رسائی کے لنکس

امریکہ میں مزید 30 لاکھ افراد بے روزگار، کل تعداد پونے 4 کروڑ


امریکہ میں کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کا زوال جاری ہے اور محکمہ محنت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ملک بھر میں مزید 29 لاکھ 81 ہزار افراد بیروزگار ہوگئے ہیں۔ اس طرح دو ماہ میں ذریعہ آمدن سے محروم ہوجانے والوں کی تعداد 3 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے مارچ کے وسط میں ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ، چوتھے میں 52 لاکھ، پانچویں میں 44 لاکھ، چھٹے ہفتے میں 38 لاکھ اور ساتویں ہفتے میں 32 لاکھ شہری بے روزگار ہوئے تھے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بحران میں مزید کم از کم ایک کروڑ افراد کی آمدنی کے ذرائع ختم ہوئے ہیں۔ لیکن، یا تو وہ بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں یا ان کے پاس قانونی دستاویزات نہیں۔

محکمہ محنت کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ تمام ریاستوں میں یکساں انداز سے بیروزگاری بڑھی ہے اور ان ریاستوں میں بھی کمی نہیں آئی جہاں کاروبار کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ کنیٹی کٹ میں گزشتہ ہفتے تین لاکھ افراد کا روزگار ختم ہوا۔ جارجیا میں یہ تعداد 2 لاکھ 41 ہزار اور فلوریڈا میں 2 لاکھ 21 ہزار رہی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس بحران سے پہلے معیشت کی ترقی کو اپنی سب سے بڑی کامیابی بیان کرتے تھے۔ لیکن، الیکشن کے سال میں وہ تمام ترقی ختم ہوگئی ہے۔

کانگریس معیشت کو سہارا دینے کے لیے تین مالیاتی پیکج منظور کر چکی ہے اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس جمعہ کو تین ہزار ارب ڈالر کا ایک اور پیکج پیش کرنے والے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ری پبلکنز اس کے بجائے چاہتے ہیں کہ معیشت کو کھول دیا جائے۔

لیکن، عالمی ادارہ صحت اور صحت عامہ کے ماہرین بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ کاروبار کھولنے میں جلدی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پیر کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی میں سماعت کے دوران انتھونی فاؤچی سمیت وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کے ارکان نے اس انتباہ کو دوہرایا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے صرف صدر ٹرمپ کے دور کی ترقی نہیں بلکہ 2008 کے معاشی بحران کے بعد دس سال میں بڑھنے والے روزگار کے تمام مواقع ختم کردیے ہیں۔ وبا پر قابو پانے کے بعد اس حد تک دوبارہ جانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG