دنیا بھر میں فضائی حادثات میں کمی، اموات میں اضافہ
دنیا بھر میں فضائی حادثات میں کمی، اموات میں اضافہ
فائل فوٹو
ویب ڈیسک —
دنیا بھر میں ہلاکت خیز فضائی حادثات میں کمی کے باوجود ان واقعات میں ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
نیدر لینڈز کی ایک کنسلٹنگ فرم کے مطابق 2020 میں دنیا بھر میں بڑے مسافر طیاروں کے حادثات میں 299 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کہ بڑے مسافر طیاروں کے حادثات میں 50 فی صد تک کمی آئی ہے۔
ایوی ایشن کی کنسٹنگ فرم ' ٹو سیونٹی' نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 2020 میں 40 حادثات میں بڑے کمرشل مسافر طیاروں کو نقصان پہنچا۔ جن میں سے پانچ حادثات انتہائی ہلاکت خیز تھے جن میں 299 افراد کی موت ہوئی۔ 2019 میں 86 حادثات ہوئے تھے جن میں سے 8 ہلاکت خیز تھے اور ان میں 275 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ٹو سیونٹی کے مطابق بڑے کمرشل طیاروں میں 2020 میں ہلاکت خیز حادثات کی شرح 0.27 فی 10 لاکھ پروازوں کے رہی یعنی ہر 37 لاکھ پروازوں کے بعد ایک حادثہ ہوا۔
طیاروں کے حادثات میں کمی کی ایک وجہ کرونا وائرس کے باعث پروازوں میں کمی بھی قرار دی جا سکتی ہے۔
دنیا بھر میں کمرشل طیاروں کی پروازوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ 'فلائٹ ریڈار 24' کے مطابق 2020 میں کمرشل پروازوں میں 42 فی صد تک کمی آئی۔ جب کی مجموعی طور پر 2 کروڑ 44 لاکھ پروازیں کی گئیں۔
یوکرین کا طیارہ ایران میں گر کر تباہ
1/9
حادثے کے بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کیں۔ تاہم ایمرجنسی میڈیکل سروس کے سربراہ پیر حسین کولیوند نے تصدیق کی ہے کہ طیارے میں سوار تمام 176 مسافر ہلاک ہو گئے ہیں۔
مزیدShow less
2/9
تہران میں یوکرین کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ ابتدائی طور پر حادثے کی وجہ طیارے کے انجن میں خرابی معلوم ہوتی ہے۔
مزیدShow less
3/9تباہ ہونے والے یوکرینی طیارے کے قریب صحافیوں کے ساتھ عام لوگ بھی جمع ہیں۔ رواں سال پییش آنے والا یہ پہلا طیارہ حادثہ ہے۔
مزیدShow less
4/9
یاد رہے کہ ایک ماہ کے دوران یہ دوسرا بڑا فضائی حادثہ ہے۔ اس سے قبل 27 دسمبر کو قازقستان کی ایئر لائن 'بیک ایئر' کا طیارہ الماتی شہر کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا جس میں عملے سمیت 99 افراد سوار تھے۔
مزیدShow less
5/9جائے حادثہ پر موجود ریسکیو ٹیموں نے تباہ شدہ طیارے کا ملبہ ایک جگہ اکھٹا کیا تاکہ تحیققات میں اس سے کچھ مدد مل سکے۔
مزیدShow less
6/9ایرانکے سرکاری ٹی وی کے مطابق طیارے کے دونوں بلیک باکس مل گئے ہیں جن سے حادثے کی وجوہات جاننے میں مدد مل سکے گی۔
مزیدShow less
7/9
یوکرین ایئر لائن کی فلائٹ 752 کو تہران کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح پانچ بج کر 15 منٹ پر اڑنا تھا جس کی آخری منزل یوکرین کے دارالحکومت کیو کا بورسپل انٹرنیشنل ایئر پورٹ تھا لیکن وہ منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی گر کر تباہ ہو گیا۔
مزیدShow less
8/9حادثے کے بعد طیارے کا ملبہ دور دور تک پھیل گیا۔
مزیدShow less
9/9امدادی کارروائیوں کا ایک منظر جس میں ریسکیو ٹیمیں مصروف عمل ہیں۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
ٹو سیونٹی کے مطابق 2020 میں فضائی حادثات میں ہلاک ہونے والوں میں نصف تعداد تو اس جہاز کے مسافروں کی تھی جو کہ جنوری 2020 میں ایران کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ یوکرین کے اس طیارے میں 176 مسافر سوار تھے۔
سال کا دوسرا ہلاکت خیز حادثہ پاکستان میں ہوا تھا جب مئی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا طیارہ کراچی ایئر پورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوا تھا۔ اس حادثے میں 98 مسافروں کی موت ہوئی تھی۔
گزشتہ دو دہائیوں میں فضائی حادثات میں اموات کی شرح میں کمی آئی ہے۔ ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک (اے ایس این) کے مطابق 2005 میں فضائی حادثات میں 1015 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اے ایس این نے مزید واضح کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں کمرشل مسافر اور کارگو طیاروں کے حادثات میں اوسطاََ 14 واقعات سالانہ ہوتے رہے ہیں جن میں ہلاک ہونے والے افراد کی سالانہ اوسط 345 رہی ہے۔
لینڈنگ کے دوران ایئر انڈیا کے طیارے کو حادثہ
1/8طیارے کی لینڈنگ کے دوران کیرالا میں بارش ہورہی تھی جس سے طیارہ دور تک پھسلتا چلا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں طیارے کا پائلٹ کیپٹن دیپک سیٹھ ، معاون پائلٹ اکھیلیش کمار اور چار بچے بھی شامل ہیں۔
مزیدShow less
2/8بھارتی میڈیا نے ابتدائی رپورٹس میں بتایا کہ پائلٹس نے طیارے کو دو مرتبہ رن وے پر اتارنے کی کوشش کی، مگر بارش کی وجہ سے طیارہ پھسل گیا جس کے سبب وہ جہاز پر کنٹرول نہ رکھ سکے۔
مزیدShow less
3/8حادثے کے نتیجے میں جہاز دو ٹکڑے ہو گیا۔ پچھلے حصے کے مقابلے میں جہاز کا سامنے کا حصہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
مزیدShow less
4/8حکام کا کہنا ہے کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ہو چکا ہے اور حادثے کے تمام زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
مزیدShow less
5/8بھارت میں 2010 کے بعد پیش آنے والا یہ سب سے بڑا فضائی حادثہ ہے۔ مئی 2010 میں دبئی سے بھارت کے شہر مینگلور آنے والا طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا تھا جس میں 158 مسافر ہلاک ہو گئے تھے۔
مزیدShow less
6/8کیرالا کا کالی کٹ ایئر پورٹ رن وے پہاڑی علاقے میں واقع ہے اور رن وے کے دونوں طرف سو فٹ سے زیادہ گہری کھائیاں ہیں۔
مزیدShow less
7/8حادثے کے بعد لوگوں کی بڑی تعداد جائے حادثہ پر پہنچ گئی جنہیں سیکیورٹی اہلکار پیچھے ہٹانے کی کوشش کرتے رہے۔
مزیدShow less
8/8واقعے کے فوری بعد حکام حادثے کی جگہ پہنچ گئے۔ انہوں نے طیارے کا تفصیلی جائزہ لیا اور شواہد اکھٹے کیے۔
مزیدShow less
Previous slide
Next slide
فضائی حادثات کے حوالے سے 2017 کو سب سے محفوظ سال قرار دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ اس سال دنیا بھر میں صرف دو ہلاکت خیز واقعات ہوئے جن میں 13 افراد کی موت ہوئی تھی۔ جب کہ کوئی بھی مسافر طیارہ کسی ہلاکت خیز سانحے کا شکار نہیں ہوا تھا۔
امریکہ میں فروری 2009 کے بعد کسی مسافر طیارے کو ہلاکت خیز حادثے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔