رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے منفی اثرات، کیا پاکستانی معیشت سنبھل پائے گی؟


(فائل فوٹو)

عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات سے پاکستان کی معیشت مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) منفی 1.3 فی صد تک کم ہو سکتی ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ برائے مالی سال 2020 میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران کے دوران دنیا بھر کی طرح پاکستان کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جس کے باعث ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی 1.3 فی صد تک کم ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1952 میں تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.80 فیصد رہی تھی۔

اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم نے سال 2020 کے لیے عالمی معیشت کی شرح نمو کو 2.9 سے کم کرکے 2.4 فی صد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وبا کا پھیلاؤ عالمی شرح ترقی کو 1.5 فی صد تک سست کر سکتا ہے۔

بہت سی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی طرح پاکستان میں بھی اگرچہ کرونا وائرس نے ابھی زور نہیں پکڑا ہے تاہم معیشت پر اس کے منفی اثرات پوری طرح سے ظاہر ہورہے ہیں۔

صرف مارچ میں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ 25 فی صد تک گری ہے اور روپے کی قدر میں چھ فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

'اچھی ملازمتیں معیشت بہتر ہونے سے پیدا ہوتی ہیں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:13 0:00

معاشی و اقتصادی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ کرونا کی وبا ختم ہونے کے بعد پاکستان کو اپنی معیشت درست کرنے کے لیے دوبارہ جدوجہد کرنا ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی میدان کی اس اگلی جنگ کے لیے پاکستان کی حکومت اور شعبہ ہائے زندگی کو ابھی سے تیاری کرنا ہوگی۔

ممتاز ماہر معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ موجودہ لاک ڈاؤن کے باعث ایک اندازے کے مطابق ابھی تک ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ عالمی اداروں کا یہ کہنا کہ وبا کا اگلا مرکز جنوبی ایشیا ہو سکتا ہے۔ جس سے صورتِ حال مزید تشویش ناک ہو سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے معشیت پر اندازے سے زیادہ اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔ شرخ نمو گراوٹ کا شکار رہے گی۔ اگر شرح نمو مسلسل گرنا شروع ہوجائے تو لوگ لمبے عرصے تک بے روزگار رہتے ہیں۔

صنعت کار شہزادہ احسن اشرف کہتے ہیں کہ ملک بھر میں صنعتیں بند ہیں۔ برآمدات اور مقامی ترسیل بھی ممکن نہیں، ایسے میں صنعت کار بجلی کے بل ادا نہیں کر پا رہے تو ملازمین کو تنخواہیں کہاں سے دیں گے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

احسن شاہزیب گروپ آف انڈسٹریز کے چیئرمین احسن اشرف نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بیروزگاری میں اضافہ صنعت کے بند ہونے کی وجہ سے ہے۔ صنعتیں بند کرنے کا فیصلہ کسی طور دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا اور اگر صورتِ حال برقرار رہی تو ہماری معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔

ماہر معاشیات اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ، ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کہتے ہیں کہ ملک کی معیشت پر دو طرح سے دباؤ ہے۔ ایک جانب وبا پر قابو پانے کے لیے اضافی مالی وسائل درکار ہیں تو دوسری جانب لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کے عالمی اثرات کے باعث محصولات میں خاصی کمی واقع ہو رہی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وبا سے پاکستان میں صنعت اور خدمات کے شعبے کے علاوہ سب سے زیادہ روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پیدا شدہ صورتِ حال کے سبب پاکستان کی مالی حیثیت پر دباؤ بڑھا ہے کیونکہ ٹیکس وصولی کم ہورہی ہے اور اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔

عالمی اداروں کے مطابق اگرچہ کرونا وائرس کی یہ وبا دنیا کے تقریباً ہر ملک کو متاثر کر رہی ہے لیکن غریب ممالک کے لیے مسائل زیادہ سنگین ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں کہ کرونا وبا کے ٹل جانے کے بعد پاکستانی معیشت کو چلانے کے لیے مناسب حکمت عملی اپنانا ہو گی۔ اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کا چھوٹے کاروباری اداروں، وزیر اعظم کا تعمیرات کے شعبے کے لیے اعلان کردہ پیکج اور احساس پروگرام احسن اقدام ہیں۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ حکومت سہولیات فراہم کرکے چھوٹے صنعتی یونٹ کو بند نہ ہونے دے تاکہ کم آمدنی والے افراد کو روزگار کے مواقع ملتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بحرانی صورتِ حال میں آسانی مہیا کرنے کے لیے حکومت کو کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی اشیا پرعائد ٹیکس کو کم کرنا ہوگا۔

شہزاد احسن اشرف کا ماننا ہے کہ حکومت اگر صنعتوں کو بلا سود قرض فراہم کرے تو اس سے نہ صرف بے روزگاری پر قابو پایا جا سکے گا۔ بلکہ برآمدات کے طے شدہ معاہدے مکمل ہونے سے محصولات بھی حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ فوری طور پر برآمدات ممکن نہیں اور مقامی منڈی میں بھی طلب نہ ہونے کے برابر ہے تاہم بعض صنعتوں کے پاس سال بھر کے برآمدی معاہدے موجود ہیں جن کی تیاری کے لیے صنعتوں کو کھولا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت بینکوں کے ذریعے صنعت کو سہولیات دینے کے بجائے بجلی و گیس کے بلوں کے چھوٹ کی صورت میں براہ راست امداد دے کیوں کہ بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو قرض دینے سے گریزاں رہتے ہیں۔

عابد سلہری کہتے ہیں کہ پاکستان کی دیہی معیشت میں خاصی جان ہے جسے حکومت کچھ سہارا دے کر اپنی غذائی ضروریات کا تحفظ کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 64 فی صد آبادی دیہات میں رہتی ہے جو گندم اور چاول سے لے کر پھل سبزیاں اور دودھ و گوشت کی طلب کو پورا کرلے تو ملک میں بحرانی صورتِ حال پیدا نہیں ہو گی۔

عالمی بینک نے پاکستان میں مالی سال 2020 کے دوران معیشت میں قرضوں کا حجم اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھنے کاخدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

دنیا کے دیگر سربراہان مملکت کی طرح پاکستان کے وزیراعظم نے بھی اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ کرونا وائرس کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں چھوٹ دی جائے۔

اس صورتِ حال کے پیش نظر پاکستان نے عالمی مانیٹری فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے بھی قرض کا کہا ہے جس کا مثبت جواب دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے پاکستان کو 1.4 ارب ڈالر کا اضافی قرض دینے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG