رسائی کے لنکس

logo-print

حنیف اتمر کا صدارتی انتخابی مہم سے دستبردار ہونے کا اعلان


فائل

صدر اشرف غنی کے قومی سلامتی کے سابق مشیر، محمد حنیف اتمر نے جمعرات کے روز اپنی انتخابی مہم منسوخ کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد 28 ستمبر کے انتخابات پر شکوک بڑھ گئے ہیں۔

حنیف اتمر نے سیکورٹی کے مسائل کے ساتھ ساتھ امن عمل کی جاری کوششوں کو اپنی انتخابی مہم کی معطلی کی وجہ قرار دیا۔

حالانکہ اتمر کی انتخابی مہم داخلی تنازعات میں الجھی ہوئی تھی، یہ اعلان انتخابات کے لیے ایک اور دھچکہ ہے، جس کے بارے میں پہلے ہی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

چند روز قبل، طالبان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انتخابات کو ’’عام آدمی کو بے وقوف بنانے کا ڈھونگ‘‘ قرار دیا تھا، اور دھمکی دی تھی کہ انتخابی ریلیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان اس ماہ سمجھوتا طے پا سکتا ہے، جس میں ممکنہ طور پر ملک سے امریکی فوج کے انخلا کے نظام الاوقات کا اعلان ہوگا اور بین الافغان مذاکرات کے آغاز کا راستہ ہموار ہوگا۔

افغانستان کا وفد 15 ارکان پر مشتمل ہوگا، جس میں مختلف سیاسی دھڑوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے ہوں گے، جن میں حکومت، خواتین، اقلیتوں اور سول سوسائٹی شامل ہوگی، جو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں گے، جن میں آئین میں ممکنہ ترامیم شامل ہوں گی۔

امریکہ کے سابق نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اور پاکستان، رچرڈ اولسن نے کہا ہے کہ ’’اگر امن عمل کا بین الافغان مرحلہ شروع ہوتا ہے (یعنی حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات ہوتے ہیں) تو انتخابات کو مؤخر کرنے کے بارے میں فیصلہ ہو سکتا ہے، تاکہ طالبان کو انتخابی عمل میں شرکت کا موقع دیا جائے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG