رسائی کے لنکس

logo-print

لاک ڈاؤن سے کاربن گیسوں کے اخراج میں تاریخی کمی


کرونا وائرس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقل و حرکت محدود ہونے سے ماحول کی آلودگی میں نمایاں طور پر کمی دیکھی جا رہی ہے۔ لیکن دوسری جانب آب و ہوا سے متعلق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ سے کرہ ارض کو جس قدر نقصان پہنچ چکا ہے، اس کا ازالہ صرف کرونا وائرس کا لاک ڈاؤن نہیں کر سکتا۔ انسان کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔

کرہ ارض میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن سے کمی ہو ئی ہے۔ کاربن گیسوں کے اخراج پر نظر رکھنے والے ایک برطانوی ادارے 'کاربن بریف' کے ایک حالیہ تجزے میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کسی ایک سال کے دوران کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تاریخ کی سب سے زیادہ 2000 میڑک ٹن کی کمی ہوئی ہے جو 2019 میں کاربن کے کل اخراج کے ساڑھے پانچ فی صد کے برابر ہے۔ کرونا وائرس سے قبل اس سال کاربن گیسوں میں کم از کم ایک فی صد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

سن 2015 میں گلوبل وارمنگ پر پیرس میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے ڈیڑھ فی صد زیادہ پر واپس لایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ معیار حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک عشرے تک کاربن گیسوں کے اخراج میں ہر سال 7 اعشاریہ 6 فی صد کمی کی جائے۔

کاربن بریف کا کہنا ہے کہ چین میں لاک ڈاؤن کے دوران ایک موقع پر کاربن گیسوں کے اخراج میں 25 فی صد تک کمی ہوئی۔ اب جب کہ بھارت میں لاک ڈاؤن جاری ہے، ماہرین کا اندازہ ہے کہ وہاں کاربن گیسوں کا اخراج 30 فی صد تک گر جائے گا۔

مگر یہ صورت حال زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہے گی اور اب جیسا کہ مختلف ممالک یہ عندیہ دے رہے ہیں کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کرنے والے ہیں، ایک یا دو مہینوں کے بعد کاربن کے اخراج میں یکایک نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔

ایک بائیو کیمسٹ اور کاربن بریف کے ڈپٹی ایڈیٹر سائمن ایونز کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال کرہ ارض میں کاربن گیسوں کو پیرس معاہدے کی شرط ایک اعشاریہ پانچ فی صد پر لانے کے ایک تکلیف دہ ماڈل کے طور پر پیش کرتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ یہ ایک عارضی وقفہ ہے، جیسے ہی انسانی سرگرمیاں بحال ہوں گی، ہم اسی سطح پر واپس چلے جائیں گے۔

سائنس دانوں نے سن 2050 تک عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے قبل کے درجہ حرارت سے ڈیڑھ درجے زیادہ پر واپس لانے کے لیے درجنوں ماڈل پیش کیے ہیں۔ ان میں ہر ایک کے اپنے فائدے اور نقصانات ہیں۔ لیکن آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق بین الالحکومتی پینل نے 2018 کی اپنی خصوصی رپورٹ میں اس بارے میں ایک غیر واضح تصویر پیش کی تھی، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ ہو بھی سکے گا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ کاربن گیسوں پر کنٹرول کے لیے ہمیں معدنی توانائی پر اپنا انحصار مکمل طور پر ختم کرکے اپنے تمام شعبے بجلی پر منتقل کرنا ہوں گے۔ لیکن ہماری ٹیکنالوجی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر، ہم اپنے تمام شعبے کلی طور پر بجلی پر منتقل نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر ہم فی الحال بجلی سے طیارے نہیں اڑا سکتے۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ بجلی سے چلنے والے طیاروں کی ٹیکنالوجی کب تک ایجاد ہو سکے گی۔

لاک ڈاؤن کی پابندیاں لمبے عرصے تک برقرار نہیں رکھی جا سکتیں، کیونکہ اس سے بے روزگاری، معیشت اور صحت کے ایسے مسائل پیدا ہو جائیں گے جن پر قابو پانا آسان نہیں ہو گا۔ کوئی بھی حکومت لمبے عرصے تک لوگوں کو گھر بٹھا کر وسائل مہیا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

جب بھی عالمی وبا کا زور کم پڑے گا، پابندیاں نرم ہونا شروع ہو جائیں گی اور اس کے بعد معاشی سرگرمیوں کی رفتار پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تیز ہو جائے گی۔ اور پھر فضا میں کاربن گیسوں کی سطح وہیں پہنچ جائے گی جس پر ماہرین اپنے خدشات ظاہر کرتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG