رسائی کے لنکس

logo-print

جعلی ہدایت نامہ ٹوئٹ کرنے پر فواد چوہدری کو تنقید کا سامنا


وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری (فائل فوٹو)

حکومتِ پاکستان کے وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اسلام آباد دھرنے سے متعلق ایک جعلی ہدایت نامہ ٹوئٹ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

پاکستان کے صحافتی اور سیاسی حلقے ایک ذمہ دار وزیر کی جانب سے ایک جھوٹی خبر (فیک نیوز) کی تشہیر پر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے گزشتہ ہفتے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 27 اکتوبر کو ہونے والے آزادی مارچ سے متعلق ایک ہدایت نامہ ٹوئٹ کیا تھا جس میں پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو بعض احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

وفاقی وزیر نے اس مبینہ ہدایت نامے کی شق نمبر چھ کا خصوصی طور پر حوالہ دیا تھا جس میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کو امیر کی اجازت کے بغیر "لواطت" سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ "چھ نمبر ہدایت سے تو لگ رہا ہے کہ دھرنا ایمسٹرڈیم یا سان فرانسسکو کی پنک موومنٹ کا دھرنا ہے۔ کمال ہی ارادے ہیں۔" فواد چوہدری کی یہ ٹوئٹ لگ بھگ 22 گھنٹے تک ان کے اکاؤنٹ پر موجود رہنے کے بعد ڈیلیٹ کردیا گیا تھا۔

جمعیت علمائے اسلام نے اس ہدایت نامے کو جعلی قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر کے اس طرزِ عمل کی مذمت کی تھی۔

فواد چوہدری کی اس ٹوئٹ کو تحریکِ انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور کئی صحافیوں نے بھی ری ٹوئٹ کیا تھا۔

ایک ویڈیو پیغام میں جمعیت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا تھا کہ سوشل میڈیا پر جو ہدایت نامہ گردش کر رہا ہے وہ سراسر من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ تحریکِ انصاف سے وابستہ افراد نے یہ جعلی ہدایت نامہ خود سے بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کیا۔

صحافی سبوخ سید نے ٹوئٹ کی کہ فواد چوہدری اور عامر لیاقت حسین نے یہ جعلی ہدایت نامہ کمنٹس کے ساتھ ٹوئٹر پر شیئر کیا۔

سینئر صحافی ہارون رشید نے 'نائنٹی ٹو نیوز' میں نشر ہونے والے اپنے پروگرام کے دوران کہا کہ اگر وہ عمران خان کی جگہ ہوتے تو فوری طور پر فواد چوہدری کو برطرف کر دیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک وفاقی وزیر کا اس طرح کا گھٹیا ٹوئٹ کرنا وزیرِ اعظم کے لیے شرمندگی کا باعث ہونا چاہیے۔

جعلی ہدایت نامے سے متعلق اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا کے کارکن سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور باشعور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کے خلاف سوشل میڈیا پر جو پراپیگنڈہ ہوتا ہے اس پر تنقید کیوں نہیں کی جاتی۔

بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے دستخط سے ایک جعلی نوٹی فکیشن بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا جس میں اسلام آباد پولیس اور دیگر اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ "لواطت" ایک غیر شرعی اور غیر قانونی فعل ہے اور آئندہ دنوں میں دھرنے کے دوران ایسی حرکات ہوسکتی ہیں۔

حمزہ شفقات نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس نوٹی فکیشن کی مکمل تردید کی اور کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا نوٹی فکیشن جعلی ہے۔

ان کے بقول انہوں نے اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو بھی خط لکھا ہے اور اپنے نام سے وائرل ہونے والے جعلی نوٹی فکیشن کی تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔

خیال رہے کہ فواد چوہدری اس سے قبل وفاقی وزیر اطلات و نشریات بھی رہ چکے ہیں اور اپنی وزارت کے دوران انہوں نے سوشل میڈیا پر 'فیک نیوز' کے خاتمے کے لیے 'فیک نیوز بسٹر' بنایا تھا۔

وزارتِ اطلات و نشریات کے تحت کام کرنے والا یہ بسٹر فوری طور پر جعلی یا من گھڑت خبر کی نشان دہی کر دیتا تھا۔ لیکن فواد چوہدری کی اس ٹوئٹ پر فیک نیوز بسٹر کی جانب سے کوئی انتباہ جاری نہیں کیا گیا۔

فیک نیوز کی روک تھام کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ڈیجیٹل میڈیا پر کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے 'میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی' کے اسد بیگ کہتے ہیں کہ 'فیک نیوز' کی بیخ کنی کے لیے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے اندر حقائق کی جانچ پڑتال کا ایک منظم نظام ہونا چاہیے۔ ان کے بقول صحافیوں میں یہ ادراک ہونا چاہیے کہ غلط خبر کا کس حد تک نقصان ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی روک تھام کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن یہ معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ اگر اس معاملے پر حکومت کوئی قانون سازی کرتی ہے تو اس کی زد میں درست خبر بھی آ سکتی ہے جب کہ اظہار رائے کی آزادی پر بھی اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔

اسد بیگ کہتے ہیں کہ درست خبر سے متعلق عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو صرف ان خبروں پر یقین کرنا چاہیے جو مستند اور باوثوق ذرائع سے ان تک پہنچتی ہوں۔

اسد بیگ کا کہنا تھا کہ بھارت میں گزشتہ ایک سال کے دوران سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے باعث 31 افراد کو ہجوم کے ہاتھوں قتل کر دیا گیا۔ ان کے بقول پاکستان میں اگر یہ سلسلہ ختم نہ ہوا تو یہاں بھی بھارت جیسی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں فیک نیوز کے حوالے سے ماضی میں بھی ایسی کئی شکایات سامنے آتی رہی ہیں جن میں مختلف سیاسی شخصیات کے خلاف جھوٹی خبریں وائرل ہوئیں۔

مختلف سیاسی جماعتوں اور اداروں کے سوشل میڈیا ونگ اپنے مخالفین کے خلاف ایسی خبریں بناتے ہیں اور پھر کچھ ہی دیر میں ہزاروں اکاؤنٹس کے ذریعے ان خبروں کو وائرل کردیا جاتا ہے۔ لیکن اب تک حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی باقاعدہ قانون سازی نہیں ہوسکی اور ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ بھی کم وسائل کی وجہ سے ایسی شکایات کی مکمل تحقیقات کرنے کے قابل نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG