رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: امریکہ میں اسکول کھولنے کی تیاریاں


امریکہ میں صدر ٹرمپ زور دے رہے ہیں کہ تمام تعلیمی ادارے ستمبر میں فال سیمسٹر کے لئے کھول دئیے جائیں۔

اس بارے میں کوئی فیصلہ ایسے وقت کیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ اموات ایک لاکھ بتیس ہزار کے قریب ہیں۔

please wait

No media source currently available

0:00 0:09:12 0:00

آمنہ خان کے دو بچے سکول میں پڑھتے ہیں۔ بیٹی چھٹی جماعت میں اور بیٹا آٹھویں گریڈ میں ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ سکول بچوں کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بچے خود بھی سکول جانا چاہتے ہیں مگر ایسے میں جب کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں ان کیلئے اس بارے میں فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ سکول والوں نے فیصلہ کرنے کیلئے انہیں آئندہ ہفتے تک کا وقت دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جولائی میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے جس کی جنوری تک پابندی کرنا ہو گی اور اسکول ستمبر میں کھلیں گے۔

امریکی ٹیلیویژن پر ایک نیوز بریفنگ میں وزیرِ تعلیم بیٹسی ڈیوس نے کہا کہ اسکول کھولنا اب ضروری ہو گیا ہے اور زیرِ غور یہ نہیں کہ آیا سکول کھولے جائیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیسے کھولے جائیں؟

اسی دوران امریکہ میں سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ڈئیریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے کہا کہ ہمارا مقصد امریکہ میں سب کو محفوظ رکھنا ہے اور ہماری ہدایات کو اسکول کھولنے کی راہ میں رکاوٹ تصور نہیں کیا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ بچے کرونا وائرس سے زیادہ متاثر نہیں ہو رہے مگر وہ یہ وائرس دیگر لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں اس لئے جن لوگوں کو اس وائرس سے بے حد خطرہ ہے ان کو محفوظ رکھنا ہماری ترجیح ہے۔

اسی دوران، نائب صدر مائیک پنس نے کہا کہ اسکول کھولنے کیلئے ہمیں سی ڈی سی کی ہدایات مانع نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ اس کے بجائے ہم مختلف ریاستوں کے عہدیداروں سے بات کریں گے کہ وہ کیسے اپنے تعلیمی ادارے کھول سکتے ہیں۔

البتہ، انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں کے حکام سے ہم رابطے میں رہیں گے اور اگر کچھ اسکول ڈسٹرکٹس کی کوئی مجبوری ہے تو ہم اس کا احترام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ڈی سی آئندہ ہفتے نئی ہدایات جاری کرے گا۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے بھی سی ڈی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور نائب صدر پنس کا کہنا تھا کہ صدر نہیں چاہتے کہ یہ ہدایات بہت سخت ہوں۔

بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں دھمکی دی تھی کہ اگر کسی ریاست نے اسکول کھولنے سے انکار کیا تو اس کے فنڈز روک لئے جائیں گے۔ نائب صدر مائیک پنس نے کہا کہ صدر کا مقصد اس بات پر زور دینا ہے کہ اسکول کھولنا بچوں کے لئے ضروری ہے۔ وفاقی حکومت اسکول سسٹم پر سالانہ تیرہ اعشاریہ تین ارب ڈالر خرچ کرتی ہے اور اسکول کھولنا نہ صرف بچوں کیلئے ضروری ہے بلکہ ملکی معیشت کے چلتے رہنے کیلئے بھی ضروری ہے۔

اسی نیوز بریفنگ میں کرونا وائرس کیلئے وائٹ ہاؤس کی ریسپانس کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ڈیبرابرکس نے کہا کہ والدین نے اب تک بچوں کو بہت محفوظ رکھا ہے مگر ان کے زیادہ ٹیسٹ نہیں کئے گئے اس لئے بچوں میں اموات کی شرح کا بھی ابھی علم نہیں۔ مگر بچوں کے لعاب کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے جو آسان بھی ہے اور بچے گھبرائیں گے بھی نہیں۔

نیویارک میں کارڈیالوجسٹ اور ارجنٹ کئیر پرووائیڈر ڈاکٹر اعجاز احمد کہتے ہیں کہ بچوں کے ٹیسٹ نہیں ہو رہے کیونکہ یہ سی ڈی سی کی ہدایات میں موجود نہیں۔

لیکن امریکی ریاست ورجینیا میں پرائمری سکول کی ٹیچر بشریٰ کہتی ہیں کہ وہ اس خیال سے ہی گھبرا رہی ہیں کہ اسکول میں بچوں کو ایک دوسرے سے فاصلے پر کیسے رکھا جاسکے گا۔ اور اگر ٹیچر کی توجہ بچے کا ماسک ٹھیک کرنے اور فاصلہ رکھنے پر رہے گی تو پڑھائی کیسے ہو گی۔

بشریٰ کہتی ہیں کہ یہ تو سب ہی چاہتے ہیں کہ سکول کھل جائیں مگر ابھی شاید اس کا وقت نہیں آیا۔ تاہم وہ کہتی ہیں کہ ورجینیا میں گورنر اور دیگر حکام ٹاؤن ہال میٹنگ کر رہے ہیں اور اسکول محفوظ طریقے سے کھولنے کی تجاویز پر غور کر رہے ہیں اور جلد ہی کوئی فیصلہ ہو جائے گا۔

ڈاکٹر ظفر بخاری ریاست الی نوئے کی شکاگو سٹیٹ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یونیورسٹیاں کھولنے کا فیصلہ کسی ایک اتھارٹی کے حکم پر نہیں کیا جائے گا نہ ملک کے صدر اور نہ ہی صرف یونیورسٹی کے صدر کے کہنے پر۔ بلکہ پورا ایک بورڈ اس بارے میں فیصلہ کرے گا کہ یونیورسٹی کب کھولی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ یونیورسٹیوں کے پیشِ نظر غیر ملکی طلبا کا معاملہ بھی ہے جنہیں اگر آن کیمپس کلاسیں نہ ملیں تو انہیں اپنے ملک واپس جانا پڑے گا مگر پھر بھی حالات ایسے نہیں ہیں کہ یو نیورسٹی کھولی جائے۔ چنانچہ ان کی یونیورسٹی نے فی الحال آن لائن کلاسز ہی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹر بخاری کہتے ہیں کہ کسی بھی یونیورسٹی میں طلبا کی تعداد ایسی نہیں ہے کہ ایک کلاس روم میں انہیں اس طرح بٹھایا جائے کہ ان کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ بھی رہے۔ وہ کہتے ہیں اسکول محفوظ طریقے سے کھولنے کا فیصلہ اسی وقت ہو سکے گا جب کرونا وائرس کے خلاف کوئی ویکسین مارکیٹ میں آجائے گی۔

نیو یارک شہر کے مئیر بل دی بلاسیو نے اعلان کیا کہ ستمبر میں نیویارک کے سکول کھول دیئے جائیں گے اور ابتداء میں صرف دو روز کیلئے طلبا کلاسوں میں آئیں گے۔

لیکن نیو یارک کے کارڈیالوجسٹ اور ارجنٹ کئیر پروائیڈر ڈاکٹر اعجاز احمد کہتے ہیں کہ نیو یارک کے گورنر نے کہا ہے کہ اس بارے میں فیصلہ مئیر کا نہیں ہو گا۔ نیو یارک کے سات سو پچاس سکول ڈسٹرکٹس، ٹیچرز یونینز اور پیرنٹس ایسوسی ایشنز سے بھی مشورہ کیا جائے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

نیویار ک میں اگرچہ کووڈ نائنٹین کے کیسز کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔ لیکن ڈاکٹر اعجاز احمد کہتے ہیں کہ حالات اب بھی ایسے نہیں کہ اسکول مکمل طور پر کھولے جا سکیں۔ اور اسکولوں میں سماجی فاصلہ قائم رکھنا تو بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔ اس لئے فوری فیصلہ کرنے کے بجائے کچھ عرصہ انتظار کرنا بہتر ہے۔

آمنہ خان ایک ماں کی حیثیت سے اور بشریٰ ایک ٹیچر کی حیثیت سے ایک ہی طرح کی فکر کا اظہار کرتی ہیں کہ ہو سکتا ہے بچہ خود تو محفوظ رہے لیکن اگر وہ اسکول سے وائرس لے کے گھر آگیا تو کیا ہو گا۔ گھر جہاں ماں باپ بھی ہیں اور دادا دادی اور نانا نانی سے بھی ملنا ہو سکتا ہے۔ لمحہ فکریہ ہے اور فیصلہ بہت مشکل۔

XS
SM
MD
LG