رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا، مصر، امارات اور نائجیریا میں سیکڑوں سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند


فیس بک کے حکام کا کہنا ہے کہ نامناسب سرگرمیوں اور جھوٹی خبروں کو پھیلانے والے اکاؤنٹس، گروپس اور پیجز کو بند کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات، مصر اور نائجیریا کے اُن صارفین کے سیکڑوں اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں جو 'نامناسب رویے' کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

فیس بک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پراپیگنڈا اور جھوٹی خبروں کی روک تھام کے لیے اپنے قواعد میں سختی کی ہے اور اس سلسلے میں انتہا پسندی کو فروغ دینے اور پراپیگنڈا کے لیے استعمال ہونے والے متعدد اکاؤنٹس اور 'پیجز' پہلے ہی بند کیے جاچکے ہیں۔

فیس بک کے انسداد پراپیگنڈا کے ذمہ دار ڈیوڈ اگرانووچ کا کہنا ہے کہ اُن کی ٹیم نے انڈونیشیا سمیت مصر، متحدہ عرب امارات اور نائجیریا میں نامناسب سرگرمیوں اور جھوٹی خبروں کو پھیلانے والے اکاؤنٹس، گروپس اور پیجز کو بند کردیا ہے۔

اگرانووچ کے مطابق انڈونیشیا میں پاپوا کی آزادی تحریک کے مخالف 100 سے زائد جعلی فیس بک اکاؤنٹس اور انسٹاگرام پوسٹ کو ہٹایا گیا ہے۔ ختم کیے گئے اکاؤنٹس انگریزی اور مقامی زبان میں پاپوا کی تحریک آزادی کے خلاف سرگرم تھے۔

ڈیوڈ اگرانووچ نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی ٹیم پاپوا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد انڈونیشیا کی مانیٹرنگ کر رہی ہے جس کے دوران اُنہیں مقامی میڈیا گروپ کی طرف سے آزادی تحریک کی مخالفت میں چلنے والے جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ انڈونیشیا کے صوبہ پاپوا میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ اور پرتشدد مظاہروں میں اب تک 33 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

'رائٹرز' کے مطابق ماہرین نے ستمبر میں خبردار کیا تھا کہ پاپوا میں جعلی ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے حکومت کی حمایت میں مواد شیئر کیا جارہا ہے۔

فیس بک کے مطابق مصر سے چلنے والے فیس بک کے اُن پیجز کو بلاک کردیا گیا ہے جو متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر کی حمایت میں مواد شیئر کر رہے تھے۔ اور ان اکاؤنٹس کے ذریعے قطر، ایران، ترکی اور یمن میں چلنے والی علیحدگی پسند تحریکوں پر تنقید کی جارہی تھی۔

فیس بک پہلے بھی نامناسب مواد کی تشہیر پر متعدد اکاؤنٹس بند کرچکا ہے۔ (فائل فوٹو)
فیس بک پہلے بھی نامناسب مواد کی تشہیر پر متعدد اکاؤنٹس بند کرچکا ہے۔ (فائل فوٹو)

فیس بک کے انسداد پراپیگنڈا کے نگران ڈیوڈ اگرانووچ کے مطابق کمپنی کو شواہد ملے ہیں کہ بعض اکاؤنٹس اس مقصد کے لیے خریدے گئے تھے جس کی ملکیت روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہورہی تھی۔

اُن کے بقول، جعلی فیس بک اکاؤنٹس کی فروخت میں مصر کے مقامی اخبار 'الفجر' کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ جو اپنے سنسنی مواد کی وجہ سے مشہور ہے۔

ڈیوڈ اگرانووچ کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں فیس بک نے 'الفجر' اخبار کے آفیشل میڈیا پیجز بھی ختم کردیے ہیں۔

'الفجر' کی جانب سے فیس بک کے اس اقدام کے خلاف اب تک کوئی جواب سامنے نہیں آیا ہے۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ تیسرے نیٹ ورک کی نشاندہی متحدہ عرب امارات، نائجیریا اور مصر میں چلنے والے جعلی اکاؤنٹس کی ہوئی ہے جہاں تین مارکٹنگ کمپنیاں یو اے ای کی یمن میں سرگرمیوں اور ایران کے جوہری معاہدے کے موضوعات پر جعلی معلومات شیئر کر رہی تھیں۔

یاد رہے کہ فیس بک نے پراپیگنڈا اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والے پیجز اور اکاؤنٹس کے خلاف کریک ڈاؤن کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں متعدد پیجز اور اکاؤنٹس پہلے ہی بند کیے جاچکے ہیں۔

فیس بک نے رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب، چین، روس، ایران، عراق، یوکرین، اسرائیل، تھائی لینڈ اور ہنڈوراس میں بھی کئی فیس بک صارفین کے اکاؤنٹس منجمد کیے ہیں۔

حال ہی میں کشمیر تنازع پر مختلف تصاویر اور پوسٹ کرنے پر پاکستانی صارفین کے بھی کئی اکاؤنٹس یا تو ختم کیے گئے ہیں۔ یا ایسے صارفین کو فیس بک نے انتباہی پیغامات دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG