رسائی کے لنکس

ایپل ایک ٹریلین ڈالر کے ساتھ امریکہ کی سب سے بڑی پبلک کمپنی بن گئی


آئی فون ایکس
آئی فون ایکس

ایک چھوٹے سے موبائل فون نے، دیوالیے کی طرف بڑھتی ہوئی ایک کمپیوٹر کمپنی کو دس کھرب ڈالر مالیت کی امریکہ کی سب سے بڑی کمپنی بنا دیا۔

ڈیجیٹل الیکٹرانک کمپنی ایپل نے جمعرات کے روز ایک ٹریلین ڈالر کے سرمائے کے ساتھ امریکہ کی سب سے بڑی پبلک کمپنی ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

ایپل کو یہ مقام حاصل کرنے میں لگ بھگ 40 سال کا عرصہ لگا اور اس کامیابی کا سہرا کمپنی کی ایک منفرد پراڈکٹ آئی فون کو جاتا ہے، جس کی دنیا بھر میں مانگ ہے اور اس سے حاصل ہونے والے منافع نے ایپل کو امریکہ کی سب سے زیادہ سرمائے کی حامل کمپنی کا درجہ دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

الیکٹرانک ٹیکنالوجی کی کمپنی کے سٹاک میں جمعرات کے روز 2.8 فی صد کا اضافہ ہوا جس سے منگل سے شروع ہونے والے تسلسل میں یہ اضافہ 9 فی صد تک پہنچ گیا۔

ایپل کے شیئرز میں حالیہ اضافہ اس وقت شروع ہوا جب کمپنی کی جون کی سہ ماہی میں توقع سے زیادہ منافع ظاہر ہوا اور اس نے اپنے 20 ارب ڈالر کے شیئرز خود خرید لیے۔

ایپل کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ اس کا آغاز 1976 میں کمپنی کے شریک بانی سٹیو جوبز نے اپنے گیراج میں کیا اور ایپل کمپیوٹرز بنانے شروع کیے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کمپیوٹر کی مارکیٹ میں شديد مسابقت کی وجہ سے ایپل کے لیے اپنا وجود قائم رکھنا مشکل ہو گیا اور کمپنی کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

یہ وہ وقت تھا جب کمپنی نے ایک اور پہلو پر سوچنا شروع کیا کہ عام لوگوں کو ایک دوسرے سے ملانے اور ان کے رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے۔ ان کی یہ سوچ پہلے آئی فون کی ایجاد کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

اگرچہ اس وقت مارکیٹ میں بہت سے موبائل فونز موجود تھے اور چھوٹے سے چھوٹا موبائل فون بنانے کی دوڑ لگی ہوئی تھی، لیکن ایپل ان سے اس لحاظ سے مختلف تھا کہ اس کی سکرین دوسرے موبائل فونز سے بڑی تھی ۔یہ صرف فون ہی نہیں تھا بلکہ اس کی سکرین صارف کو کئی اور ڈیجیٹل سہولتیں بھی مہیا کرتی ہے۔ آئی فون کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اور ایپل کے منافع میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔

آئی فون کی ایجاد نے موبائل فون انڈسٹری کو سوچ اور انداز کو ایک نئی جہت دی اور آج ایسا موبائل فون ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا جس میں سمارٹ فون کی سہولتیں موجود نہ ہوں۔

اس وقت مارکیٹ میں آئی فون کی آٹھویں نسل موجود ہے اور اس کے آئی فون ایکس کی دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر پذیرائی کی جا رہی ہے جس کا نتیجہ جون کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں اندازوں سے زیادہ منافع کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔

اگرچہ ایپل، ڈسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کمپیوٹرز، آئی پیڈ اور آئی فونز کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک کی کئی دوسری چیزیں بھی بنا رہا ہے لیکن اس کی جس پر اڈکٹ کی مانگ سب سے زیادہ ہے، وہ آئی فون ہی ہے۔

پچھلے سال ایپل کا منافع 229 ارب ڈالر تھا جس نے اسے سب سے زیادہ منافع بخش پبلک کمپنی بنا دیا تھا۔

اسٹاک مارکیٹ میں دوسرے نمبر پر جو کمپنی ایپل کا پیچھا کر رہی ہے وہ نہ تو ٹیکنالوجی کی کمپنی ہے اور نہ ہی کوئی مالیاتی ادار اور نہ ہی اس کا تعلق توانائی کے شعبے سے ہے۔ بلکہ یہ کمپنی بنیادی طور پر فروخت کار اور خریدار کو رابطے کا ایک جدید پلیٹ فارم فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔ اس کمپنی کا نام ہے ایمزان۔

سٹاک مارکیٹ میں ایمزان کا سرمایہ 880 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور اس کے بعد مائیکرو سافٹ کا نمبر آتا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس رفتار سے ایمزان کا دائرہ اور منافع بڑھ رہا ہے، وہ آنے والے برسوں میں ایپل کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔

  • 16x9 Image

    جمیل اختر

    جمیل اختر وائس آف امریکہ سے گزشتہ دو دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ وہ وی او اے اردو ویب پر شائع ہونے والی تحریروں کے مدیر بھی ہیں۔ وہ سائینس، طب، امریکہ میں زندگی کے سماجی اور معاشرتی پہلووں اور عمومی دلچسپی کے موضوعات پر دلچسپ اور عام فہم مضامین تحریر کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG