رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا میں سیوریج کا پانی نہروں اور دریاؤں میں ڈالا جا رہا ہے


فائل فوٹو

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ کی پشاور رجسٹری میں کیسز کی سماعت جاری ہے جس میں چیف جسٹس نے خیبرپختونخوا میں پینے کے صاف پانی سےمتعلق از خود نوٹس لے کر خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک کو طلب کر لیا ہے۔

صاف پانی فراہمی کیس میں صوبائی حکومت کی جانب چیف سیکرٹری اعظم خان اور سیکرٹری صحت عدالت میں پیش ہوئے

چیف جسٹس نے اعظم خان سے استفسار کیا کہ صوبے میں سیوریج کا پانی کہاں جا رہا ہے، جس پر چیف سیکرٹری نے کہا کہ وہ نہروں اور دریاؤں میں جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا سیوریج کا پانی دریاؤں میں جانا چاہیے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ سیوریج کا پانی نہروں اور دریاؤں میں نہیں جانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر علی کو بھی بلا لیں کیونکہ وہ 5سال سے یہاں پر حکومت کررہے ہیں۔ ہر طرح کی غلاظت پینے کے پانی میں جا رہی ہے۔ درست کرنے کے لیے ابھی اقدامات کیوں ہو رہے ہیں؟

چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ 1100مقامات پر سیوریج کا پانی نہروں میں جا رہا ہے جس کے لیے ہم انتظامات کر رہے ہیں۔ ہم بہتری کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے پوچھا کہ یہ سارے اقدامات آخر ابھی کیوں ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اب اپ نہ بھی کریں تو ہم یہ کام خود کروا دیں گے۔

دوسری طرف خیبر پختون خوا میں صاف پانی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کررہا ہے، جس کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں افراد پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

صوبے کے سب سے بڑے اسپتال لیڈی ریڈنگ کے شعبہ حادثات اتفاقیہ میں تعینات اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد بلال نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے پیٹ کی بیماریاں مثلاً دست اور قے کے علاوہ ہپاٹائٹس پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال کی ایمرجینسی میں روزانہ دو ہزار کے قریب مریض آتے ہیں جن میں تقریباً 500 مریض پیٹ کی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG