رسائی کے لنکس

دی کشمیر فائلز: 'کشمیری پنڈتوں پر ظلم کی داستان یا آدھا سچ؟


'دی کشمیر فائلز' 11 مارچ کو 630 سنیما گھروں کی زینت بنی تھی۔
'دی کشمیر فائلز' 11 مارچ کو 630 سنیما گھروں کی زینت بنی تھی۔

بھارت میں آج کل بالی وڈ فلم 'دی کشمیر فائلز' کی دھوم مچی ہوئی ہےجس نے ریلیز کے سات روز کے دوران بھارت سمیت دنیا بھر سے 106 اعشاریہ آٹھ کروڑ بھارتی روپے کا بزنس کیا ہے۔

'دی کشمیر فائلز' 11 مارچ کو 630 سنیما گھروں کی زینت بنی تھی۔ فلم کی کہانی 1980 کی دہائی میں وادیٔ کشمیر میں مسلح مزاحمت کے آغاز پر مسلمان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں برہمن ہندوؤں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور اس کے نتیجے میں اُن کی بڑی تعداد میں نقل مکانی کے گرد گھومتی ہے۔کشمیر میں آباد برہمن ہندوؤں کو کشمیری پنڈت بھی کہا جاتا ہے۔

بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے حامی 'دی کشمیر فائلز' کی پذیرائی کررہے ہیں بلکہ فلم کو سراہنے والوں میں وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور کئی دوسرے وزرا بھی شامل ہیں۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فلم میں تاریخی واقعات کو اسکرین پر دکھاتے ہوئے مبالغہ آرائی اور پروپیگنڈے سے کام لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق فلم میں ایک تاریخی المیے کو غیر ذمے داری اور 'اسلامو فوبیا' کے تناظر میں دکھاکر مسلمانوں اور بالخصوص وادیٔ کشمیر کے اکثریتی مسلم طبقے کو ولن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

فلم کے لیے حکومت کی تائید

وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس فلم سے متعلق سخت رائے رکھنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور کہا تھا کہ 'دی کشمیر فائلز' کو بدنام کرنے کے لیے ایک سازش کی گئی ہے۔

دوسری جانب اس فلم کو بنانے والی ٹیم نے گزشتہ ہفتے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

بچوں اور خواتین کے حقوق کی وفاقی وزیر سمرتی ایرانی نے 'دی کشمیر فائلز' سے متعلق سوشل میڈیا پر لکھا کہ "اس فلم کو دیکھیے، تاکہ بے گناہوں کے خون میں ڈوبی تاریخ خود کوکبھی نہ دہراسکے۔"

بھارت کی ان نو ریاستوں میں ، جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، فلم 'دی کشمیر فائلز ' پر ٹیکس معاف کردیا گیا ہے۔ اس رعایت کے ساتھ ان ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے عوام کو فلم دیکھنے کی ترغیب بھی دی ہے۔

بعض ریاستوں میں تو سرکاری ملازمین اور پولیس اہلکاروں کو کشمیر فائلز دیکھنے کے لیے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کی رعایت کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ بھارت کی ریاست بہار کی حکومت نے بھی 'دی کشمیر فائلز' پر ٹیکس معاف کیا ہے۔

فلم فی الحال صرف بھارت کے سنیما گھروں میں دکھائی جارہی ہے جب کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے سنیما گھر بند ہیں۔ اس لیے کشمیر کے واقعات پر بننے والی یہ فلم تاحال کشمیر ہی میں نہیں دکھائی گئی ہے۔

فلم کی کہانی اور کاسٹ

'دی کشمیر فائلز' کی کہانی بھارتی کشمیر میں 1989 سے 90 کی دہائی کے درمیان ہونے والی صورتِ حال کے گرد گھومتی ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کو 'مذہب تبدیل کرو، مرو یا بھاگو' کے نعروں کے بیچ ان کے گھروں سے بے دخل کرکے وادی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

فلم میں پوشکرناتھ پنڈت کا مرکزی کردار بالی وڈ کے معروف اداکار انوپم کھیر نے ادا کیا ہے جو خود ایک کشمیری پنڈت ہیں۔بعض فلمی نقادوں کا کہنا ہے کہ انوپم کھیر نے جس لگن اور دلچسپی سے کردار ادا کیا ہے وہ 'دی کشمیر فائلز' کو ایک مؤثر فلم بنانے کی بنیادی وجہ ہے۔

ان کے علاوہ فلم میں متھن چکرورتی (برہما دت)، درشن کمار (کرشنا پنڈت)، پلوی جوشی (رادھیکا مینن)، پنیت اسار (پولیس افسر ہری نارائین)، پرکاش بیلاوڈی (ڈاکٹر مہیش کمار)، چنمے منڈلیکر(فاروق ملک بٹہ)، مرینال کلکرنی (لکشمی دت)، اتل سری واستوا (صحافی ویشنو رام)، امان اقبال (کرن پنڈت)، سورو ورما ( افضل) اور بھاشا سمبھلی (شاردا پنڈت) نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

پندرہ کروڑروپے بجٹ میں بننے والی فلم 'دی کشمیر فائلز' کا اسکرین پلے وِویک اگنی ہوتری اور سوربھ نارائین اگروال نے لکھا ہے۔ وِویک اگنی ہوتری فلم کے ہدایت کار بھی ہیں۔ دو گھنٹے دس منٹ دورانیے پر مشتمل اس فلم کی موسیقی روہت شرما نے دی ہے۔

'دی کشمیر فائلز' متنازع کیوں ہو رہی ہے؟

'دی کشمیر فائلز' پر بھارت اور ملک سے باہر متضاد آرا سامنے آئی ہے جو ایک تنازع کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ اداکار انوپم کھیر اور فلم کے ہدایت کار وِویک انگنی ہوتری، جنہیں بی جے پی کے قریب اور اس کے ہندوتو ایجنڈے کا حمایتی سمجھا جاتا ہے، ان پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ انہوں نے یہ فلم ایک مخصوص سیاسی پیغام دینے کے لیے بنائی ہے۔

فلم میں یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں بد امنی کے آغاز پر صرف کشمیری پنڈتوں کو قتل اور بے گھر کیا گیا جب کہ رپورٹس کے مطابق 1989 کے آخر اور 1990 کی دہائی کےآغاز میں کشمیری پنڈتوں اور ہندوؤں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مقامی مسلمان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے جسے فلم میں نظر انداز کیا گیا ہے۔

صحافی شبھرا گپتا کا کہنا ہے "یہ فلم حکمران جماعت بی جے پی کے مفروضے کے گرد گھومتی ہے جس کا مقصد کشمیری پنڈتوں میں پائے جانے والے غم و غصے کو اپنےبیانیے کے حق میں استعمال کرنا ہے۔"

'فلم میں آدھا سچ دکھایا گیا ہے'

تجزیہ کار اور یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہ سیاسیات کے سابق پروفیسر نور احمد بابا نے بتایا کہ "1990 میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ وادیٔ کشمیر میں جو کچھ ہوا وہ ہماری تاریخ کا ایک افسوس ناک باب ہے لیکن فلم میں آدھا سچ دکھایا گیا ہے بلکہ واقعات کو توڑ مروڑ کر اور اکثریتی طبقے (مسلمانوں) کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ فلم بنانے والوں کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔"

’دی کشمیر فائلز‘ کے ناقدین کہتے ہیں کہ فلم میں فاروق ملک بٹہ کا کردار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف)، کے ایک رکن اور تنظیم کے ایک اولین کمانڈر اور موجود سربراہ محمد یاسین ملک کا امتزاج ہے۔ واضح رہے کہ جے کے ایل ایف نے 1988 میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آزادی کے لیے مسلح تحریک کا آغاز کیا تھا۔

ان دونوں مذکورہ افراد میں سے کوئی 23 مارچ 2003 کو ضلع پُلوامہ کے نادی مرگ علاقے میں مسلح افراد کے ہاتھوں 24 کشمیری پنڈتوں کے قتل کے واقعے میں ملوث نہیں تھا۔ بلکہ بھارتی حکومت نے اس واقعے کے لیے لشکرِ طیبہ کو ذمے دار ٹھہرایا تھا۔ یاسین ملک اور بٹہ کراٹے گزشتہ کئی برس سے جیل میں بند ہیں۔

جے کے ایل ایف کے ایک سرکردہ لیڈر راجا مظفر نے اگنی ہوتری اور ان کے ساتھیوں پر اس فلم کے ذریعے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوریاں پیدا کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

راجا مظفر نےکہا کہ "کشمیر کو مذہبی منافرت کی آگ میں جھونکا جارہا ہے، 'دی کشمیر فائلز ' کے ذریعے کشمیریوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ دنیا کو اس کا سنجیدہ نوٹس لے کر اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت کشمیر کے مسئلےکو حل کرانے کی فعال کوشش کرنی چاہیے۔"

بھارت میں کئی مقامات پر 'دی کشمیر فائلز ' دیکھنے کےبعد سنیما گھروں کے باہر شائقین نے مظاہرے کیے ہیں جن میں مسلمانوں کے خلاف نعرے بازی کی گئی ہے اور کشمیری پنڈتوں کے ساتھ زیادتیوں کا بدلہ لینے کے مطالبات بھی کیے جارہے ہیں۔

ایسے واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہورہی ہیں۔بھارت میں بعض حلقے 'دی کشمیر فائلز' کو بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد اور بھائی چارے کے لیے ایک خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

'کشمیری پنڈتوں کے دور کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے'

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے فلم کی ریلیز سے پیدا شدہ صورتِ حال کو تشویش ناک قرار دے دیا اور کہا کہ بھارت کی حکومت جس جارحانہ انداز میں فلم دی کشمیر فائلز کی تائید کی اور کشمیری پنڈتوں کے درد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اس سے ان کی بد نیتی جھلک رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پرانے زخموں پر مرہم لگانے اور دو طبقوں ( مسلمانوں اور ہندوؤں) کے درمیان سازگار ماحول پیدا کرنے کے بجائے دونوں کو جان بوجھ کر ایک دوسرے سے الگ کیا جارہا ہے۔

تجزیہ کار نور احمد بابا کہتے ہیں کہ اگر ہم اچھے اور خوش گوار مستقبل کی آرزو کے ساتھ امن اور مفاہمت کاماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں تو مجھے نہیں لگتا کہ اس معاملے میں یہ فلم یا اس طرح کی کوئی اور کوشش مدد گارثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ 1990 میں یا اس کے بعد ایک مخصوص سیاسی اور تاریخی پسِ منظر میں جو کچھ ہوا ہمیں اس سے آگے بڑھنا ہوگا ۔ یہ بھی سچ ہے اور اس سے انکار ممکن نہیں کہ کسی ایک فرقے کو ہدف نہیں بنایا گیا بلکہ کشمیر کے سبھی طبقات کو تکلیف سے گزرنا پڑا ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فلم میں چوں کہ کشمیری مسلمانوں کو منفی انداز میں دکھایا گیا ہے جس کے نتیجے میں پناہ گزین کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک کشمیری ہندو سنیل پنڈتا کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ 1990 میں نہ صرف کشمیری پنڈت بلکہ کشمیری مسلمان اور سکھ بھی عسکریت پسندوں کا ہدف بنے لیکن صرف پنڈتوں ہی کو کیوں بیچا جارہا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں منشیات کے استعمال میں اضافہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:39 0:00

انہوں نے کہا کہ "میں ایک حقیقت ہوں، جب تم میری نہیں سنو گے تو ایک فلم سے کیا ہوگا۔ اگر حکومت کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی میں مخلص ہوتی تو اس کے لیے مناسب اقدامات کرتی بلکہ میں یہ کہوں گا کہ اگر حکومتِ وقت چاہتی تو کشمیری پنڈتوں کےانخلا کو روک سکتی تھی۔ اس کے برعکس بے گھر کشمیری پنڈتوں کو 1990 سے لے کر آج تک ہر پلیٹ فارم پر بیچا گیا ہے اور ان کی حالتِ زار کا استحصال کیا گیا ۔"

لیکن ایک اور کشمیری پنڈت اور مصنف سبھاش کاک کا کہنا ہے کہ ’’دی کشمیر فائلز ‘‘میں جو حقیقت دکھائی گئی ہے وہ صورتِ حال کا ادراک اور مفاہمت پیدا کرنے اور یہ یقینی بنانے کے لیےضروری ہے کہ مستقبل میں اس طرح کی وحشت دہرائی نہ جائے۔"

سیاسی تبصرہ نگار وِمل سمبھلی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر میں عسکریت پسند نے مسلمانوں کا قتل بھی کیا لیکن صرف ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں عسکریت پسندوں کو شبہ تھا کہ وہ ان کے خلاف ہیں۔ کشمیری پنڈتوں کو صرف اس لیے ہدف بنایا گیا کہ وہ کشمیری پنڈت (ہندو) تھے اور 'دی کشمیر فائلز نے یہی دکھایا ہے۔ آپ وِویک اگنی ہوتری کو پسند کریں یا ناپسند لیکن انہوں نے ہمت دکھائی ہے۔"

کشمیری پنڈت اور صحافی راجیش رینہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ "میں نے 'دی کشمیر فائلز ' دیکھی، میں دم بخود ہوں۔ یہ ہماری کہانی ہے،کشمیری پنڈتوں کی آپ بیتی۔ میں ہر ایک سے درخواست کرتا ہوں کہ جائیں اور یہ فلم دیکھیں۔ انوپم کھیر نے شاندار اداکاری کی ہے اوروہ فلم میں سب پر حاوی نظر آتے ہیں۔"

ہدایت کار اگنی ہوتری نے خود پر لگائے جانے والے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے فلم میں کشمیری پنڈتوں پر ڈھائے گئے مظالم اور ان کی حالتِ زار کو دکھانے کی ایک مخلصانہ کوشش کی ہے، بھلے ہی یہ کسی پر ناگوار گزرے۔

انہوں نے کہا کہ اس فلم کے لیے 700 سے زائد کشمیری پنڈتوں کے انٹرویو لیے گیے تاکہ 1990 میں اور اس کے بعد کیا ہوا اس کی صحیح معلومات حاصل کرکے حقیقت کو پردے پر لایا جاسکے۔

اگنی ہوتری کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس سچ کو ماضی میں چھپانے کی کوشش کی گئی تھی اگر پہلی بار دنیا کے سامنے لایا جائے تو ایسا کرنے والے پر تنقید تو ہوگی۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG