رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا کے صوبے پاپوا میں پُرتشدد مظاہرے، 26 افراد ہلاک


انڈونیشین حکام نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ 'ویمانا' شہر میں مظاہرین نے سرکاری دفاتر اور رہائشی عمارتوں کو نذر آتش کیا ہے۔

انڈونیشیا کے مشرقی صوبہ پاپوا میں علیحدگی پسندوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں میں 26 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

پاپوا میں گزشتہ کئی روز سے احتجاج جاری ہے۔ جہاں علیحدگی پسند مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے۔

انڈونیشین حکام نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ 'ویمانا' شہر میں مظاہرین نے سرکاری دفاتر اور رہائشی عمارتوں کو نذر آتش کیا جس کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ پاپوا میں مظاہروں کا آغاز اگست کے وسط میں اُس وقت ہوا تھا جب سکیورٹی فورسز نے ملک کے دوسرے بڑے شہر سرابایا میں نسلی تعصب کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں کو حراست میں لیتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔

یونائیٹڈ لبریشن موومنٹ پاپوا میں آزادی کے لیے سرگرم ہے۔ جس کا کہنا ہے کہ پیر کو انڈونیشین فورسز نے قتل عام کیا جس کے دوران ہائی اسکول کے 17 طالب علموں کو بھی ہلاک کیا گیا۔ تاہم انڈونیشیا کی فوج علیحدگی پسند تنظیم کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

پاپوا میں مظاہروں کا آغاز اگست کے وسط میں اُس وقت ہوا تھا۔
پاپوا میں مظاہروں کا آغاز اگست کے وسط میں اُس وقت ہوا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے بعد 4 ہزار سے زائد شہریوں نے سرکاری عمارتوں، مقامی چرچوں سمیت پولیس اور فوج کی تنصیبات میں پناہ لی ہے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ویمانا شہر میں ہنگاموں کے دوران ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر پاپوا کے مقامی نہیں تھے۔

انڈونیشین فوج کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہروں کے دوران 700 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے فسادات سے متعلق پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

مقامی فوجی کمانڈر چاندرا ڈینٹو نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ جھڑپوں اور فسادات میں ہلاک ہونے والے بعض افراد جل کر ہلاک ہوئے جب کہ بعض آتشزدگی کا شکار عمارتوں میں پھنسے رہے۔

یاد رہے کہ پاپوا ہالینڈ کی کالونی تھا جو 1960 کی دہائی میں انڈونیشیا کے زیر کنٹرول آیا جہاں کئی دہائیوں سے علیحدگی پسند چھوٹے پیمانے پر بغاوت کی تحریکیں چلاتے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG