رسائی کے لنکس

تحریکِ انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواست خارج


الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے منحرف رکنِ صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی کی نااہلی کے لیے دائر آئی عمران خان کا ریفرنس بھی خارج کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کردی ہے جبکہ پی ٹی آئی کے منحرف رکنِ صوبائی اسمبلی ضیاء اللہ آفریدی کی نااہلی کے لیے دائر آئی عمران خان کا ریفرنس بھی خارج کردیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے انٹراپارٹی انتخابات کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن میں جمع کرادی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ان دونوں درخواستوں پر جمعرات کو فیصلہ سنایا۔ چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف عمران خان کا ریفرنس مسترد کرتے ہوئے اسے خارج کردیا۔

چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے پارٹی تبدیل کرنے پر ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ ضیاء اللہ آفریدی 2013ء کے عام انتخابات میں تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر خیبر پختونخوا کے حلقے پی کے 1 سے کامیاب ہوئے تھے، جس کے بعد انہیں صوبائی وزیر برائے معدنیات مقرر کیا گیا تھا۔

گزشتہ برس 28 اگست کو ضیاء اللہ آفریدی نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی تھی جس کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس میں باضابطہ طور پر تحریکِ انصاف چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ستمبر 2018 کو ضیاء اللہ آفریدی کی اسمبلی رکنیت معطل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی جسے ای سی پی نے سماعت کے لیے منظور کرلیا تھا۔

جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کا کالعدم قرار دینے کی یوسف علی کی درخواست کی بھی سماعت کی۔

دورانِ سماعت دوران تحریکِ انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کا ریکارڈ الیکشن کمیشن میں جمع کرایا جس کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات میں کل 2 لاکھ 56 ہزار 997 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے کل ووٹرز 17 لاکھ ہیں۔ جواب میں بتایا گیا ہے کہ انصاف پینل کو ایک لاکھ 89 ہزار 55 جبکہ احتساب پینل کو ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد ووٹ ملے جبکہ 26 ہزار 255 ووٹ ضائع ہوئے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار یوسف علی کے وکیل نے پی ٹی آئی انتخابات کی تفصیلات مانگتے ہوئے کہا کہ پارٹی آئین میں خود سے غیر قانونی طریقے سے ترمیم کی گئی۔ جس پر تحریکِ انصاف کے وکیل نے کہا کہ دوسری جماعت یہ کیسے دیکھ سکتی ہے اس سے ووٹ کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔

وکیل تحریکِ انصاف نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس عمل کی خود تصدیق کرسکتا ہے۔ ایسے ریکارڈ دینے سے ووٹر کا فون نمبر لیک ہوجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ ووٹ کس نے کاسٹ کیا۔

چیف الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا اور درخواست گزار یوسف علی کی درخواست خارج کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخات درست قرار دے دیے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے اصل آئین معطل کرکے الیکشن کرائے۔ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن غیر قانونی اور غیر آئینی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG