رسائی کے لنکس

logo-print

لیبیا: کشتی اُلٹنے سے 150 سے زائد تارکینِ وطن کی ہلاکت کا خدشہ


فائل فوٹو

لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی اُلٹنے سے اُس میں سوار 150 سے زائد افراد لاپتا ہو گئے ہیں جن کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی اُلٹ گئی تھی جس میں سوار 150 سے زائد افراد کا تاحال پتا نہیں چلا ہے۔

مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تمام لاپتا افراد ڈوب کر ہلاک ہو سکتے ہیں۔

مہاجرین کی فلاح کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ایک ادارے کے مطابق مقامی ماہی گیروں اور لیبیا کے کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں نے کشتی اُلٹنے کے بعد ریسکیو کی کارروائی میں 147 تارکین وطن کو بچا لیا ہے۔

ریسکیو کیے گئے افراد میں سے دو کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جو اسپتال میں زیرِ علاج ہیں جب کہ کشتی میں سوار باقی ڈیڑھ سو سے زائد افراد لاپتا ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تارکین وطن کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ جا رہے تھے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب سمندر میں الخُمس نامی جگہ پر اُن کی کشتی اُلٹ گئی۔

رپورٹس کے مطابق اگر لاپتا افراد زندہ نہ بچے تو یہ رواں سال بحیرۂ روم میں کشتی الٹنے کے باعث ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ ہو سکتا ہے۔

رواں ماہ تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل تیونس کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے کے نتیجے میں 82 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں سے ہزاروں افراد ہر سال غربت، تنازعات اور پر تشدد واقعات سے تنگ آ کر لیبیا کے راستے یورپ کی طرف نقل مکانی کی کوشش کرتے ہیں۔

یورپ کی طرف نقل مکانی کرنے والے مہاجرین کے خلاف اٹلی نے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہوا ہے اور اپنی سمندری حدود ان کشتیوں کے لیے بند کر دی ہے جو این جی اوز کی جانب سے مہاجرین کو ریسکیو کر کے یورپ لاتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہر سال ہزاروں افراد کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر یورپ آنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یورپی ممالک کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کے تحت لیبیا کی حکومت بھی غیر قانونی مہاجرین کی کشتیوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کرتی ہے۔

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف رواں سال جولائی میں چار ہزار لوگوں کو روک کر انہیں واپس اپنے آبائی ممالک بھیجا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کی فلاح کے لیے کام کرنے والے ادارے کے ترجمان چارلی یِکس لی نے کہا ہے کہ سمندروں میں لوگوں کی جان بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG