رسائی کے لنکس

logo-print

زہریلے مواد کا شکار برطانوی خاتون چل بسیں


سالسبری کا وہ اسپتال جہاں خاتون زیرِ علاج تھیں۔ (فائل فوٹو)

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد 'نووی چوک' نامی اعصابی مواد کا شکار ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں پولیس نے اس خاتون کی ہلاکت کی قتل کے پہلو سے تفتیش شروع کردی ہے جو اسی زہریلے مواد سے متاثر ہوئی تھیں جس کا نشانہ رواں سال مارچ میں ایک سابق روسی جاسوس بنا تھا۔

پولیس کے مطابق چوالیس سالہ ڈان اسٹرگیس اتوار کو برطانیہ کے جنوبی قصبے سالِسبری کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئیں جہاں وہ گزشتہ ایک ہفتے سے زیرِ علاج تھیں۔

اسٹرگیس اور چارلس راؤلی نامی ایک اور برطانوی شہری کو 30 جون کو شدید علالت کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان دونوں کے زہریلے اعصابی مواد سے متاثر ہونے کی تشخیص ہوئی تھی۔

چارلس راؤلی تاحال اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت تاحال تشویش ناک ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد 'نووی چوک' نامی اعصابی مواد کا شکار ہوئے ہیں۔

یہ وہی زہریلا مواد ہے جس سے رواں سال مارچ میں اسی قصبے میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپال اوران کی صاحبزادی جولیا کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ دونوں کئی ہفتوں تک زیرِ علاج رہنے کے بعد صحت یاب ہوگئے تھے۔

برطانیہ نے اسکریپال پر حملے کا الزام روس پر عائد کیا تھا جس کی اس نے تردید کی تھی۔ برطانوی حکام کا کہنا ہےکہ 'نووی چوک' نامی یہ گیس سابق سوویت یونین کے دور میں تیار کی گئی تھی اور یہ روسیوں کی ہی ایجاد ہے۔

اس واقعے کے بعد سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں سفارتی کشیدگی ہے جس میں حالیہ ہلاکت کے بعد مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

پولیس حکام کو شبہ ہے کہ اسٹرگیس اور راؤلی نے ممکنہ طور پر اس بوتل کو چھوا تھا جس میں یہ زہریلا مواد موجود تھا۔

پولیس اب اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ انہیں یہ مبینہ بوتل کب اور کہاں ملی تھی۔

برطانیہ کے وزیرِ داخلہ ساجد جاوید نے ہفتے کو سالِسبری کا دورہ کیا تھا جس کے دوران انہوں نے رہائشیوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ محفوظ ہیں اور زہریلے مواد سے مزید کسی کے متاثر ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG