رسائی کے لنکس

logo-print

میزائل تجربات جنوبی کوریا کے لیے وارننگ ہیں، کِم جونگ اُن


شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اُن میزائلوں کے حالیہ تجربات کا معائنہ کر رہے ہیں۔

شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے حالیہ میزائل تجربات پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے جنگ پسندوں کے لیے ایک وارننگ ہیں۔

شمالی کوریا کے خبر رساں ادارے ’کے سی این اے‘ سے بات کرتے ہوئے کِم جونگ اُن نے کہا کہ ہم جنوبی سمت سے لاحق خطرات میں کمی اور ملکی سکیورٹی کے لیے زیادہ طاقت ور ہتھیار بنا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق کِم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کو ’ڈبل ڈیلر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا امن کی حمایت کا دعویٰ بھی کرتا ہے اور ساتھ ہی اسلحے کی درآمد اور امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اپنی گفتگو میں شمالی کوریا کے سپریم لیڈر نے جنوبی کوریا کے حکام کو امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون 2018 میں کِم جونگ اُن سے پہلی ملاقات کی تھی اور جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی افواج کی مشترکہ فوجی مشقیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

شمالی کوریا نے امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ آئندہ ماہ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں کی تیاری کر رہا ہے جو وعدہ توڑنے کے مترادف ہے۔

شمالی کوریا نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ایسے اقدامات نہ روکے گئے تو وہ اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی لانچنگ پر دوبارہ کام شروع کر دے گا۔

اپنے انٹرویو میں کِم جونگ اُن کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی کوریا کے رہنما ہماری وارننگ کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کریں اور اُنہیں امریکی فوج کے ساتھ فوجی مشقوں جیسے "خود کش اقدامات" روکنے چاہئیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جنوبی کوریا امن معاہدے اور معاشی تعاون کے وعدے پر عمل نہیں کر رہا بلکہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں اور F-35 اسٹیلتھ جنگی طیاروں کا سودا کر رہا ہے۔

کِم جونگ اُن نے جمعرات کو کم فاصلے تک مار کرنے والے دو میزائلوں کے تجربے کا خود مشاہدہ کیا تھا۔

شمالی کوریا کے سپریم لیڈر جمعرات کو کیے جانے والے میزائل تجربات کا جائزہ لے رہے ہیں
شمالی کوریا کے سپریم لیڈر جمعرات کو کیے جانے والے میزائل تجربات کا جائزہ لے رہے ہیں

​شمالی کوریا کے ایک مقامی اخبار نے میزائل لانچنگ کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں کِم جونگ اُن میزائلوں کو فائر ہوتا دیکھ کر مسکرا رہے ہیں اور تالیاں بجا رہے ہیں۔

میزائل تجربے کے بعد کِم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ وہ میزائلوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ اور امریکہ سے تعلقات

شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کِم جونگ اُن کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گزشتہ ماہ ہونے والی ملاقات کے بعد یہ شمالی کوریا کی طرف سے کیا گیا پہلا میزائل تجربہ تھا۔

امریکہ اور شمالی کوریا کے صدور کی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ میزائل تجربات کے بعد ان مذاکرات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر سے گزشتہ ماہ ملاقات کی تھی۔
صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر سے گزشتہ ماہ ملاقات کی تھی۔

​امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہونے کے باوجود شمالی کوریا ایسی کارروائیاں کر رہا ہے جو امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے خطرناک ہیں۔

’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی کِم جونگ اُن سے ملاقات میں شمالی کوریا کے سربراہ نے درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا نئے سرے سے آغاز اب بھی ممکن ہے۔

میزائل تجربات پر جنوبی کوریا کا ردعمل

شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے ایک افسر نے کہا ہے کہ یہ میزائل کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہیں جن کا جائزہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی کمبائن فورسز کمانڈ (سی ایف سی) نے لیا ہے۔

’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میزائلوں نے 600 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ شمالی کوریا کے ان میزائلوں کی خصوصیات روس کے ’اسکندر ایس ایس 26‘ سے ملتی جلتی ہیں۔

سی ایف سی کے ترجمان نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ان میزائل تجربوں سے جنوبی کوریا یا امریکہ کو کوئی خطرہ نہیں اور اس سے ان کے دفاع پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

شمالی کوریا پر تحقیق کرنے والے ایک پراجیکٹ کے منیجنگ ایڈیٹر جینی ٹاؤن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کا جمعے کو جاری کردہ بیان واضح طور پر جنوبی کوریا کے لیے تھا لیکن اسی بیان کے ذریعے شمالی کوریا نے واشنگٹن کو بھی پیغام بھیجا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کا بیان کسی نہ کسی طور پر جنوبی کوریا اور امریکہ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے۔

میزائلوں پر تحقیق کرنے والے جیفری لوئس کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا نے مئی میں لانچ کردہ میزائل کے مقابلے میں حالیہ میزائلوں میں کافی تبدیلیاں کی ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایک فیصلے کے ذریعے شمالی کوریا پر پابندی لگائی ہے کہ وہ کسی بھی بیلسٹک میزائل کے تجربے سے باز رہے لیکن شمالی کوریا میزائل تجربات کو اپنے دفاع کا حق سمجھتے ہوئے ان پابندیوں کو مسترد کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG