رسائی کے لنکس

بھارت اور چین میں متنازع علاقے سے فوج کی واپسی کا معاہدہ کیسے ہوا؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں نو ماہ سے جاری سرحدی تنازع کو حل کرنے کے مقصد سے معاہدے کے تحت دونوں ممالک کی فوجیں اپنی پوزیشن سے واپسی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس عمل میں کئی ماہ لگ جائیں گے۔

مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تنازع کے باقی رہنے سے دونوں ممالک کا نقصان ہو رہا تھا اور ایک طرح سے ان پر اندرونی دباؤ بھی تھا جس کی وجہ سے فوجی اور سفارتی سطح پر کیے جانے والے مذاکرات کی مدد سے اسے حل کیا گیا۔

تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان نو ماہ کے دوران بھارت کا زیادہ نقصان ہوا اور سمجھوتے میں بھی اس کی کمزوری نظر آئی۔

بھارت کا علاقہ چین کے حوالے، راہول گاندھی کا الزام

بھارت میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھارت کا علاقہ چین کے حوالے کر دیا۔

انہوں نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ نریندر مودی نے چین کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔ اسٹریٹجک اہمیت والے جن علاقوں پر چین قابض ہے اس کے بارے میں وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیلاش رینج سے فوج کو پیچھے ہٹنے کو کیوں کہا گیا۔ وزیرِ اعظم نے فنگر تھری سے فنگر فور تک کی زمین چین کو دے دی۔

انہوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بزدل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوج کی قربانی سے دھوکہ کر رہے ہیں۔

'یہ کہنا درست نہیں ہے کہ بھارتی علاقہ فنگر فور تک ہے'

راہول گاندھی کے بیان پر وزارتِ دفاع سے وضاحت پیش کی گئی اور کہا گیا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ بھارت کا علاقہ فنگر فور تک ہے۔ بھارت کے نقشے میں اس علاقے کو بھی بھارت کا علاقہ دکھایا جاتا ہے جو چین کے قبضے میں ہے اور تقریباً 43ہزار مربع کلومیٹر ہے۔

بھارت میں چین مخالف مظاہرے

سرحدی جھڑپ کے بعد بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جہاں تنقید کا سامنا ہے وہیں اس کے حمایتی چین کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔ نئی دہلی میں ہونے والے مظاہرے میں بی جے پی کے سیکڑوں کارکن شریک ہیں۔<br />
&nbsp;
1/8 سرحدی جھڑپ کے بعد بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جہاں تنقید کا سامنا ہے وہیں اس کے حمایتی چین کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کر رہے ہیں۔ نئی دہلی میں ہونے والے مظاہرے میں بی جے پی کے سیکڑوں کارکن شریک ہیں۔
 
بھارت میں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ردعمل پر تنقید کر رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے کارکن بھی احتجاجی مظاہروں میں بھارتی وزیر اعظم کے اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
2/8 بھارت میں اپوزیشن جماعتیں حکومت کے ردعمل پر تنقید کر رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے کارکن بھی احتجاجی مظاہروں میں بھارتی وزیر اعظم کے اقدامات کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
چین کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں اُن کے آبائی علاقوں میں پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
3/8 چین کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں اُن کے آبائی علاقوں میں پہنچانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں گزشتہ ماہ سے ہی کشیدگی جاری ہے۔ گزشتہ ماہ بھی دو واقعات میں دونوں اطراف کے فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد علاقے میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ ہو گیا تھا۔
4/8 بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں گزشتہ ماہ سے ہی کشیدگی جاری ہے۔ گزشتہ ماہ بھی دو واقعات میں دونوں اطراف کے فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد علاقے میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ ہو گیا تھا۔
بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
5/8 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ لیکن حالیہ تنازع میں شدت کی وجہ بھارت کی جانب سے اس علاقے میں سٹرک کی تعمیر کو قرار دیا جا رہا ہے جس پر چین کو اعتراض ہے۔<br />
<br />
&nbsp;
6/8 بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ لیکن حالیہ تنازع میں شدت کی وجہ بھارت کی جانب سے اس علاقے میں سٹرک کی تعمیر کو قرار دیا جا رہا ہے جس پر چین کو اعتراض ہے۔

 
حالیہ کشیدگی اور فوج کی نقل و حرکت میں اضافے کے باوجود دونوں ملکوں کے حکام نے کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
7/8 حالیہ کشیدگی اور فوج کی نقل و حرکت میں اضافے کے باوجود دونوں ملکوں کے حکام نے کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
بھارت کی حکومت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی جس کے بعد لداخ کو بھی یونین کا حصہ بنا لیا گیا تھا۔
8/8 بھارت کی حکومت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کر دی تھی جس کے بعد لداخ کو بھی یونین کا حصہ بنا لیا گیا تھا۔
Previous slide
Next slide

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ بھارت کے مطابق لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) فنگر ایٹ تک ہے نہ کہ فنگر فور تک۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت فنگر ایٹ تک گشت کرنے کے مطالبے کا اعادہ کرتا رہا ہے۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ ہاٹ اسپرنگ گوگرا اور دیپسانگ وادی میں جو بھی تنازع ہے اسے حل کر لیا جائے گا۔ پینگونگ سے فوجیوں کی واپسی کے 48 گھنٹے بعد ان علاقوں کی پہلے کی پوزیشن بحال کرنے پر بات کی جائے گی۔

'فوج کی واپسی کے لیے دونوں ممالک پر اندرونی دباؤ تھا'

ادھر نئی دہلی کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پینگونگ جھیل کے اطراف سے فوجیوں کی واپسی کا معاہدہ ایک اہم کامیابی ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس کا سہرا اپنے سر باندھنے سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سرحدی کشیدگی کے دوران گلوان وادی میں خونی جھڑپ اور متعدد ہلکی پھلکی جھڑپوں کے باوجود یہ معاہدہ کیسے ہوا اس سوال پر سینئر دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کہتے ہیں کہ ایک طرح سے دونوں ملکوں پر اندرونی دباؤ تھا۔

ان کے مطابق اس کے علاوہ چین کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ بھارت کی زمینوں پر اس کے قبضے پر بھارت کی جانب سے اتنا شدید ردِ عمل ظاہر کیا جائے گا۔

اجے شکلا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بھارت نے فوجی، اقتصادی اور سفارتی اقدامات اٹھائے جس کا چین پر اثر پڑا۔ اس کے علاوہ چار ممالک کے درمیان عسکری اتحاد کو بھی متحرک کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں چین کی سمجھ میں یہ بات آئی ہو گی کہ بھارت نے جو ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ وہ اس کی توقع سے بہت زیادہ ہے۔ یہ بات چین کے مفاد میں نہیں تھی۔ اس لیے چین اسے حل کرنا چاہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کمانڈر سطح کے مذاکرات میں یہ معاہدہ ہوا۔

لداخ تنازع: بھارتی کشمیر میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:42 0:00

'ابھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ معاملہ مکمل حل ہو گیا ہے'

سابق ایئر چیف مارشل کپل کاک کا کہنا ہے کہ 16 جون کی خونی جھڑپ کے بعد 29 اگست کی رات میں بھارتی فوجیوں نے اپنے علاقے کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا جہاں سے پورے علاقے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ یہاں تک کہ پینگونگ جھیل کے اطراف میں چینی جوان بھی ان کی نظروں میں آ گئے۔

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ معاملہ مکمل طور پر حل ہو گیا ہے۔ ابھی اس میں وقت لگے گا اور خود وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ابھی کئی تصفیہ طلب معاملے ہیں جن کو حل کرنا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا اس معاہدے میں بھارت کو اپنی سابقہ پوزیشن سے ہٹنا پڑا ہے؟ اجے شکلا کہتے ہیں کہ ہاں بھارت کو ہٹنا پڑا ہے اور یہ بات اس کے مفاد میں نہیں ہے۔

ان کے مطابق پینگونگ سو جھیل کے جنوبی علاقے میں بھارتی فوج نے اچھی پوزیشنوں پر قبضہ کر رکھا تھا جس سے اس کو کافی فائدہ تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب بھی کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو دونوں جانب سے کچھ نہ کچھ ترک کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا بھارت اور چین دونوں نے کچھ نہ کچھ چھوڑا ہے۔

اجے شکلا کے مطابق اس تنازع کے دوران بھارت کو اقتصادی اور فوجی نقصان ہوا ہے۔ بھارتی فوج کے دو ڈویژن پورے موسم سرما میں لداخ کے کیلاش رینج میں تعینات رہے۔ اس پر کافی اخراجات ہوئے۔ اس طرح کافی نقصان ہوتا ہے اور جانی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔

'بھارت کا زیادہ نقصان ہوا'

کپل کاک اجے شکلا کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دوران دونوں ملکوں کا نقصان ہوا ہے لیکن بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ کیوں کہ بھارت ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ اس کی معیشت چین کے مقابلے میں چھوٹی ہے اور بھارت کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہے کہ وہ چین جیسے ملک کا مقابلہ کر سکے۔

'بھارت چین تنازع جلد ختم ہونے کا امکان نہیں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:59 0:00

انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے بجٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ ہمیں چین سے مقابلہ کرنے کے لیے 30 ہزار کروڑ کا ساز و سامان لانا پڑا۔

ان کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کے مفاد میں نہیں ہے۔ اسے فنگر فور سے، جہاں وہ پہلے قابض تھا، واپس نہیں آنا چاہیے تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت یہ کہتا رہا ہے کہ تمام متنازع علاقوں سے فوجیوں کی واپسی ہو گی لیکن معاہدے میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی بھارت کی کمزوری ہے کہ فوجوں کی واپسی کے بارے میں چین کے بیان کے ایک روز بعد بھارت نے بیان دیا۔ حالاں کہ اس سلسلے میں ایک مشترکہ بیان جاری ہونا چاہیے تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ کیسے ہوا اس سلسلے میں چین کی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔ بدھ کو چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے ایک بیان میں فوجیوں کی واپسی کی اطلاع دی تھی۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

This item is part of

یہ بھی پڑھیے

XS
SM
MD
LG