رسائی کے لنکس

logo-print

ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر پر مقدمہ، طلبہ مارچ کے منتظمین کی ضمانت منظور


مال روڈ پر 29 نومبر 2019 کو مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے شرکاء اور منتظمین کے خلاف لاہور کے سول لائنز تھانے کی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا — فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مال روڑ پر طلبہ یونین کی بحالی کے لیے کیے گئے 'یکجہتی مارچ' کے منتظمین کی مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے جبکہ ایک طالب علم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

لاہور کی کینٹ کچہری عدالت نے عالمگیر نامی طالب علم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا۔ پولیس اہلکاروں نے مذکورہ طالب علم کو سخت سیکیورٹی میں عدالت پیش کیا۔

پولیس نے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جو مسترد کر دی گئی جب کہ ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

دوسری جانب سیشن کورٹ نے مقدمے میں نامزد ملزم عمار علی جان اور کامل خان کی عبوری درخواستِ ضمانت منظور کرلی اور پولیس کو ملزمان کی گرفتاری سے روک دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج نے دونوں ملزمان کی 50، 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔

عدالت نے تھانہ سول لائنز پولیس سے مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ بے قصور ہیں جبکہ پولیس نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا۔

طلبہ یونین کی بحالی کے لیے مختلف شہروں میں مظاہرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:59 0:00

واضح رہے مال روڈ پر 29 نومبر 2019 کو مختلف طلبہ تنظیموں کی جانب سے نکالی گئی ریلی کے شرکاء اور منتظمین کے خلاف لاہور کے سول لائنز تھانے کی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔

مقدمے میں ایف سی کالج یونیورسٹی کے لیکچرار عمار علی جان، بھٹہ یونین کے عہدیدار فاروق طارق، عالمگیر وزیر، مشعال خان کے والد حاجی اقبال لالہ، محمد شبیر اور کامل خان کو نامزد کیا گیا تھا۔

مقدمے میں 250 سے 300 نامعلوم افراد بھی شامل کیے گئے ہیں جب کہ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ریلی کے شرکا نے حکومتی اور ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کیں۔

عالمگیر وزیر جامعہ پنجاب کے سابق طالبعلم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہیں گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر 19 سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ہاسٹل میں مبینہ طور پر وہ اپنے کزن کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر خالد خان کے مطابق عالمگیر وزیر جامعہ پنجاب کے طالب علم نہیں ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو ان کے ہاسٹل میں رہائش پذیر ہونے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

'یونینز سے دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا'

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی طلبہ یونینز کی بحالی کے حوالے سے ٹوئٹ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جامعات مستقبل کی قیادت تیار کرتی ہیں اور طلبہ یونینز اس سارے عمل کا لازمی جزو ہیں ۔

طلبہ یوینیز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز میدان کارزار کا روپ دھار گئیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا۔

عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم دنیا کی صف اول کی دانش گاہوں میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے انہیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنائیں گے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے طلبہ مارچ کے منتظمین کے خلاف مقدمات کے اندراج کی مذمت کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پُر امن مارچ کے طلبہ کے خلاف مقدمے کا اندراج ریاستی جبر ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے مارچ کے حق میں پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مستقبل کی سیاست کے لیے بہت اچھا قدم ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشل کا مطالبہ

دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا چیپٹر نے طلبہ مارچ کے حوالے سے پولیس مقدمہ خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اگر کسی شخص کو اس کے پُر امن احتجاج کے حق پر گرفتار کیا گیا ہے تو اسے بھی غیر مشروط طور پر فوری رہا کیا جائے۔

ایمنسٹی نیشنل کے مطابق طلبہ مارچ کے شرکا کے خلاف کارروائی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG