رسائی کے لنکس

logo-print

جس کی جو آئینی ذمہ داری ہے وہ اسے ادا کرے: آصف زرداری


حیدرآباد جلسہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں میں 9 لاکھ سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، ''عدلیہ ان مقدمات کو حل کرے جو عرصے سے زیر سماعت ہیں''۔

اُنھوں نے کہا کہ ''جس کی جو آئینی ذمہ داری ہے وہ اسے ادا کرے؛ تین سال کی نوکری کرنے والوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ قوم کے فیصلے کریں''۔

حیدرآباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے، آصف زرداری نے مزید کہا کہ ''پاکستان کے ساتھ کافی مذاق ہو چکا اب مزید نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔''

صدر آصف علی زرداری نے جارحانہ خطاب کرتے ہوئے نام لیے بغیر حالیہ عدالتی فیصلوں پر تنقید کی؛ اور کہا کہ ''آپ وہ کام کریں جس میں ملک کا مستقبل ہو۔ قوم کے فیصلے کرنے کا اختیار محض پارلیمنٹ کو ہے۔ بہتر تو یہ تھا کہ آپ شفاف انتخابات ہونے دیتے اور سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے حکومت بناتیں''۔

سابق صدر نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بھی نام لئے بغیر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ''دنیا میں بہت سے لوگ اسی طرح لائے گئے جیسے انہیں لایا گیا''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہر کام اچھا کرسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ لوگ جنہیں کرکٹ اچھی آتی ہو سیاست بھی اچھی کرسکتے ہیں''۔

وہ اس سے قبل بھی موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرچکے ہیں۔ تاہم، عدلیہ پر کی جانے والی یہ تنقید حالیہ دنوں میں سخت ترین سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل سابق صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ''موجودہ حکومت کا کوئی سیاسی وژن نہیں، تحریک انصاف 18ویں آئینی ترمیم کو بنیاد بنا کر 1973 کے متفقہ آئین کو ختم کرنا چاہتی ہے''۔

اس سے قبل بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے ملک میں نئے ڈیمز بنانے کے لیے شروع کی گئی چندہ مہم کو پیپلز پارٹی تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے، جبکہ اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے بارہا ازخود نوٹس پر بھی پارٹی قیادت ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔ تاہم، ہفتے کو حیدر آباد میں جلسے میں ہونے والی سابق صدر آصف علی زرداری کی اس تقریر میں کافی واضح الفاظ میں عدلیہ پر انگلیاں اٹھائی گئیں ہیں۔

سیاسی ماہرین آصف علی زراداری کے حالیہ سخت بیانات کو محض اپوزیشن کی سیاست سے تعبیر نہیں کرتے، بلکہ ان کے مطابق حالیہ بیانات سابق صدر کے خلاف جاری تحقیقات اور عدالتی کارروائیوں کے دباو کا نتیجہ ہے۔

سابق صدر کے خلاف پاکستانی تحقیقاتی ایجنسی، ایف آئی اے منی لانڈرنگ اور جعل سازی کے الزامات کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ اس مقدمے میں دو درجن سے زائد ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے جعل سازی کے ذریعے جعلی بینک اکاؤنٹس قائم کیے اور اربوں روپے کے کالے دھن کو سفید کیا ہے۔

تاہم، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اس بات سے اتفاق نہیں کرتی۔ پارٹی رہنما بارہا آصف علی زرداری پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت حزب اختلاف کی بڑی جماعت ہے اور وہ حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG