رسائی کے لنکس

logo-print

کروناوائرس کا خوف: دنیا کے ڈیڑھ ارب لوگ گھروں میں بند


ریڈکراس کا ایک کارکن جکارتہ کے ایک گرجا گھر میں جراثیم کش ادویات کا سپرے کر رہا ہے۔ 16 مارچ 220

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے، دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ یعنی ڈیڑھ ارب افراد کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔ چند ممالک اور شہروں میں لوگ حکام کے حکم پر گھروں میں بند ہیں تو بقیہ علاقوں میں خوف نے انھیں گھروں پر رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ماسک، وینٹی لیٹر اور میڈیکل کی دیگر اشیا اور آلات کی کمی ہو گئی ہے۔

امریکہ میں سیاسی تعطل کی وجہ سے کانگریس سے لوگوں کے لئے امدادی پیکج کی منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، پیر کے روز دن کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھنے میں آئی، حالانکہ فیڈرل ریزرو کا کہنا ہے کہ حکومت جتنا ضروری ہو گا، قرض لے گی اور چھوٹے اور بڑے کاروباروں اور مقامی حکومتوں کو وائرس کے پھیلاؤ سے پہنچنے والے معاشی نقصان کے ازالے کیلئے قرض دے گی۔

اس اختتام ہفتہ، ریاست نیو یارک میں کاروبارِ زندگی تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ریاستی عہدیداروں کو خدشہ ہے کہ نیو یارک دنیا میں کرونا وائرس کا بدترین شکار نہ بن جائے۔ نیو یارک کے میئر نے متنبہ کیا ہے کہ شہر کے اسپتالوں میں طبی عملہ اور مریض اپنے بچاؤ کیلئے درکار بنیادی اشیا کی قلت سے صرف دس دن کے فاصلے پر ہیں۔

نیو یارک کے میئر بِل ڈی بلازیو نے ٹیلی وژن نیٹ ورک سی این این کو بتایا کہ آلات کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں حقیقت میں زندگیوں کا زیاں ہو گا۔

صف اول میں کام کرنے والے ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی عملہ سب سے پہلے زد میں آئے گا۔ اٹلی میں کم از کم اٹھارہ ڈاکٹر کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ اسپین میں طبی عملے کے تین ہزار نو سو ارکان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

برطانیہ کے ہیلتھ ورکروں کا کہنا ہے کہ انہیں مزید حفاظتی لباس کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے اُنہیں موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ فرانس میں ڈاکٹر، تعمیراتی عملے اور فیکٹری مزدوروں سے ماسک لے رہے ہیں۔

فرانس میں حیاتیات کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ ماسک کے حصول کیلئے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ فرانس انٹر ریڈیو سے بات کرتے ہوئے فرانسوان بلینشکاٹ کا کہنا تھا کہ اب دفتروں، صنعتوں اور کمپنیوں سے درخواست کی جا رہی ہےکہ ان کے اپنے اسٹاک میں اگر ماسک پڑے ہیں وہ فراہم کریں۔

دنیا بھر میں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ماسک اور دستانے ایک بار کی بجائے کئی بار استعمال کریں۔ دنیا بھر میں وینٹی لیٹر کم پڑ رہے ہیں، جو کہ کرونا وائرس کے مریضوں کیلئے ناگزیر ہیں۔

چین نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران پر قابو پا لیا ہے۔ صرف شہر ووہان اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو ابھی تک خطرے کے درجے میں رکھا گیا ہے جہاں لوگوں سے گھروں میں رہنے کا کہنا جا رہا ہے۔

امریکہ میں وینٹلی لیٹروں کی فراہمی پر زبردست سیاسی جنگ جاری ہے۔ اس سیاسی چپقلش میں اس وقت شدت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاستی گورنروں کے اجلاس میں کہا کہ اگر وہ مرکزی حکو مت کی نسبت زیادہ جلد آلات حاصل کر سکتے ہیں تو اُنہیں اپنے آلات حاصل کرنے چاہئیں۔ عنقریب ریاست الاسکا متوقع طور پر میڈی کیڈ حاصل کرنے والے مریضوں کے علاج پر مامور، ڈاکٹروں، اسپتالوں اور کلینکوں کو رقم فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے گی۔

چین وہ واحد ملک ہے، جس نےیورپ میں اٹلی، اسپین، فرانس، بلغاریہ، یونان، اور سربیا سمیت دیگر ممالک میں اپنے ڈاکٹر، ماسک، دستانے اور دیگر طبی سامان بھجوایا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گیینگ شو آنگ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اپنا وقت ظائع کیا ہے۔

امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر، ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ امریکی حکومت جلد ہی ان مقامات پر، جہاں اس وقت اشد ضرورت ہے، طبی سامان اور آلات بھیجنا شروع کردے گی۔

اسی دوران، کانگریس سے مالی امدادیی پیکج کی فراہمی میں تعطل پیدا ہوا ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے دو کھرب ڈالر کے پیکیج کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ اس میں کارکنوں، بے رروزگار افراد اور طبی عملے کی مدد کی بجائے کارپوریشنوں کو سہولت فراہم کی گئی ہے۔

دنیا بھر میں اس وقت تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، اور قریباً پندرہ ہزار افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ چین میں تو اس کے پھیلاؤ میں کمی ہوئی ہے، لیکن امریکہ اور یورپ میں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پیر کے روز جرمنی نے کہا ہے اس کے ہاں وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آ رہی ہے۔

صرف چند ہفتوں میں، امریکہ میں 33 ہزار کیس سامنے آئے ہیں اور 400 کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ نیو یارک، کیلیفورنیا اور الی نوئے میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کا کہا گیا ہے۔

زیادہ تر لوگوں میں کرونا وائرس سے کھانسی اور بخار کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ تاہم زیادہ عمر کے افراد اور ایسے افراد جو پہلے سے بیمار ہیں، اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور انہیں نمونیا کی شکایت ہو جاتی ہے، جو کہ جان لیوا ہے۔ چین میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد اس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG