رسائی کے لنکس

logo-print

کیا امریکہ، ترکی تعلقات میں بہتری آئے گی؟


اوساکا

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان روس کے ایس 400 میزائلوں کی خرید پر موجود تلخی کو دور کرنے کیلئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ متوقع ملاقات جاپان کے شہر اوساکا میں منعقد ہونے والےجی 20 سربراہی اجلاس سے ہٹ کر ہو گی۔ اور، بہت سے ماہرین اس ملاقات کو دو نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کو دور کرنے کے آخری موقعے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ترکی نے روس کے ساتھ ان میزائلوں کی خریداری کیلئے ڈھائی ارب ڈالر کا معاہدہ طے کیا ہے۔

یہاں امریکہ میں ترکی کے سابق سینئر سفارتکار، آئیدین سلچن کہتے ہیں کہ دنوں صدور کے درمیان ملاقات تبدیلی کا باعث ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے سلچن کا کہنا ہے کہ روس سے میزائلوں کی آمد، جولائی کے اواخر میں ہوگی، اور امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کا اطلاق اب ہونے ہی والا ہے۔ یہ پابندیاں، بقول ان کے، ٹھوس اور حقیقی ہیں۔
اردوان بظاہر ان پابندیوں کو اہمیت نہیں دے رہے۔ بدھ کے روز، جاپان کیلئے روانہ ہونے سے پہلے میڈیا رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے ،اردوان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں کہ نیٹو میں شامل ممالک نے ایک دوسرے پر پابندیاں عائد کرنی شروع کر دی ہیں۔ اردوان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ رابطے کے دوران انہیں کبھی ایسا کوئی تاثر نہیں ملا۔
صدر اردوان کو تعلقات میں برف پگھلنے کی توقع ہے۔ نکی ایشین ریویو نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر اردوان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ جی20 سربراہی اجلاس کے دوران، صدر ٹرمپ سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات میں جاری تعطل کو دور کرنے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کیلئے اہم ثابت ہو گی۔
ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ جدید ترین ایس 400 میزائلوں سے نیٹو کے دفاعی نظام کو خطرہ لاحق ہے، خصوصی طور پر امریکہ کے جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیاروں کو۔ انقرہ کو اس کنسورشیئم سے الگ ہونے کا سامنا ہے جو ان طیاروں کو بنا رہا ہے بلکہ ان کی خریداری پر پابندی کا بھی خطرہ ہے۔
ایس 400 میزائلوں کی خریداری پر ردِ عمل میں، پہلے قدم کے طور پر، ان جدید طیاروں کی تربیت حاصل کرنےکیلئے آئے ہوئے ترک پائلٹوں کو، اِس ماہ، تربیت سے الگ کر دیا گیا ہے۔
تعطل کو دور کرنے کیلئے، اردوان صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات پر انحصار کر رہے ہیں۔ ترکی کے سابق سینئر سفارتکار سلچن کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ صدر اردوان دنیا کے ان چند لیڈروں میں شامل ہیں، جنہیں صدر ٹرمپ پسند کرتے ہیں۔ تاہم، ان کے تعلقات، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر کس طرح سے اثر انداز ہونگے، یہ ملاقات کے بعد ہی پتہ چلے گا۔
تاہم، بدھ کے روز، امریکہ کے قائم مقام وزیر دفاع، مارک ایسپر نے اپنے ترک ہم منصب، ہُو لُو سی آکار کو ایس 400 کی خریداری کے نتائج پر متنبہ کیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ایک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر ترکی ایس 400 میزائل کی خریداری کرتا ہے، تو اس کے نتائج بھی بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہئیے، اور ان میں نہ صرف ایف 35 طیاروں سے الگ ہونا بلکہ اس کی معاشی صورتحال، دونوں شامل ہیں۔
امریکی کانگریس نے بھی ترکی پر ’کاؤنٹر اینٹی امیریکن ٹریڈ سینکشنز ایکٹ‘ کے تحت وسیع تر معاشی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جاپان میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے دوران، اردوان کی ملاقات، روس کے صدر ولیدیمیر پیوٹن سے بھی ہونے کی توقع ہے۔ صدر اردوان کیلئے یہ ملاقات روس سے تعلقات خراب کئے بغیر، ایس 400 میزائلوں کی خرید سے الگ ہونے کا ایک موقع ہو گی۔

ماہرین کے نزدیک، دونوں ملکوں کے، وسیع تر معاشی اور علاقائی مشترکہ مفادات کی وجہ سے، یہ ممکنہ معاہدہ عمل میں آ بھی سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG