رسائی کے لنکس

logo-print

حب الوطنی کی معراج پر پہنچ جانے والا پاکستانی


Azam Mairaj Pakistani Christian writer

پاکستان کے پرچم میں سبز رنگ مسلمانوں اور سفید رنگ اقلیتوں کا قرار دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پرچم کے برعکس معاشرے میں دونوں گروہوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات میں مسیحی دانش ور اعظم معراج تمام اکائیوں کو ان کی شناخت کے ساتھ معاشرے کا متحرک حصہ بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔

اعظم معراج نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں اسکول کے زمانے میں احساس ہوگیا تھا کہ پاکستانی معاشرے کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ کچھ اور ہے اور اقلیتوں کا کچھ اور۔ حالانکہ ان کے اسکول میں پڑھنے والے طالب علموں کا معاشی پس منظر ایک جیسا تھا۔ اس احساس نے انھیں بہت حساس بنادیا۔

اعظم معراج عملی زندگی میں آئے تو انھیں خیال آیا کہ شاید لٹریچر سے دوری کے سبب معاشرے میں دوریاں ہیں۔ وہ دس سال تک کتابیں بانٹتے رہے لیکن کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ انھوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ جب تک کسی شخص کو معاشرے پر اپنے حق کا احساس نہیں ہوگا، اونرشپ نہیں ہوگی، تب تک یہ بیگانگی ختم نہیں ہوگی۔

Azam Mairaj Books more
Azam Mairaj Books more

بیگانگی کو ختم اور وطن سے محبت کے جذبے کو جگانے کے لیے انھوں نے خود کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔ کتاب کا عنوان انھوں نے ’دھرتی جائے کیوں پرائے؟‘ رکھا۔

پہلی کتاب کا اچھا ردعمل ملا تو انھوں نے ’شناخت نامہ‘ کے عنوان سے دوسری کتاب لکھی۔ انھیں معلوم ہوا کہ افواج پاکستان میں بہت سے مسیحی افسروں نے شان دار کارنامے انجام دیے ہیں۔ انھیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے انھوں نے کتاب ’شان سبز و سفید‘ تحریر کی۔

اس کتاب کے دوران انھیں مادر وطن پر جان قربان کرنے والے مسیحی شہدا کے بارے میں علم ہوا تو انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے انھوں نے شہدائے وطن کے نام سے کتاب مرتب کی۔ اس کے بعد انھوں نے ایسے فوجی جوانوں کے لیے کتاب ’چوبیس چراغ‘ تحریر کی جنھیں اعلیٰ فوجی اعزازات ملے ہیں۔

اعظم معراج نے وطن کی محبت میں سرشار ہوکر کتابیں لکھیں اور مسیحی برادری کو بتایا کہ آپ اس دھرتی کے بچے ہیں۔ آپ کی اس زمین میں جڑیں ہیں۔ حالات، واقعات اور رویے بعض اوقات امتحان لیتے ہیں لیکن مسئلے ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ ان سے دل برداشتہ ہو کر اپنی مٹی سے رشتہ توڑا نہیں جاسکتا۔

Azam Mairaj Books
Azam Mairaj Books

اعظم معراج کہتے ہیں کہ وہ اب تک آٹھ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسیحیوں نے سوسائٹی کو اونرشپ دینا شروع کردی ہے۔ لوگ انھیں پیغام بھیجتے ہیں کہ ان کا معاشرے میں کیا حصہ ہے اور وہ پاکستان کے لیے کیا کررہے ہیں۔ پاکستان ہی میں نہیں، بیرون ملک بھی لوگ ان کی کتابیں پڑھ رہے ہیں اور رضاکار بن کر ان کی سوچ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

اعظم معراج آج کل اپنی نئی کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ صرف مسلمان اور مسیحی نہیں، معاشرے کی تمام اکائیاں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی ترقی کے لیے متحد ہوجائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG