رسائی کے لنکس

لبنان: نئی کابینہ میں فرقے کی بنیاد پر کوٹہ ختم کرنے کی تجویز


لبنان کے صدر میشال عون (فائل فوٹو)

لبنان کے صدر میشال عون نے کہا ہے کہ اگر فوری طور پر ملک میں حکومت قائم نہ ہوئی تو ملک دوزخ بن جائے گا۔ صدر نے کابینہ میں فرقے کی بنیاد پر کوٹہ ختم کرنے کی بھی تجویز دی۔

لبنانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ دارالحکومت بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے بعد تاحال حالات معمول پر نہیں آ سکے۔

دھماکے کے بعد لبنان کے وزیر اعظم حسان دیاب مستعفی ہو گئے تھے جس کے بعد مصطفی ادیب کو نیا وزیر اعظم نامزد کیا گیا تھا جو اپنی کابینہ تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

پیر کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں لبنانی صدر نے کہا کہ حکومت سازی کے معاملات پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے باعث فوری طور پر مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔

لبنانی صدر سے سوال ہوا کہ مختلف دھڑوں کے مابین اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اُن کے نزدیک حالات کس جانب بڑھ رہے ہیں؟ میشال عون نے جواب دیا کہ "یقیناً جہنم کی جانب۔"

لبنان کو 1970 کی دہائی کے بعد بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ گو کہ فرانس کی کوششوں سے مختلف دھڑوں کے مابین حکومت سازی کے لیے کوشش جاری ہیں۔ تاہم تاحال اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

پیر کو ملک کے نامزد وزیر اعظم نے نئی حکومت کے قیام میں تمام فریقوں سے تعاون اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے فرانس کی کاوشوں کو کامیاب بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

لبنان کے نامزد وزیر اعظم مصطفی ادیب (فائل فوٹو)
لبنان کے نامزد وزیر اعظم مصطفی ادیب (فائل فوٹو)

نامزد وزیر اعظم مصطفی ادیب نے کہا کہ تمام فریقوں کو مل کر ماہرین پر مشتمل ایسی ٹیم تشکیل دینا چاہیے جو ملک کو مزید نقصان سے بچا کر درست سمت میں گامزن کر سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ صدر کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

بعض رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے لبنانی وزیر اعظم نے کابینہ میں ردوبدل میں ناکامی پر مستعفی ہونے کا عندیہ تھا۔ وہ بعض وزارتیں تبدیل کرنا چاہتے تھے جو سالہا سال سے مخصوص دھڑوں کے کنٹرول میں ہیں۔

لبنان میں کابینہ کی ازسرنو تشکیل کی کوششوں میں مشکلات حائل ہیں۔ کیوں کہ شیعہ تنظیمیں ایران نواز حزب اللہ اور 'امل موومنٹ' نے کابینہ میں وزارتِ خزانہ سمیت دیگر اہم وزارتوں کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

پیش رفت سے آگاہ ایک سینئر لبنانی سیاست دان نے 'فرانس 24' چینل کو بتایا کہ فرانس اب بھی تعطل ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم مصطفی ادیب کو سابق وزیر اعظم سعد حریری سمیت سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کی حمایت حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG