رسائی کے لنکس

logo-print

'سندھ کو غیر منتخب افراد کے ذریعے چلایا جا رہا ہے'


فہمیدہ مرزا وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کی اسپیکر رہ چکی ہیں۔

پاکستان کی وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا ہے کہ سندھ کو غیر منتخب افراد کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ صوبے میں جو بھی تبدیلی آئے گی وہ جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے ہو گی۔

وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں گرینڈ ڈیمو کریٹ الائنس (جی ڈی اے) کی مرکزی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت جب اپنی ذمہ داری انجام نہیں دے گی تو اُسے ہٹانے کے لیے جو بھی جمہوری طریقے ہیں وہ دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں نام نہاد جمہوریت کا نام لے کر عدم استحکام کی کوشش کی گئی تو یہ حق صوبوں کے معاملات پر بھی لاگو ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے رواں ماہ کے آغاز میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کی تھی۔ تاہم، واضح عددی اکثریت رکھنے کے باوجود خفیہ رائے شماری میں یہ تحریک ناکام رہی تھی۔

'سندھ میں تبدیلی جمہوریت کے اندر رہتے ہوئے آئے گی'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:18 0:00

انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے سندھ حکومت کے معاملات چلائے جا رہے ہیں سندھ کے زیادہ تر ارکان اسمبلی اس سے خوش نہیں ہیں۔

ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے بقول، صوبائی اسمبلی کے بہت سے ارکان ان سے رابطے میں ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے کتنے ارکان اسمبلی ان ہاؤس تبدیلی یا ایسے کسی اقدام کی حمایت کریں گے۔

سندھ میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے جی ڈی اے کی رہنما نے مزید بتایا کہ جمہوری طریقہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں میں ناراض گروپ بنتے ہیں۔ ہر پارٹی میں بنتے ہیں جبکہ فارورڈ بلاک بھی ہوتے ہیں۔ اگر اس طرح کے فارورڈ بلاکس بنتے ہیں تو اُن کے خیال میں اس طرح کے آپشنز موجود ہیں۔

فہمیدہ مرزا نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا مقصد اختیارات کا نچلی سطح تک منتقلی تھا۔ لیکن، بعض سیاسی خاندانوں نے اسے محض اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے اور عوام کو اس سے فوائد نہیں پہنچ سکے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کی اسپیکر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے والی وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف نے احتساب کے عمل سے بچنے کے لیے پارلیمنٹ کو یرغمال بنایا ہوا ہے جو کہ جمہوریت کے لیے بہت نقصان دہ عمل ہے۔

کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے فہمیدہ مرزا نے کہا کہ وزیر اعظم اور کور کمانڈرز کانفرنس نے اعلان کر رکھا ہے کہ کشمیر کے لیے کسی حد تک بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔ اسی کی پاکستان تیاری کر رہا ہے۔

کسی حد سے کیا مراد ہے؟ کے سوال کی وضاحت کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’’اگر جنگ ہوتی ہے تو پھر جنگ ہوگی۔ ہم ایٹمی طاقت ہیں اور اسی دن کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کی تھی۔"

فہمیدہ مرزا نے کہا کہ پاکستان کو اس بات کا ادراک شروع سے تھا کہ بھارت خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کے تدارک کے لیے پاکستان نے خود کو تیار کیا اور ایٹمی طاقت بنا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG