے ہونے والی اس ریس کی انعامی رقم دو کروڑ ڈالر رکھی گئی ہے۔

فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ریس جیتنے والے گھڑ سوار کو ایک کروڑ ڈالر دیے جائیں گے جب کہ دوسرے نمبر پر آنے والے گھڑ سوار کو 35 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم دی جائے گی۔

'سعودی کپ' کے نام سے ہونے والی اس گھڑ دوڑ میں تقریباً 10 ہزار تماشیوں کی شرکت متوقع ہے۔ 1800 میٹر طویل ریس دارالحکومت ریاض کے کنگ عبدالعزیز ریس ٹریک پر 29 فروری کو ہو گی۔

انعام کے حوالے سے اس بات کا خیال بھی رکھا گیا ہے کہ اول اور دوم نمبر پر آنے والے گھڑ سواروں کے بعد ریس میں تیسرے نمبر سے دسویں نمبر تک آنے والے آٹھ گھڑ سواروں کو بھی بطور انعام کچھ نہ کچھ رقم ضرور ملے گی۔

دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والا 'پگیسس ورلڈ کپ' گھڑ سواری کے اعتبار سے دنیا کا سب سے مہنگا ایونٹ تھا جس کی کل انعامی رقم 16 ملین ڈالر تھی۔ تاہم اب مہنگا ترین گھڑ سواری کا مقابلہ سعودی عرب میں ہونے جا رہا ہے۔

'اے ایف پی' کے مطابق انتہائی قدامت پسند تصور کی جانے والی مملکت نے حالیہ چند برسوں میں کھیلوں کے مختلف ایونٹس میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو ملک کو اعتدال پسند بنانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

'سعودی کپ' میں ڈرٹ اور ٹرف ٹریکس پر ہونے والی سات دیگر ریسز بھی شامل ہیں جن کی کل انعامی رقم 92 لاکھ ڈالر ہے۔

جاکی کلب آف سعودی عرب کے ڈائریکٹر اسٹریٹیجی اینڈ انٹرنیشنل ریسنگ ٹام ریان کا کہنا ہے کہ ہم اندرونِ ملک ہونے والی ریسنگ کو بین الاقوامی منصوبوں کے برابر لانا چاہتے ہیں اور رواں ہفتے ہونے والی یہ ریس انہی کوششوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایونٹ سے سعودی عرب میں کھیلوں کو فروغ ملے گا اور گھڑ دوڑ کے عالمی مقابلوں میں سعودی عرب کو اپنی شناخت بنانے کا موقع ملے گا۔

سعودی صحافی مغبل الزبنی کا کہنا ہے کہ گھوڑے سعودی ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ یہاں گھوڑوں کو قیمتی ورثے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مختلف کھیلوں کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کے لیے کھیلوں کے مقابلوں کو پرکشش بنانے کے خواہش مند ہیں تاکہ تیل پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔ اس غرض سے سعودی عرب ڈکار ریلی کی بھی میزبانی کر چکا ہے جو دنیا کی ایڈونچر ریلیز میں سے ایک ہے

سعودی عرب کی جہاں دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ وہاں ان مقابلوں پر ناقدین کہتے ہیں کہ کھیلوں کو فروغ دینے کی مہم کا مقصد معاشی بدحالی پر عوامی مایوسی کو ختم کرنا ہے تاہم اس سے نوجوانوں میں بیروزگاری کا احسان مزید بڑھے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG