رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے پر عزم


برطانوی وزیر اعظم برس جانسن۔ فائل فوٹو

برطانوی پارلیمان کی طرف سے علیحدگی میں تاخیر کرنے کے مشورے کے باوجود برطانوی حکومت 31 اکتوبر کو یورپین یونین کو خیر باد کہنے کے عزم پر قائم ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کے روز یورپین یونین سے علیحدگی کا سمجھوتا طے کیا تھا۔ تاہم ہفتے کی شام پارلیمان نے وزیر اعظم کو علیحدگی کی تاریخ میں توسیع کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ پارلیمان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں مزید بحث کی مہلت کیلئے علیحدگی کی حتمی تاریخ 31 جنوری تک مؤخر کر دی جائے۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے پارلیمان کی طرف سے علیحدگی میں تاخیر کی سفارش کا خط بغیر دستخط کیے بریکسٹ کمیٹی کو بھجوا دیا تھا۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور خط اپنے دستخطوں کے ساتھ کمیٹی کو بھجوایا جس میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ پروگرام کے مطابق 31 اکوبر کو ہی یورپین یونین سے علیحدگی اختیار کرے گا۔

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق برطانیہ کے سینئر وزیر مائیکل گروو کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے خط اس لئے کمیٹی کو بھجوایا کیونکہ پارلیمان نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ لیکن پارلیمان وزیر اعظم یا برطانوی حکومت کو مجبور نہیں کر سکتی کہ وہ اپنا فیصلہ تبدیل کرے۔

اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیر اعظم جانسن نے یورپین کونسل کے چیئرمین ڈونلڈ ٹسک کو تین خط روانہ کیے۔ پہلے خط میں انہوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت یورپین یونین سے علیحدگی کے حوالے سے قانون پر عمل درآمد کر رہی ہے۔ دوسرا خط انہوں نے دستخط کیے بنا بھیجا جس میں انہوں نے کہا کہ بین ایکٹ نامی قانون کے تحت وہ یہ خط بھیجنے پر مجبور ہوئے جب کہ تیسرے خط میں بورس جانسن نے لکھا کہ وہ برطانیہ کے یورپین یونین سے علیحدگی کی حتمی تاریخ میں توسیع کے خواہش مند نہیں ہیں۔

تیسرے خط میں انہوں نے مزید لکھا، ’’وزیر اعظم بننے کے بعد میں نے یہ بات واضح کر دی تھی اور آج میں نے پارلیمان میں بھی واضح کر دیا اور حکومت کی پوزیشن کی وضاحت بھی کر دی کہ مزید تاخیر سے برطانیہ اور یورپین یونین کے مفادات کے علاوہ دونوں فریقین کے باہمی تعلقات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ‘‘

برطانیہ میں 2016 میں ہونے والے ایک ریفرنڈم میں 52 فیصد شہریوں نے یورپین یونین سے علیحدگی کے حق میں جب کہ 48 فیصد نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ اُس کے بعد سے ریفرنڈم کے نتائج میں معمولی فرق کے باعث بہت سے حلقے دوبارہ ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔

اُدھر فرانسیسی صدر میکرون نے برطانوی وزیر اعظم جانسن سے کہا ہے کہ ہفتے کی شام برطانوی پارلیمان کی اکثریتی رائے کے تناظر میں وہ بغیر کسی تاخیر کے اپنے حتمی فیصلے سے آگا ہ کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG