رسائی کے لنکس

'آزادی مارچ' : گوجر خان قیام کے بعد آج اسلام آباد کا رخ


لاہور سے اسلام آباد

جمعیت علماء اسلام (ف) کا 'آزادی مارچ' بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور سے ہوتا ہوا اسلام آباد کی جانب رواں دواں ہے۔

اس سے قبل لاہور میں ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’’ملک داؤ پہ لگا ہوا ہے، جب کہ حکومت نے اپوزیشن کو احتساب کے نام پر دیوار سے لگایا ہوا ہے؛ جو ڈرامہ ختم ہونا چاہیے‘‘۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’25 جولائی 2018ء کو عوام کے منڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا‘‘۔

جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ ’’ہم جمہوریت اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں‘‘؛ اور یہ کہ ’’ملک کی حزب مخالف کی تمام جماعتیں ایک ہی پیج پر ہیں‘‘۔

پنجاب کا صوبائی دارالحکومت لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک نے بھی 2014 میں اپنے حکومت مخالف احتجاج کا آغاز لاہور سے کیا تھا۔

مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ لاہور سے گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، گوجر خان سے ہوتا ہوا اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ جہاں حکومت نے پشاور موڑ کے قریب انہیں جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

کامونکی کے قریب مولانا فضل الرحمان کے 'آزادی' مارچ کے چند مناظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:09 0:00

اگرچہ حزبِ اختلاف کی بیشتر جماعتیں پاکستان تحریکِ انصاف کے خلاف جمعیت علماء اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے حق میں ہیں۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آزادی مارچ میں اب مسلم لیگ (ن) کا کردار نہایت اہم ہوگا۔

کامونکی کے قریب سے گزرتے 'آزادی' مارچ کے چند مناظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:33 0:00

لاہور اور جی ٹی روڈ کے اطراف کے بعض علاقوں کو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو جب 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے نااہل قرار دیا تو وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑنے کے بعد وہ بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور آئے تھے۔​

'مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ اپنی پارٹی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ہے'

سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو جس طرح اس مارچ میں شریک ہونا چاہیے تھا، ویسا جوش و خروش نظر نہیں آ رہا۔ حالانکہ میاں نواز شریف نے بذات خود کارکنوں کو مارچ میں شرکت کی ہدایت کی تھی۔

سلمان غنی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی 'آزادی مارچ' میں شرکت کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں تھی۔ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) میں اس مارچ کے حوالے سے دو آرا تھیں۔ پارٹی کی اسٹیبلشمنٹ مارچ میں شرکت کے حق میں نہیں تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکن گزشتہ سال نواز شریف کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے کارکن گزشتہ سال نواز شریف کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ کی جانب رواں دواں ہیں۔

'دھرنے کا حصّہ نہیں بنیں گے'

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا مشہود کہتے ہیں کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مسلم لیگ (ن) بادل ںخواستہ اس مارچ میں شریک ہورہی ہے۔ ان کے بقول آزادی مارچ کے لاہور پہنچنے پر لیگی کارکنوں نے ان کا جس طرح سے استقبال کیا، وہ مثالی تھا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے رانا مشہود نے کہا کہ ہمارے کارکن رحیم یار خان سے ہی اس مارچ میں شامل ہو رہے ہیں۔ ملتان میں مخدوم جاوید ہاشمی نے مارچ کے شرکأ کا استقبال کیا جب کہ لاہور میں صبح چار بجے بھی ہمارے کارکن مولانا فضل الرحمٰن کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب جی ٹی روڈ کے اطراف کے شہروں سے بھی لیگی کارکن اس مارچ میں شامل ہوتے رہیں گے اور جب یہ مارچ اسلام آباد پہنچے گا، تو مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد اس کا حصہ ہوگی۔

تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق نواز شریف کی آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہائی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لیگی کارکن زیادہ تعداد میں مارچ میں شریک ہوتے۔ ان کے بقول بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ مسلم لیگ (ن) جی ٹی روڈ پر بھی طاقت کا مظاہرہ کر سکے گی۔

سلمان غنی کے نزدیک اس کی بڑی وجہ مسلم لیگ (ن) کے اراکین قومی اسمبلی کی 'آزادی مارچ' میں عدم دلچسپی بھی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نواز شریف کی ہدایت کے باوجود مارچ میں لیگی کارکن زیادہ تعداد میں شریک نہیں ہوں گے۔ (فائل فوٹو)
تجزیہ کاروں کے مطابق نواز شریف کی ہدایت کے باوجود مارچ میں لیگی کارکن زیادہ تعداد میں شریک نہیں ہوں گے۔ (فائل فوٹو)

'حکومت کو غیر مستحکم کرنا ان کا مقصد ہے'

سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کے اس مارچ کو اسٹیبلشمنٹ کے کسی حلقے کی حمایت حاصل ہے۔ موجودہ حکومت اصلاحات لا رہی ہے لیکن ان کے بقول عوام اور تاجر ٹیکس نہیں دینا چاہتے اور وکیل عدالتی اصلاحات نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز نوکریاں تو سرکاری اسپتالوں میں کرنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ پرائیویٹ کلینکس بھی چلا رہے ہیں۔

رسول بخش رئیس کے بقول اس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا آغاز مولانا فضل الرحمٰن نے کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بھی اپنے اپنے انداز میں اس حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔

لاہور سے اسلام آباد تک جی ٹی روڈ کے نواحی شہروں میں مسلم لیگ (ن) کے دو درجن سے زائد اراکین قومی اسمبلی ہیں۔
لاہور سے اسلام آباد تک جی ٹی روڈ کے نواحی شہروں میں مسلم لیگ (ن) کے دو درجن سے زائد اراکین قومی اسمبلی ہیں۔

'دھرنا نہیں دیں گے'

مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود کہتے ہیں کہ ان کی جماعت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ تحریکِ انصاف کی طرح دھرنے یا لاک ڈاؤن کے ذریعے جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا حصہ نہیں بنے گی۔

انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے رہبر کمیٹی کے اجلاس اور اس کے علاوہ بھی مولانا فضل الرحمٰن سے کہا تھا کہ وہ صرف ریلی اور جلسے میں شرکت کریں گے۔ لہذٰا مسلم لیگ (ن) ایسے کسی دھرنے یا لاک ڈاؤن کا حصہ نہیں بنے گی جس سے جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے کا خدشہ ہو۔

خیال رہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کا آزادی مارچ 27 اکتوبر کو کراچی سے روانہ ہوا تھا۔ یہ مارچ سکھر، رحیم یارخان، ملتان، ساہیوال سے ہوتا ہوا منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور پہنچا تھا۔

آزادی مارچ شیڈول کے مطابق 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہو گا۔ حکومت نے پشاور موڑ پر اپوزیشن کو جلسے کی اجازت دی ہے۔ البتہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ جلسے کے دوران وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG