رسائی کے لنکس

logo-print

حزب اللہ کے جنگجوؤں نے در اندازی کی کوشش کی، اسرائیل کا الزام


فائل فوٹو

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آگ سے کھیل رہی ہے۔

نیتن یاہو کا یہ بیان اسرائیل کی فوج کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا ہے کہ اس نے لبنان کے ساتھ سرحد پر حزب اللہ کے جنگجوؤں کی اسرائیل میں در اندازی کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔

پیر کو اسرائیلی فوج کے اس دعوے کے فوری بعد نیتن یاہو نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے در اندازی کی مبینہ کوشش کی ذمہ داری حزب اللہ اور لبنان پر عائد کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر لبنان کی سرزمین سے اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کا حملہ ہوا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

نیتن یاہو نے حزب اللہ کے سربراہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حسن نصر اللہ پہلے ہی اسرائیل کی دفاع کی صلاحیتوں کا غلط تخمینہ لگا کر بہت بڑی غلطی کر چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان کی حکومت کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں مشورہ دوں گا کہ دوبارہ ایسی غلطی نہ کی جائے۔

اس سے قبل اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ مسلح افراد نے مزارع شبعا کے علاقے سے اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

خیال رہے کہ مزراع شبعا پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا اور لبنان اس علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی فوج اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان ایک گھنٹے سے زائد فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔ البتہ واقعے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے کہا ہے کہ حالیہ واقعے میں اس کے جنگجو ملوث نہیں۔

ایک بیان میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ اسرائیل تصوراتی فتوحات ایجاد کرنے میں مصروف ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اسرائیل کو حزب اللہ کے اس جنگجو کی ہلاکت کا خمیازہ بھگتنا ہوگا جو گزشتہ ہفتے شام میں اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کو اسرائیل اپنے لیے سنگین خطرہ تصور کرتا ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2006 میں باقاعدہ جنگ بھی ہو چکی ہے۔ لگ بھگ ایک ماہ طویل اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسرائیل میں داخل ہو کر آٹھ فوجیوں کو ہلاک اور دو کو اغوا کر لیا تھا۔

گولان ہائٹس میں ’ٹرمپ ہائٹس‘
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:59 0:00

اس جنگ میں لبنان میں 1191 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ دوسری جانب اسرائیل کے 121 فوجی مارے گئے تھے جب کہ حکام نے 44 عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

بعد ازاں اقوامِ متحدہ نے فریقین میں جنگ بندی کا معاہدہ کرایا تھا جس پر فریقین تاحال بڑی حد تک کاربند ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا کی جاری وبا اور لبنان کی خراب معاشی صورتِ حال کے باعث فریقین میں سے کوئی بھی دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG