رسائی کے لنکس

logo-print

تیل کی گرتی ہوئی قیمت عالمی معیشت کے لئے حوصلہ افزا


امریکی محکمہٴ خزانہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ چینی معیشت کی سست روی دنیا بھر کی بازار حصص میںٕ بھوبچال کا سب سے بڑا سبب ہے۔ بقول اُن کے، ’یہ خلاف توقع بھی نہیں، لیکن ظاہر کرتا ہے کہ چین کو برآمدات پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے صارفین کی بنیاد پر معیشت میں تبدیلی کے لئے آگے بڑھنا ہوگا‘

بین الاقوامی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے پوری دنیا میں سال نو کے ابتدائی ہفتوں کے دوران بازار حصص میں بھونچال کا سماں باندھ دیا ہے۔ تاہم، امریکی محکمہٴ خزانہ کے سربراہ، جیک لیو کا کہنا ہے کہ سستے تیل کا فائدہ پوری دنیا کے صارفین کو پہنچ رہا ہے۔

سوئزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں جمعرات کو منعقدہ سالانہ عالمی اقتصادی فورم میں انھوں نے کہا کہ دنیا بھر کی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت 27 ڈالر فی بیرل سے بھی نیجے آگئی ہے۔

اس طرح، صارفین کی جیب میں مزید پیسے بچ رہے ہیں جس سے دیگر ضروری اشیا خرید کر وہ اپنی گھریلو معیشت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ تیل کی کم قیمت عالمی معیشت کے لئے مجموعی طور پر بری نہیں۔

لیو نے کہا کہ چینی معیشت کی سست روی دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میںٕ افراتفری کا سب سے بڑا سبب ہے۔ یہ خلاف توقع بھی نہیں، لیکن ظاہر کرتا ہے کہ چین کو برآمدات پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے صارفین کی بنیاد پر معیشت میں تبدیلی کے لئے آگے بڑھنا ہوگا۔

لیو کا کہنا تھا کہ فوری سوال یہ ہونا چاہئے کہ کیا چین اپنی منڈی کو کھولنے کے لئے اصلاحی پالیسی سے چمٹتا رہے گا؟

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر، کرسٹن لاگارڈ نے کہا کہ چینی کے معاشی منتظمین سے کمزور رابطہ عالمی معیشت کے مستقبل سے متعلق سرمایہ کاروں کی تشویش میں اضافہ کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چینی سکے کی غیر یقینی صورتحال امریکہ کے بعد دنیا کی اس دوسری بڑی معیشت کے بارے میں تشویش پیدا کر رہی ہے۔ چین نے اس ہفتےبتایا تھا کہ گزشتہ برس اس کی معیشت کی شرح نمو 6.9 تھی، جو کہ چوتھائی صدی کی سسست ترین شرح افزائش تھی۔

لاگارڈ نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ چین کی جانب سے بہتر رابطہ عبوری دور کے لئے اچھا ثابت ہوگا۔

چین کی سیکورٹیز کے نائب ناظم، فنگ شنگھائی نے تسلیم کیا کہ بہتر رابطہ کار کے ذریعہ بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ ہمیں تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG