رسائی کے لنکس

logo-print

قاہرہ: دہشت گردی کے شکار سات قبطی مسیحیوں کی تدفین


جمعے کے روز منی بس پر دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے سات مسیحی افراد کی ہفتے کو تدفین کی رسومات میں سیکڑوں لوگ اکٹھے ہوئے۔ یہ حملہ مصر کے جنوبی شہر منیہ میں سینٹ سیموئل کی عبادتگاہ کے باہر ہوا تھا۔

تابوت میں بند میتوں کو 'پرنس تدروس چرچ' کی جانب لے جانے کے لیے جب منیہ کی گلیوں سے گزارا گیا تو سوگوار اہل خانہ نوحہ کناں تھے۔ فوت ہونے والوں کو چرچ میں منعقدہ تقریب میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے گئے۔

گرجا گھر کے اندر قبطی مسیحیوں نے بخشش اور امید کے بارے میں کلمات کہے جب کہ اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی جدائی پر اپنے غم کا اظہار کیا۔ سفید کپڑوں میں لپٹی ہوئی میتیں چرچ کے سامنے رکھی گئی تھیں۔

مصر کی قبطی مسیحی برادری کے سربراہ، پوپ توادروس نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ حملے کا مقصد ہمیں منقسم کرنے کی ایک سازش ہے، جس کا بہترین توڑ یہ ہے کہ ہم جوابی الزام میں نہ الجھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ بات سب پر عیاں ہے کہ حملے کا مقصد محض مسیحیوں کو ہلاک کرنا نہیں تھا، بلکہ بحیثیت مجموعی مصر کے معاشرے کے اتحاد اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا تھا۔

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی نے پوپ تواندروس سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے اظہار تعزیت کیا اور مصر کی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے ضروری معاوضہ ادا کرنے سے اتفاق کیا۔

حملے میں زخمی ہونے والوں کو قاہرہ منتقل کیا گیا ہے جہاں اُنھیں سرکاری تنصیبات میں علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ قبطی پادری، فادر بشارہ فہمی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہلاک شدگان زیادہ تر مرد تھے۔

اُنھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے مِنی وین کا پیچھا کیا، اور موقع ملنے پر اُس کی کھڑکیوں پر فائر کیا۔ پھر وہ اندر داخل ہوئے، اور شواہد کے مطابق، تمام مردوں کے سروں کو نشانہ بنایا، جب کہ خواتین کی ٹانگوں پر گولیاں چلائیں۔

اطلاعات کے مطابق، داعش کے دہشت گرد گروپ نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے؛ حالانکہ مصر کے تجزیہ کاروں نے اس دعوے کو مشکوک قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ زیادہ تر دہشت گردوں کا تعلق ہمسایہ لیبیا سے ہے، جہاں مختلف غیر ملکی حکومتیں اُن کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG