رسائی کے لنکس

امریکہ کی ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی کے مضمرات

  • بہجت جیلانی

وائٹ ہاؤس خطاب

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی ایک سیاسی جہت بھی ہے، جو یورپ میں عموماً اور عالمی سطح پر خصوصاً امریکہ کے قائدانہ رول کو متاثر کریگی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس ماحولیاتی سمجھوتے سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا جس پر نہ صرف امریکہ میں بلکہ دنیا بھر میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

معروف تجزیہ کار عادل نجم کا کہنا ہے کہ انکے خیال میں اس اعلان کے نتیجے میں ماحولیاتی پالیسی پر کوئی بڑا اثر مرتب ہونے کا امکان نہیں، کیونکہ مختلف ریاستیں اور مختلف شہروں میں ماحول کے بارے میں اپنی ترجیحات پر کام کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ، بڑے بڑے امریکی کاروباری ادارے شفاف توانائی کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جن میں ایپل، گوگل اور مائکرو سوفٹ جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس معاہدے کی ایک سیاسی جہت بھی ہے، جو یورپ میں عموماً اور عالمی سطح پر خصوصاً امریکہ کے قائدانہ رول کو متاثر کریگی۔

تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کا وعدہ پورا کر دیا جس میں وہ امریکہ اور امریکی عوام کو اولیت دینا اپنی ترجیح بتاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اب چین اس حوالے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے شمسی توانائی کے بڑے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنئیے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG