رسائی کے لنکس

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ درازی عمر کے خلیے کی دریافت جدید ٹیکنالوجی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

سائنس دانوں نے امریکہ کے وسط مغرب میں آباد امیش نسل کے لوگوں میں ایک ایسا جینیاتی خلیہ دریافت کیا ہے جس کے متعلق ان کا کہنا ہے اس سے عمر میں مزید 10 سال کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس دریافت کا انكشاف حال میں شائع ہونے والے ایک سائنسی جریدے’ سائنس ایڈوانسز‘کی ایک رپورٹ میں کیا گیاہے۔

امیش ایک روایت پسند مسیحی کمیونٹی ہے جس کے افراد عموماً طویل عمریں پاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ درازی عمر کے خلیے کی دریافت جدید ٹیکنالوجی کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

امریکہ اور جاپان کے ماہرین ان دنوں ایک ایسی تجرباتی دوا پر تجربات کر رہے ہیں جو لوگوں میں درازی عمر کے خلیے جیسے اثرات کو جنم دے سکیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان تجربات کی کامیابی سے نہ صرف بڑھاپے کی بیماریوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ عمر میں بھی اضافہ ہو سکے گا۔

امریکی ریاست الی نوائے کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے شعبہ ادویات کے چیئر مین اور اس تحقیق کے سربراہ ڈگلس ویگہان کہتے ہیں کہ یہ جین نہ صرف عمر میں اضافہ کرتا ہے بلکہ انہیں صحت مند زندگی گذارنے کے قابل بھی بناتا ہے۔

ماہرین کو انڈیانا کی بیرن امیش کمیونٹی کے 177 ارکان پر تحقیق کے دوران پتا چلا کہ ان میں سے 43 افراد میں سرپائن ون نامی جین موجود تھا۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ جن افراد کےڈی این اے میں یہ جین موجود ہوتا ہے کہ ان کی عمریں اوسطاً 85 سال ہوتی ہیں ، جب کہ امیش کمیونٹی کے ایسے افراد جن میں یہ خصوصی جین نہیں پایا جاتا، اوسطاً 75 سال زندہ رہتے ہیں۔

ماہرین کو یہ بھی پتا چلا کہ جن افراد میں یہ جین موجود تھا وہ عموماً شوگر کے مرض سے محفوظ رہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بڑھاپا لانے میں ایک خاص پروٹین جسے پی اے ون کہا جاتا ہے، بنیادی کردار ادا کرتا ہے، لیکن سیرپائن ون نامی جین اس پروٹین پر اثر ڈالتا ہے۔ تاہم اس بارے میں مزید تحقیق ہونا باقی ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے جاپان کی توہوکو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر ایک دوا تیار کی ہے جو پی آئی اے ون پروٹین پر اسی طرح اثر انداز ہوتی ہے جس طرح امیش کمیونٹی کے افراد میں پانا جانے والا خصوصی جین۔

یہ دوا ان دنوں تجرباتی مراحل میں ہے ۔ جاپان میں اس کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور دوسرے مرحلے کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جس میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ شوگر اور موٹاپے میں مبتلا افراد پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی توقع کر رہی ہے کہ اسے اگلے سال امریکی انتظامیہ سے تجربات کی اجازت مل جائے گی۔

سائنس دانوں کو توقع ہے کہ اس نئی دوا سے شوگر کے مرض پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG