رسائی کے لنکس

logo-print

بلدیہ ٹاؤن سانحہ: جرمنی کی ملبوسات ساز کمپنی پر ہرجانے کا دعویٰ


بلدیہ فیکڑی کے نام سے منسوب گارمنٹس فیکٹری شعلوں کی لپیٹ میں۔ ستمبر 2012

علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں جب آگ لگی تو شام کی اس شفٹ میں 500 سے زیادہ کارکن ڈیوٹی پر تھے جن میں 50 عورتیں بھی شامل ہیں۔ آگ نے دیکھتے یہ دیکھتے فیکٹری کو شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا اور مرکزی دروازہ مقفل ہونے کی وجہ سے کارکن اس میں پھنس کر رہ گئے۔

جرمنی کی ایک عدالت ملبوسات تیار کرنے والی ایک کمپنی کے خلاف مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جس کی پاکستان سے منسلک ایک فیکٹری کو جلائے جانے کے نتیجے میں 250 سے زیادہ کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔

چار درخواست گزاروں نے، جن میں آتشزدگی سے جانبر ہونے والا ایک کارکن اور دیگر متاثرہ افراد کے تین رشتے دار ہیں، کک نامی ملبوسات کی کمپنی سے فی کس 30 ہزار یورو کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

جرمنی کی ایک نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ کک کمپنی، آتشزدگی کا نشانہ بننے و الی فیکٹری کے ملبوسات کی ایک بڑی خریدار تھی اس لیے فیکٹری کے حفاظتی انتظامات کی صورت حال کی جزوی ذمہ داری اس پر بھی عائد ہوتی ہے۔

کک کمپنی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مقدمہ اس مقررہ مدت کے بعد دائر کیا گیا ہے جس دوران اسے عدالت میں لایا جا سکتا تھا۔

کمپنی نے چار سال جاری رہنے والی مہم اور کئی مہینوں کےمذاکرات کے بعد پاکستان میں آتشزدگی کا نشانہ بننے والی فیکٹری کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کو پچاس لاکھ ڈالر معاوضہ دینے کی حامی بھری تھی اور سن 2012 میں ہنگامی امداد کے لیے ایک لاکھ ڈالر فراہم کیے تھے۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے یہ کہا ہے وہ لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔

سن 2012 میں کراچی میں آتش زدگی کی لپیٹ میں آنے والی فیکٹری میں بہت سے کارکن فیکٹری کی بیسمنٹ میں دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔ کیونکہ فیکٹری سے نکلنے کے دروازے پر تالا تھا اور آگ سے بچنے کے لیے بہت سے کارکن بھاگ کر بیسمنٹ میں چلے گئے تھے۔

علی انٹرپرائز نامی فیکٹری میں جب آگ لگی تو شام کی اس شفٹ میں 500 سے زیادہ کارکن ڈیوٹی پر تھے جن میں 50 عورتیں بھی شامل ہیں۔ آگ نے دیکھتے یہ دیکھتے فیکٹری کو شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا اور مرکزی دروازہ مقفل ہونے کی وجہ سے کارکن اس میں پھنس کر رہ گئے۔

آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً ایک سو امدادی کارکنوں اور فائربریگیڈ کے ارکان کو 24 گھنٹوں سے زیادہ کا وقت لگا۔ جلی ہوئی فیکٹری کے ملبے سے کم ازکم 258 نعشیں نکالی گئیں جن میں سے اکثر شناخت کے قابل نہیں تھیں۔

فیکٹری کو آگ لگانے کا مقدمہ 9 افراد کے خلاف درج کیا گیا جن میں متحدہ قومی موومنٹ کے اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی، ایم کیوایم کے ایک سیکٹر انچارج عبدالرحمن عرف بھولا، اور زبیر عرف چاریہ شامل تھے۔ بدقسمت فیکٹری کے چار گیٹ کیپروں، شاہ رخ، فیصل احمد، ارشد محمود اور علی محمد پر آتش زدگی میں مدد فراہم کرنے کا جرم عائد کیا گیا۔

عبدالرحمن بھولا نے ایک مجسٹریٹ کے روبرو فیکٹری کو آگ لگانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ کارروائی اپنے سیاسی سرپرستوں کی ہدایت پر کی تھی۔ بھولے کے مطابق اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایم کیوایم کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حامد صدیقی کے حکم پر آگ لگائی کیونکہ فیکٹری کے مالک نے ایم کیوایم کو مطلوبہ بھتہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس مقدمے کی سماعت جیل کے اندر ہوتی رہی اور ان پر دہشت گردی، آتش زدگی اور بھتہ خوری کی دفعات عائد کی گئیں لیکن انہوں نے جرم کے اعتراف سے انکار کر دیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ عبدالرحمن بھولا اور اچاریہ کے علاوہ باقی تمام ملزم ضمانت پر ہیں، جب کہ حامد صدیقی اور علی حسن قادری کو مفرور قرار دیا جا چکا ہے اور وہ بالترتیب دبئی اور امریکہ میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG