رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے خطرات میں انسداد پولیو مہم کا آغاز، خدشات کیا ہیں؟


فائل فوٹو

پاکستان میں چار ماہ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر مارچ کے بعد پہلی بار ملک بھر میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

انسدادِ پولیو کی چھ روزہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے آٹھ لاکھ بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی۔ اس مہم میں کراچی، فیصل آباد، کوئٹہ، جنوبی وزیرستان، اٹک اور لاڑکانہ کے بعض اضلاع، یونین کونسلز اور یونین کمیٹیوں میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ رواں برس کے آخر میں ملک گیر سطح پر بھی انسدادِ پولیو مہم چلائی جائے گی۔

وفاقی وزارتِ صحت اور عالمی انسداد پولیو پروگرام کی ہدایت کی روشنی میں انسدادِ پولیو پروگرام مارچ کے آخر میں اس وقت معطل کیا گیا تھا جب پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے کیسز بڑھنے شروع ہوئے تھے۔ اس دوران تمام دیگر سرگرمیوں کو معطل کرکے صرف کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتِ حال کی نگرانی اور مختلف درجوں پر اس کے تدارک کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے تھے۔

پولیو کے خاتمے کے لیے قائم نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق کرونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن اور اس سے پیدا شدہ صورتِ حال میں پولیو سمیت دیگر قابلِ انسداد امراض کی ویکسینیشن کا عمل شدید متاثر ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ماہانہ سات لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ انہیں پولیو سمیت مختلف امراض سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن بہت محدود پیمانے پر ہو سکی ہے جب کہ گھر گھر چلائی جانے والی مہم نہ ہونے کے باعث بچوں میں پولیو سے بچاؤ کی مدافعت بھی کم ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

حکام نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ اس صورتِ حال میں ملک میں پولیو کی وائرس مزید سرائیت کرنے کے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔

انسدادِ پولیو کے لیے حوالے سے قائم تکنیکی ایڈوائزری گروپ کی ہدایات کے تحت ایک بار پھر حفاظتی انتظامات کے تحت پولیو سے بچاؤ کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے کو آرڈینیٹر برائے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر ڈاکٹر محمد صفدر کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر اس مہم کے ذریعے ان ٹارگٹ ایریاز میں ویکسینیشن کی جا رہی ہے جن علاقوں میں اس کے بڑھانے کے خدشات انتہائی زیادہ ہیں۔

ڈاکٹر محمد صفدر کے بقول اس مقصد کے لیے پولیو ورکرز کو خصوصی تربیت دی گئی ہے کہ انہوں نے کرونا وائرس کے دوران ویکسینیشن کے لیے جن ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہے اس کے لیے پولیو ورکرز کو آگہی دی گئی ہے تاکہ وہ خود اور وہ بچے جنہیں ویکسین دی جا رہی ہو، کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھ سکیں۔

تکینیکی ایڈوائزری بورڈ کے ممبر اور ماہر اطفال ڈاکٹر اقبال میمن کا کہنا ہے کہ چار ماہ کا بہت اہم وقت کرونا وائرس کی وجہ سے ضائع ہوا ہے۔ اس لیے یہ مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبال میمن کا کہنا تھا کہ اس وقت چیلنج یہ ہے کہ ایک جانب پولیو مہم معطل ہونے کی وجہ سے بچوں میں مدافعت کا نظام مزید کمزور ہو رہا ہے تو دوسری جانب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات، خدشات اور اس سے پیدا شدہ مشکلات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ملک میں پولیو کے خطرات کم کرنے میں جلد کامیابی مل جائے گی۔

صوبائی وزیرِ صحت سندھ عذرا فضل پیچوہو کا کہنا ہے کہ پولیو مہم کے دوران صوبے میں تین لاکھ کے قریب بچوں کو قطرے پلائے جانے ہیں۔ جس کے لیے فیلڈ میں 1400 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انسدادِ پولیو مہم شروع کرنے سے قبل فیلڈ ورکرز کو ضروری تربیت کے ساتھ حفاظتی سامان بھی مہیا کیا گیا ہے جس میں ہینڈ سینیٹائزرز، دستانے اور ماسک شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مہم سے یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران انسدادِ پولیو مہم پر کمیونٹی کا کیا ردِعمل ہے۔

مہم کے دوران پولیو ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی سیکیورٹی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں چند سال کے دوران پولیو مہم میں ڈیوٹی میں مصروف ورکرز پر حملوں میں 50 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ 2017 میں محض 8 اور 2018 میں 12 کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں 2019 میں ایک بار پھر 147 کیسز سامنے آئے تھے جس سے ملک میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا تھا۔

رواں سال بھی اب تک 59 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ سال 2014 میں عالمی ادارہ صحت نے پاکستان سے دنیا بھر میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے پولیو ویکسینیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ضروری قرار دیا تھا جسے حال ہی میں مزید چھ ماہ کے لیے بڑھایا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG