رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر میں جھڑپ: تین عسکریت پسند اور ایک خاتون ہلاک


ہلاک ہونے والے تینوں نوجوانوں کا تعلق حزب المجاہدین سے بتایا جا رہا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جھڑپ میں تین مشتبہ عسکریت پسند اور ایک خاتون شہری ہلاک جب کہ سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کا ایک افسر راہول کمار زخمی ہو گیا۔

بھارتی کنٹرول کے کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں جمعرات کی صبح ایک جھڑپ میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

اس جھڑپ میں اُس مکان کو شدید نقصان پہنچا جہاں مبینہ عسکریت پسند موجود تھے۔ ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کی شناخت ذاکر احمد پال، عبیر مشتاق بٹ اور عادل حسین بٹ کے نام سے ہوئی۔

پولیس اور حزب المجاہدین دونوں نے تصدیق کی ہے کہ ان تینوں کا تعلق عسکری تنظیم سے تھا اور یہ مقامی کشمیری تھے۔

سیکیورٹی اہلکاروں پر گاڑی پر فائرنگ کا الزام

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والی 45 سالہ کوثر ریاض عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی فائرنگ کی زد میں آ گئی تھیں۔

ہلاک ہونے والی خاتون کے بیٹے صوفی اقبال نے پولیس سربراہ کے بیان کو رد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اُن کی والدہ پر سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی۔ ان کی موت سر میں گولی لگنے سے ہوئی۔

صوفی اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اور اُن کی والدہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے کو گھیرے میں لینے کے دوران کار میں سوار ہو کر کسی محفوظ مقام پر جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سیکیورٹی فورسز نے کار پر پیچھے سے فائرنگ کی۔

پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

جھڑپ میں خاتون اور عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے خلاف علاقے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر آ کر احتجاجی مظاہرے کیے۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

پولیس نے پتھراوٴ کرنے والے ہجوم پر آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔

ایک سال میں 72 آپریشن، 188 عسکریت پسند ہلاک

پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جموں و کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف اس سال اب تک 72 آپریشنز کیے ہیں جن میں 22 غیر ملکیوں سمیت 188 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ 22 دہشت گرد پاکستانی شہری تھے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کشمیر میں جاری دہشت گردی اور تشدد میں براہِ راست ملوث ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس عرصے کے دوران جھڑپوں اور عسکریت پسندوں کے حملوں میں 46 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے۔ جب کہ 20 شہری بھی لقمہٴ اجل بنے۔

پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت پر احتجاج

سرینگر میں ایک مقامی نوجوان کی پولیس حراست کے دوران ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج کئی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں جمعرات کو دوسرے دن بھی معطل رہیں۔

ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار وجے کمار نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 23 سالہ عرفان احمد ڈار ایک عسکری تنظیم کا گراوٴنڈ ورکر یا معاون تھا۔ جو پولیس کی حراست سے بھاگ گیا تھا اور اس دوران غالباً ایک بڑے پتھر سے ٹکرا کر زخمی ہوا اور پھر حرکتِ قلب بند ہونے سے اس کی موت ہو گئی۔

نوجوان کے گھر والوں نے اس بیان کو پولیس کی گھڑی گئی جھوٹی کہانی قرار دیا ہے۔ نوجوان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ عرفان احمد ڈار کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھا۔ اُسے پولیس نے حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے جھوٹ کو چھپانے کے لیے کرونا وائرس کا بہانہ بنا کر نوجوان کی لاش لواحقین کے سپرد کرنے کی بجائے اسے آبائی علاقے سے 125 کلو میٹر دور سونہ مرگ میں دفن کر دیا۔ جب کہ وہ اُسے آبائی قبرستان میں اپنے والد کی، جن کا انتقال ایک ماہ قبل ہوا تھا، قبر کے قریب سپردِ خاک کرنا چاہتے تھے۔

نوجوان کی ہلاکت کی تحقیقات

انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے اس سلسلے میں صحافیوں کے استفسار پر بتایا کہ نوجوان کی ہلاکت پر مجسٹریٹ کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG