رسائی کے لنکس

پاکستانی کشمیر میں بارودی سرنگوں سے بچاؤ کی خصوصی میسجنگ سروس


دھماکہ خیر مواد کے بارے میں آگاہی کی مہم۔

روشن مغل

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کو بارودی سرنگوں سے بچانے کے لیے موبائل فون کے ذریعے پیغام رسانی کا آغاز کیا گیا ہے ۔

مقامی سطح پر بارودی سرنگوں کے خطرات سے آگاہی کا یہ پروگرام پاکستانی کشمیر کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی طرف سے پاکستان آرمی کی کے ذیلی ادارے ایس سی او کے موبائل فون نیٹ ورک ایس کام کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔

اس میسجنگ سروس کے ذریعے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کرنے والے جنگ بندی لائن کے قریب بسنے والوں کو بارودی سرنگوں اور دیگر دھماکہ خیز مواد سے باخبر رکھنے کے لیے اردو میں ایس ایم ایس بھیجے جائیں گے۔

ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پاکستانی کشمیر کے میڈیا آفیسر محمد رستم نے وائس آف امریکہ کو پروگرام کی افادیت بتاتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد کنٹرول لائن کے قریب آبادرہنے والوں کو بارودی سرنگوں کی موجودگی کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔ کیونکہ ان علاقوں میں لوگ مال مویشی چرانے یا گھاس اور لکڑیاں لانے حد بندی لائن کے قریب پہنچ جاتے ہیں جہاں بارش کے باعث یا جان بوجھ کر رکھی گئی بارودی سرنگیں یا کھلونوں، ماچس یا سگریٹ کے پیکٹ کی شکل میں دیگر دھماکہ خیز مواد پڑا ہوا ملتا ہے۔ اور اپنی علمی کے باعث اسے اٹھانے کی کوشش کرنے والے بارودی مواد پھٹنے سے ہلاک یا زخمی ہوجاتے ہیں۔

سرحد کے قریب رہنے والوں کو مہم کے متعلق بتایا جا رہا ہے۔
سرحد کے قریب رہنے والوں کو مہم کے متعلق بتایا جا رہا ہے۔

محمد رستم نے بتایا کہ جس موبائل نیٹ ورک کے ساتھ بارودی سرنگوں کے بارے میں آگاہی کے بارے میں پیغام رسانی کا معاہدہ ہوا ہے اسکی کوریج جنگ بندی لائن کے قریب واقع اکثر علاقوں میں ہے۔اس سروس سے زیادہ تر سرحدی علاقوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی پاکستانی کشمیر کی شاخ اس موبائل فون نیٹ ورک استعمال کرنے والوں کو وقتا فوقتا بارودی سرنگوں سے بچاو کے لیے حفاطتی پیغامات ارسال کرتی رہے گی۔

باور رہے کہ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی 2010 سے پاکستانی کشمیر میں بارودی سرنگوں کے خطرات کے بارے میں تعلیم و تربیت مہیا کر رہی ہے۔

محمد رستم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مائن رسک ایجوکیشن پروگرام کے ذریعے اب تک ہزاروں افراد کو بارودی سرنگوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا چکی ہے۔اس مہم میں سوسائٹی کے سینکڑوں تربیت یافتہ رضا کار حصہ لے رہے ہیں ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG