رسائی کے لنکس

logo-print

دہری شہریت کیس، زلفی بخاری کو کام جاری رکھنے کی اجازت


زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری کی وجہ سے برٹش ایئرویز پاکستان واپس آئی ہے۔ (فائل فوٹو)

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ "زلفی بخاری کے لیے کان میں کھُسر پھُسر کرنا کافی ہے۔ ہم ڈکلئیر کر رہے ہیں کہ وہ منسٹر نہیں۔ اسپیشل اسسٹنس کے لیے دوہری شہریت کی پابندی نہیں۔"

سپریم کورٹ نے دہری شہریت کی بنیاد پر تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو بیرونِ ملک پاکستانیوں کے امور پر وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر ذوالفقار بخاری کی تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ زلفی بخاری بطور وزیر کام کر رہے ہیں اور کابینہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زلفی بخاری کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ پوری سمری لے کر آئیں؟ اس نے کیسے اپنی ویب سائٹ پر وزیرِ مملکت کا عہدہ لکھ دیا۔

اس موقع پر زلفی بخاری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ زلفی بخاری نے وزیرِ مملکت کا اسٹیٹس کلیم نہیں کیا۔ ان کی وجہ سے برٹش ایئرویز پاکستان واپس آئی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا اچھا تو یہ ہوتا کہ یہ پی آئی اے کو بہتر بناتے۔ زلفی بخاری کی اہلیت بتائیں؟ وزیراعظم کا صوابدیدی اختیار ہے تو یہ مطلب نہیں کہ وزیرِ اعظم جس طرح مرضی کام کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں وزیرِ اعظم کو بھیجی گئی سمری دکھائیں کہ کیسے زلفی بخاری معاونِ خصوصی بنے۔

درخواست گزار ظفر اقبال نے کہا کہ زلفی بخاری پر سرکاری ملازمین کی دہری شہریت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ لاگو ہوتا ہے۔

اس پر بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان پر لاگو نہیں ہوتا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ معاونِ خصوصی کی تعیناتی وزیرِ اعظم کا اختیار ہے۔ زلفی بخاری آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی زد میں نہیں آتے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے معاونِ خصوصی کی کیا اہلیت ہونی چاہیے؟

درخواست گزار ظفر اقبال نے کہا کہ قانون میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے معاونِ خصوصی کی اہلیت مقرر نہیں۔ اس پر جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیے کہ ایسا ہے تو پھر یہ وزیرِ اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا کہ لگتا ہے آپ نے فیصلہ غور سے نہیں پڑھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ کو تجاویز دی ہیں۔ ہم نے اس فیصلے میں پابندی نہیں لگائی۔ ہم زلفی بخاری کو آپ کی استدعا کے مطابق نکال نہیں سکتے۔ البتہ پارلیمنٹ کو اس پر تجاویز دے سکتے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ معاونِ خصوصی کی تعیناتی کا فیصلہ وزیرِ اعظم کو کرنا ہے۔ حکومت چلانا وزیرِ اعظم کا کام ہے۔ آپ کو زلفی بخاری کی تعیناتی کے خلاف رولز آف بزنس کو چیلنج کرنا چاہیے تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈیم فنڈ میں حصہ لیا ہے۔

درخوست گزار ظفر اقبال کلانوری نے کہا کہ زلفی بخاری بیرونِ ممالک معاہدے کر رہے ہیں۔ یہ کام وزیر کے ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اِن کے وکیل اعتزاز صاحب سے پوچھ لیں گے کہ زلفی بخاری وزیر ہیں یا نہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ "زلفی بخاری کے لیے کان میں کھُسر پھُسر کرنا کافی ہے۔ ہم ڈکلئیر کر رہے ہیں کہ وہ منسٹر نہیں۔ اسپیشل اسسٹنس کے لیے دوہری شہریت کی پابندی نہیں۔"

بعد ازاں عدالت نے زلفی بخاری کی تعیناتی اور اہلیت کے خلاف درخواست گزار ظفر اقبال کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

بدھ کو لاہور رجسٹری میں ہی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گورنر پنجاب چوہدری سرور اور مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر نزہت صادق کی دوہری شہریت سے متعلق کیس کی بھی سماعت کی۔

کیس میں اٹارنی جنرل آفس کے توسط سے دفترِ خارجہ نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

رپورٹ کے مطابق گورنر پنجاب چوہدری سرور اور نزہت صادق مستقل طور پر غیر ملکی شہریت چھوڑ چکے ہیں۔ اس پر سپریم کورٹ نے معاملہ نمٹانے ہوئے دونوں کو کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG