رسائی کے لنکس

logo-print

نیپال میں بارشوں اور سیلاب سے 47 افراد ہلاک


نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں شہری سیلاب سے متاثرہ علاقے سے نقل مکانی کر رہے ہیں

نیپال میں بارشوں اور طوفان سے 47 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ درجنوں افراد زخمی اور لاپتہ ہیں۔

نیپال کے پہاڑی علاقوں میں جمعرات سے شدید مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں کے باعث ملک بھر میں نظام زندگی مفلوج ہو گیا ہے۔ رہائشی علاقوں، سڑکوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں سے متاثرہ کچھ علاقوں سے سیلابی ریلے کم ہونا شروع ہوگئے ہیں تاہم مشرقی دریاؤں میں اب بھی طغیانی ہے اور پانی خطرے کے نشان سے زیادہ ہے۔

نیپال کے محکمہ موسمیات نے شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

نیپالی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں حکام نے سیلاب سے 47 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جب کہ 28 افراد زخمی اور 29 افراد کو لاپتہ قرار دیا گیا ہے۔

نیپالی وزارت داخلہ کے ایک افسر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی ترجیح لوگوں کی جان بچانا اور انہیں ریسکیو کرنا ہے جس کے لیے وہ تمام دستیاب وسائل کا استعمال کررہے ہیں۔

نیپالی پولیس افسر کے مطابق نیپال اور بھارت کی سرحد پر قائم کوسی بیراج کے تمام 56 دروازے ہفتے کی رات کھول دیے گئے تھے جس سے 371,000 کیوسک پانی کی نکاسی ہوئی جو گزشتہ 15 سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب سیلابی ریلوں میں کمی آرہی ہے۔

دریائے کوسی اور بھارت

واضح رہے کہ دریائے کوسی پڑوسی ملک بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ سال 2008 میں بھی دریائے کوسی میں بڑے سیلابی ریلے نے بھارت میں تباہی مچائی تھی۔ بھارتی ریاست بہار میں 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 500 سے زائد تھی۔

جنوبی ایشا میں مون سون بارشوں کا موسم

جنوبی ایشیا میں جون سے ستمبر تک مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے جو ہرسال بڑی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ گزشتہ سال بھی مون سون بارشوں سے جنوبی ایشیا میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور صرف بھارتی ریاست کیرالہ کو 100 سالہ تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG