رسائی کے لنکس

فلائیڈ نے مرنے سے پہلے 20 بار کہا، میرا دم گھٹ رہا ہے!


منی ایپلس میں پولیس حراست میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ نے اپنے آخری لمحات میں 20 سے زیادہ بار کہا تھا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے۔

یہ بات پولیس اہلکاروں کے باڈی کیمروں کی ویڈیو سے حاصل ہونے والی ٹرانسپکرپٹ سے معلوم ہوئی ہے۔ جارج فلائیڈ نے کئی بار یہ بھی کہا کہ پولیس افسر اسے جان سے مار رہے ہیں۔

ایک ٹرانسکرپٹ کے مطابق جارج فلائیڈ نے کہا، "کم آن، مین۔ اوہ، اوہ۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ وہ مجھے مار دیں گے۔ وہ مجھے مار دیں گے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے''۔

ان ٹرانسکرپٹس سے جارج فلائیڈ کی موت سے چند لمحات پہلے کی انتہائی جامع اور ڈرامائی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ فلائیڈ کی موت کے بعد ملک بھر میں پولیس تشدد کے خلاف تحریک شروع ہوگئی تھی۔

ان ٹرانسکرپٹس کو منگل کو منیاپولیس کی عدالت میں داخل کیا گیا۔ یہ ایک افسر تھامس لین کی اس کوشش کا حصہ ہیں کہ اسے جارج فلائیڈ کی موت میں مدد دینے کے الزام سے بری کیا جائے۔

فلائیڈ کو ایک دوسرے افسر ڈیرک شاون نے نیچے گرا کے اس کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھ دیا تھا اور اس وقت تک نہیں ہٹایا تھا جب تک وہ بے حرکت نہیں ہوگیا۔ تھامس لین نے اس وقت فلائیڈ کی ٹانگیں پکڑی ہوئی تھیں۔

پولیس میں 19 سال خدمات انجام دینے والے شاون کو سیکنڈ ڈگری قتل کے الزام کا سامنا ہے اور اگر اسے مجرم ٹھہرایا گیا تو 40 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

تھامس لین کے علاوہ الیگزینڈر کوینگ اور ٹاؤ تھاؤ کو بھی اعانت قتل پر 40 سال قید سنائی جاسکتی ہے۔ ان چاروں افسروں کو واقعے کے بعد برطرف کردیا گیا تھا۔

عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں باڈی کیمرا ویڈیو کی 82 صفحات کے ٹرانسکرپٹس کے علاوہ 60 صفحات کے اس انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی ہے جو تھامس لین نے منی سوٹا کے بیورو آف کرمنل ایپری ہینشن کے تفتیش کاروں کو دیا۔

اس انٹرویو میں جب تھامس لین سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے اس وقت محسوس کیا تھا کہ جارج فلائیڈ کو طبی امداد کی ضرورت پڑ رہی ہے تو انھوں نے کہا، ہاں، مجھے احساس ہوا تھا کہ ایسا کچھ ہورہا ہے۔

ایک موقع پر جارج فلائیڈ نے کہا، ماں میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ میرے بچوں کو بتانا کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ میں مرگیا۔

جب جارج فلائیڈ نے کہا کہ اس کا دم گھٹ رہا ہے تو شاون نے کہا، اچھا تو پھر بولنا بند کرو، چیخنا بند کرو۔ بولنے کے لیے بہت سی آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔

تھامس لین نے اس موقع پر کہا کہ انھیں تشویش ہے کہ جارج فلائیڈ کو طبی امداد کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس پر شاون نے کہا کہ اسی لیے ہم نے ایمبولینس کو طلب کیا ہے۔

پھر ایک راہگیر نے چیخ کر کہا، وہ اب سانس نہیں لے رہا۔ بھائی، کیا یہ ٹھیک ہے؟ کیا یہ ٹھیک ہے؟

تھامس لین کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کا موکل پولیس کا رنگروٹ تھا اور وہ اپنے سینئر افسر شاون کی ہدایات پر عمل کررہا تھا جو اس کی فیلڈ میں تربیت کا ذمے دار تھا۔ اس لیے اسے قتل میں مدد کے الزام سے بری کردیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG