رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں غیر ملکی طلبا کی نصف تعداد چینی اور بھارتیوں کی ہے


امریکہ میں چینی طلبا کا ایک گروپ ٹیلی وژن پر امریکی صدارتی انتخابات دیکھ رہا ہے۔

بھارت اور چین کے طلبا کی تعداد امریکہ میں آنے والے تمام غیر ملکی طلبا کی تعداد کا تقریباً نصف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ان دونوں ممالک میں ہونے والی ترقی سے پیدا شدہ دولت ہے۔

بین الاقوامی اساتذہ کی ایسوسی ایشن NAFSA میں پبلک پالیسی اور قانون سازی کی اسٹریٹجی کی سینئیر ڈائریکٹر ریشل بینکس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس تناسب کی بڑی وجوہات خارجی آبادی کا تناسب، جیو پالیٹیکل اور معاشی عوامل ہیں۔ اس کی وجوہات میں یہ شامل ہے کہ کون امریکہ میں تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے کیوں کہ بین الاقوامی طلبا کو وفاقی امداد نہیں ملتی۔‘‘

1970 کی دہائی سے بین الاقوامی تجارت کے کھلنے کے بعد سے چین کی معیشت نے کافی ترقی کی ہے اور اب یہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکی ہے۔ چین میں ایک بڑی تعداد میں درمیانہ طبقہ موجود ہے جس کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے اور یہ بیرون ملک تعلیم کے اخراجات بھی برداشت کر سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا سین ڈیاگو میں معیشت کے اسسٹنٹ پروفیسر گورَو کھنا کے مطابق ’’چین میں صنعتی ترقی کی وجہ سے لوگوں کی آمدنیوں میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ وہ اب امریکہ آنے کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔‘‘

اکیسویں صدی کے آغاز سے چینی اور بھارتی طلبا کے داخلوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ سال 2000 میں امریکہ میں 60 ہزار کے لگ بھگ چینی اور 55 ہزار بھارتی طلبا تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس سال جاپان اور جنوبی کوریائی طلبا کی تعداد بھی اس تعداد کے قریب ہی تھی۔

لیکن 2010 میں امریکہ میں چینی طلبا کے داخلوں کی تعداد بڑھ کر 1 لاکھ 58 ہزار جب کہ بھارتی طلبا کے داخلوں کی تعداد 1 لاکھ 4 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔ یہ تعداد جنوبی کوریا کے طلبا کی 73 ہزار کی تعداد سے کہیں زیادہ تھی

نیویارک میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے مطابق 2020 میں کرونا وائرس کی وجہ سے بڑی تعداد میں داخلوں میں کمی سے پہلے امریکہ میں چینی طلبا کی تعداد 3 لاکھ 72 ہزار اور بھارتی طلبا کی تعداد 1 لاکھ 93 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ یہ امریکہ میں بین الاقوامی طلبا کی کل تعداد یعنی 10 لاکھ 75 ہزار 4 سو 96 کی 34 فیصد (چینی طلبا) اور 18 فیصد (بھارتی طلبا) تھی۔ اس دوران جنوبی کوریائی طلبا کی تعداد کم ہو کر 50 ہزار رہ گئی ہے جو کل بین الاقوامی طلبا کا محض 4.6 فیصد بنتا ہے۔

انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس اکثر امریکی یونیورسٹیوں میں موجود ہیں۔
انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس اکثر امریکی یونیورسٹیوں میں موجود ہیں۔

گورَو کھنا کے مطابق ’’ماضی قریب میں چین میں صف دوم کے کالج موجود نہیں تھے۔ ایسے میں جو طلبا چین کے صف اؤل کے کالجوں میں داخلہ نہ لے پاتے وہ کہتے کہ باہر چل کر پڑھنا چاہئے۔‘‘

حال ہی میں واشنگٹن کی امیرکن یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والی چینی طالبہ بیلا ڈو گورَو کھنا کی بات سے اتفاق کرتی ہیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ’’بہت سے چینی طلبا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ میں اعلیٰ سطح کی یونیورسٹیاں اور ان کے لیے وسائل موجود ہیں۔‘‘

بیرون ملک سے آنے والے طلبا اپنے ساتھ اربوں ڈالر کی آمدن بھی ملک میں لاتے ہیں۔ 2018-19 میں بیرون ملک سے آنے والے طلبا کی وجہ سے ملک میں 41 ارب ڈالر کا سرمایہ ان علاقوں میں آیا جہاں یہ طالب علم عموماً زیادہ تعداد میں جاتے ہیں جیسے کیلی فورنیا، نیویارک، نیو انگلینڈ (میسا چوسٹس اور رہوڈ آئی لینڈ) وسط مغربی ریاستوں کے اوپر کا خطہ (الی نوئے، وسکانسن، مشی گن) ٹیکساس، واشنگٹن ڈی سی اور واشنگٹن سٹیٹ۔

ان بین الاقوامی طلبا میں سے 77 فیصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجنئیرنگ حساب (ایس ٹی ای ایم) اور صحت سے متعلق شعبوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

جارج میسن یونیورسٹی ورجینیا سے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے والے بھارتی طالب علم ارون کرشنا وجالا کا کہنا ہے کہ ’’سائنس، ٹیکنالوجی، انجنئیرنگ، حساب اور طبی ریسرچ کے تعلیمی شعبوں میں امریکہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک سے آگے ہے۔ ان شعبوں سے متعلق ملازمتیں خصوصاً بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کی وجہ سے ملتی ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں امریکہ میں موجود ہیں اور تقریباً ہمیشہ ان کے لیے امریکی تعلیمی اداروں کی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘

سٹین فورڈ یونیورسٹی کیمپس کا ایک منظر
سٹین فورڈ یونیورسٹی کیمپس کا ایک منظر

اس کے علاوہ بہت سے چینی اور بھارتی طلبا امیگریشن کے حصول کے لیے تعلیم کا راستہ اپناتے ہیں۔

گورَو کھنا کے بقول ’’بہت سے بھارتی طلبا امریکی تعلیمی نظام کا سہارا لے کر امریکی ملازمتوں کی منڈی تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ عام طور پر اگر آپ یہاں آئے ہیں اور آپ نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی ہے تو کیمپس میں ہی آپ کو امریکہ میں ملازمت مل جائے گی۔‘‘

امریکی امیگریشن کونسل کے مطابق اگرچہ امریکہ میں H1-B ویزا غیر ملکی ورکرز کے لیے ہوتا ہے لیکن اس کا ملنا آسان نہیں ہے۔ پچھلے برس 65 ہزار افراد کو یہ ویزا مل سکا تھا جب کہ اضافی طور پر 20 ہزار ایسے غیر ملکی افراد کو یہ ویزا ملا جنہوں نے امریکی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری کر رکھی تھی۔

امریکہ میں H1-B ویزا کے بغیر ایسے افراد رہ نہیں سکتے جن کا آپریشنل پریکٹیکل ٹریننگ (او پی ٹی) کے ویزے کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔ او پی ٹی ایسا ویزا ہے جس کے ذریعے گریجویشن کے تین سال بعد تک امریکہ میں قیام کیا جا سکتا ہے۔

بیلا ڈو کے بقول ’’امریکہ میں بین الاقوامی طلبا کو میرے خیال میں گرین کارڈ کے بغیر ملازمت حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ میرے خیال میں اس کا تعلق وسائل اور مواقعوں پر ہے۔ اگر مجھے یہاں ملازمت مل گئی تو میں یہاں قیام جاری رکھوں گی ورنہ چین واپس چلی جاؤں گی۔‘‘

ان کی بات سے ارون کرشنا وجالا بھی اتفاق کرتے ہیں۔

بقول ان کے ’’بہت سے تارکین وطن اس مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں۔ گرین کارڈ ملنے میں عشرے لگ جاتے ہیں اور اب حکومت کی جانب سے قانونی اور غیر قانونی تارکین وطن کی تکرار کی وجہ سے بہت سے ایسے تارکین وطن جنہوں نے یہاں ساری زندگی گزاری ہوتی ہے، اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو جاتے ہیں۔‘‘

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے زیادہ چینی طلبا کو داخلے دینے کے بیچھے انہیں امریکی جمہوریت سے آشنا کرنا ہے۔

سابق سفارت کار ولیم اے رو نے اگست 2020 کو امریکن ڈپلومیسی میں لکھا کہ ’’چینی اور روسی طلبا جب یہاں آتے ہیں تو وہ امریکی جمہوریت اور اس کے سماج کے کئی دوسرے پہلوؤں کے بارے میں معلومات اپنے ساتھ گھر واپس لے جاتے ہیں۔‘‘

ولیم اے رو کا، جنہوں نے امریکی محکمہ خارجہ میں 1964 سے لے کر 1995 تک خدمات سرانجام دی ہیں، کہنا ہے کہ ’’ہماری ثقافتی طاقت سے آشنائی ان کے ذہنوں میں امریکیوں سے متعلق کسی بھی منفی خیال سے کہیں زیادہ موثر ہے۔‘‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں چینی طلبا کے امریکہ میں داخلے کی وجہ سے خصوصاً ٹیکنالوجی اور طبی ریسرچ کے شعبوں میں جاسوسی اور امریکی انٹلیکچوئیل پراپرٹی میں چوری کا خدشہ رہتا ہے۔

پچھلے برس جون میں امریکی سینیٹ میں سیف گارڈنگ امیریکن انوویشن ایکٹ متعارف کروایا گیا تھا۔ اس قانون کے تحت چین سمیت مسابقتی ممالک کو امریکی کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں پیدا کردہ انٹلیکچوئیل پراپرٹی کو چرانے سے روکنے کے لیے اقدامات کی سفارش کی گئی تھی۔ ان میں امریکی ویزوں کے اجرا اور وفاقی ریسرچ گرانٹس کی اضافی جانچ پڑتال لازمی قرار دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG