رسائی کے لنکس

logo-print

آصف زرداری اور بلاول نیب میں پیش، کارکنوں کا احتجاج


فائل فوٹو

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے اور پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خلاف جاری تحقیقات کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔

نیب کے تفتیشی افسران نے دونوں رہنماؤں سے بدھ کو اسلام آباد میں جعلی اکاؤنٹس کیس، منی لانڈرنگ کیس اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں ایک گھنٹے سے زائد تفتیش کی۔

پی پی پی رہنماؤں سے کی جانے والی تفتیش کے حوالے سے نیب نے ایک اعلامیہ بھی جاری کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم نے دو گھنٹے تک متعلقہ ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے تین مقدمات سے متعلق سوال پوچھے اور تین مقدمات سے متعلق ایک تحریری سوال نامہ ان کے حوالے کیا۔

ان سوالوں کے جواب 10 دن میں نیب کی کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کو فراہم کیے جائیں گے۔

نیب کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم کو ملنے والے جوابات اور سوال نامہ کے ذریعے موصول ہونے والے جوابات کی روشنی میں آصف زرداری اور بلاول کو ان مقدمات میں دوبارہ نیب بلانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

نیب کا کہنا ہے کہ یہ انکوائری براہ راست چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی نگرانی میں کی جارہی ہے۔ نیب آئین اور قانون کے مطابق اپنی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے پر یقین رکھتا ہے اور کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون کے مطابق ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا۔

بلاول بھٹو زرداری نے پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں آئین سے آمر کا بنایا ہوا ہر قانون نکال دیں گے اور کٹھ پتلی حکومت کو للکارتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ چوری کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ پیپلزپارٹی نے نیب قوانین میں تبدیلی نہیں کی جو ہماری غلطی تھی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ انہیں آج جس کیس میں بلایا گیا تھا اس کمپنی کے قیام کے وقت ان کی عمر ایک سال سے بھی کم تھی۔ ان کے بقول، "میرا احتساب ایک سال کی عمر سے کیا جارہا ہے۔"

بلاول نے کہا کہ جب کالعدم تنظیموں کے خلاف بات کرتے ہیں تو ہمیں نوٹس ملتے ہیں۔ ہم بے نظیر کے جیالے ہیں، ان نوٹسز سے نہیں ڈرتے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس

بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت آئینی اور جمہوری حق استعمال کرنے والوں پر تشدد کر رہی ہے جب کہ جنونی اور انتہاپسند قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈال رکھے ہیں۔ میں کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ان وزرا کی بات کر رہا ہوں جن کا ان تنظیموں کے ساتھ تعلق ہے۔ میرے کھانے اور دھوبی کے بل کو بھی نکال لیا جاتا ہے۔ اگر ہمت ہے تو احسان اللہ احسان پر بھی جے آئی ٹی بنائیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں بلایا ہے تو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو بھی بلائیں۔ کالعدم تنظیموں کے رہنماؤں کو اس لئے حراست میں لیا گیا کہ بھارتی طیارے انہیں اڑا نہ دیں۔ حکومت کیسے کالعدم جماعتوں کی حمایت کرنے والوں کو اپنی کابینہ میں شامل کر سکتی ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب کی تاریخ کسی سے چھپی نہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ نیب کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر سیاست دان کےخلاف کرپشن کیسز بنائے جاتے ہیں۔

نیب جعلی اکاؤنٹس کیس، منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا نام اگرچہ زبانی طور پر اس کیس سے نکالنے کے لیے سپریم کورٹ نے احکامات دیے تھے لیکن بعد میں تحریری فیصلہ میں نیب کو بلاول کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

پیپلز پارٹی کے کارکنوں کا احتجاج

آصف زرداری اور بلاول کی نیب کے سامنے پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے مشتعل کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ بھی ہوئی جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے پی پی پی کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

بدھ کی صبح سے ہی پی پی پی کے رہنما اور کارکن بڑی تعداد میں نیب دفتر کے کے نزدیک جمع تھے جہاں انہوں نے شدید نعرے بازی کی۔

دفتر کے نزدیک تعینات پولیس کی بھاری اور پیپلزپارٹی کے کارکنوں میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس کے بعد کارکنوں کی بڑی تعداد پولیس کے تمام حصارتوڑتے ہوئے نیب کے دفتر تک پہنچ گئی جب کہ بہت سے افراد دفتر کے اندر بھی داخل ہوگئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے ان کے 200 سے زائد کارکنان کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ 50 سے زائد لاپتا ہیں۔

ان کے بقول پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سینئر رہنما بھی گرفتار شدگان میں شامل ہیں جن میں ندیم اصغر کائرہ، میر باز کھیتران اور سردار اظہر عباس شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG