رسائی کے لنکس

logo-print

تھرپارکر: ایک ہندو لڑکی کا دوسری بار مبینہ اغوا، والدین کو جبری تبدیلی مذہب کا خدشہ


انسانی حقوق کے کارکن جبری تبدیلی مذہب کے خلاف ایک احتجاج میں شریک ہیں۔ فوٹو اے پی

سندھ کے ضلع تھر پارکر کی تحصیل چھاچھرو میں میگھواڑ ہندو کمیونٹی کے ایک فرد ملوکو میگھواڑ کو اپنی بیٹی رانی کے مبینہ اغوا کے باعث ایک سال میں دوسری بار تھانے جا کر ایف آئی آر درج کرانا پڑی۔

اس سے پہلے بھی انہوں نے چھ ماہ قبل اپنی 16 سالہ بیٹی کے اغوا اور زیادتی کے الزام کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں نامزد تین ملزمان کو ایک بار پھر مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے۔

چھاچھرو تھانے میں درج حالیہ ایف آئی آر میں ملوکو میگھواڑ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی بیٹی کو 27 مارچ کو ہولی سے محض ایک روز قبل ایک بار پھر اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ پانی بھرنے کے لیے گھر سے باہر موجود ٹینکی پر گئی تھی۔

ملوکو میگھواڑ نے الزام عائد کیا ہے کہ امیر حسین سمیجھو اور دیگر ملزمان ان کی بیٹی کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔ انہوں نے پولیس کو مزید بتایا کہ امیر حسین سمیجھو، رمیش اور دیگر ان کی بیٹی شریمیتی رانی کو زیادتی اور شادی کی نیت سے اغوا کر کے لے گئے ہیں۔

چھ ماہ قبل درج کرائے گئے مقدمے میں بھی یہی ملزمان نامزد تھے اور ان کے خلاف کیس متعلقہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

​’میں نے اپنی مرضی سے شادی کی‘

ادھر دوسری جانب لڑکی کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اپنا نیا نام فاطمہ بتایا ہے اور کہا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے امیر حسین سمیجھو سے شادی کی ہے۔ ان کے مطابق یہ شادی چھ ماہ قبل ہوئی تھی۔

ویڈیو بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حیدر آباد کی ایک عدالت میں ہونے والی کورٹ میرج کے بعد ان کے گھر والے زبردستی انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے جس کے بعد وہ اب موقع پا کر گھر سے ایک بار پھر اپنے شوہر کے ساتھ جانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ لڑکا لڑکی کی جانب سے ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں انہیں تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

دوسری جانب لڑکی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ شریمیتی رانی سے یہ بیان زبردستی لیا گیا ہے اور اسے اغوا کر کے مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب کہ قانونی لحاظ سے صوبے میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی بھی ممنوع ہے اور اس پر نکاح خواں سمیت نکاح کے گواہوں پر بھی مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

ملوث کرداروں کو جواب دہ بنایا جائے: ایچ آر سی پی

انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے واقعے کو خوف ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اور لڑکی کے خاندان کو شک ہے کہ اسے زبردستی مذہب تبدیل کرایا جائے گا۔

انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ رانی میگھواڑ کے والد کی جانب سے ایف آئی درج کرائے جانے کے بعد انہیں بھی اغوا کیا گیا۔

کمیشن نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری تحقیقات کرائی جائیں اور ملزمان کو سیاسی تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جواب دہ بنایا جائے۔

’زبردستی تبدیلیٔ​ مذہب کی روک تھام کے لیے قانون لا رہے ہیں‘

پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن اور پارلیمانی سیکریٹری برائے انسانی حقوق لال مالہی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کو زبردستی تبدیلیٔ مذہب کے لیے اغوا اور زیادتی کا کیس قرار دیا۔

لال مالہی نے کہا ہے کہ سندھ میں یہ واقعات تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات جہاں بد نامی کا باعث بنتے ہیں وہیں اس بارے میں قانون کی عدم موجودگی کا بھی احساس ہوتا ہے۔

تاہم لال مالہی نے کہا کہ یہ واقعات صرف ہندوؤں یا دیگر اقلیتوں کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں ہیں۔ ملک میں طاقت ور طبقات کمزور کو دبانے کے لیے اس سے ملتے جلتے ہتھکنڈے ہی استعمال کرتے ہیں جس میں مذہبی تعلیمات کا عمل دخل نہیں ہے۔

سندھ میں ہندو لڑکیوں کے مذہب کی مبینہ جبری تبدیلی کیوں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:44 0:00

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاق میں برسرِ اقتدار ان کی جماعت تحریکِ انصاف جلد ایک قانون پارلیمان میں متعارف کرا رہی ہے جس کے تحت جبری تبدیلیٔ مذہب کی مکمل روک تھام ممکن ہو سکے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی اس کاوش میں تمام جماعتیں ان کا مکمل ساتھ دیں گی۔

زبردستی مذہب کی تبدیلیٔ​ روکنے کے معاعدے کا کیا ہوا؟

رواں سال جنوری ہی میں سندھ میں ہندو اقلیتی برادری کی مبینہ زبردستی مذہب کی تبدیلیٔ کو روکنے کے لیے معاہدہ سامنے آیا تھا۔ تبدیلیٔ مذہب کے حوالے سے سرکردہ سمجھے جانے والے بعض علما اور پاکستان ہندو کونسل کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے تحت فریقین میں اتفاق ہوا ہے کہ ایسے واقعات سے متعلق پیشگی اطلاع فراہم کی جائے گی۔ جب کہ دوسرے فریق کو مطمئن کرنے کے لیے وقت بھی دیا جائے گا۔

اس معاہدے پر پاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن اِن چیف، رکن قومی اسمبلی اور پاکستان اقلیتی کمیشن کے رکن رمیش کمار وانکوانی اور گھوٹکی کی مشہور درگاہ بھرچنڈی شریف سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو، سجادہ نشین گلزار خلیل عمر کوٹ پیر محمد ایوب جان سرہندی اور جامع بنوریہ کراچی کے مہتمم مولانا نعمان نعیم کے دستخطوں سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔

تاہم انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ معاہدے پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ ان کے خیال میں اس میں سب سے بڑی رکاوٹ شدت پسندانہ سوچ رکھنے والے مذہبی عناصر ہیں۔ ان کے بقول مذہب کی تبدیلیٔ کسی اسکالر کے سامنے ہونے کے بجائے عدالت میں ہونی چاہیے۔ تاکہ عدالت یہ دیکھ سکے کہ مذہب تبدیل کرنے والا بالغ اور سمجھ دار ہے بھی یا نہیں؟ کیا وہ مذہب کے فلسفے کو سمجھتا ہے یا اس کو دباؤ اور مجبور کرکے مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلیٔ مذہب کو غیر مسلم لڑکیوں کے استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

کیا سندھ کی روایات بدل رہی ہیں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:08 0:00

چیئرمین ایچ آر سی پی کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے اقلیتوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور پھر شادی کرا دی جاتی ہے۔ تاکہ مذہب کی تبدیلیٔ کو قانونی حیثیت حاصل ہو۔

حال ہی میں امریکہ کی حکومت نے انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ میں بھی پاکستان میں خواتین اور اقلیتوں کے خلاف جرائم اور زبردستی تبدیلیٔ مذہب کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس قسم کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر ان کی سنجیدگی کو مسترد کرتی آئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG