رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے تھے، سابق سفیر کا الزام


فائل فوٹو

یوکرین کے لیے امریکہ کی سابق سفیر میری یوو ینووچ نے الزام لگایا ہے کہ یوکرین کے حکام نے انہیں خبردار کیا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے وکیل انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ لہذٰا انہیں احتیاط کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے دوران یوو ینووچ کی 317 صفحات پر مشتمل گواہی کی نقول جاری کر دی گئیں ہیں۔

یوو ینووچ نے گزشتہ ماہ بھی ایوانِ نمائندگان میں پیش ہو کر صدر ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں گواہی دی تھی۔ تاہم، پیر کو جاری ہونے والی دستاویز میں انہوں نے ان عوامل کا احاطہ کیا ہے جس کے بعد انہیں رواں سال مئی میں صدر ٹرمپ نے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ گواہی کے دوران یوو ینووچ نے یوکرینی حکام کی وارننگ جب کہ امریکہ اور یوکرین میں ان کی ساکھ خراب کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا۔

یوو ینووچ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کس طرح جنوری 2018 سے براہ راست یوکرینی حکام اور اپنے وکیل گیولیانی کے ساتھ رابطے میں تھے۔

خیال رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی منظوری دی ہے۔ صدر ٹرمپ پر یہ الزام ہے کہ انہوں نے سابق نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا، جو بائیڈن آئندہ سال صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔

یوو ینووچ کے مطابق، صدر ٹرمپ کا یہ خیال تھا کہ میں ان کے سیاسی مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 25 جولائی کی صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر کی ٹیلی فون کال سامنے آنے پر بہت حیران اور خوفزدہ تھیں۔ یوو ینووچ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے انہیں 'بری خبر' کہنے پر وہ خوفزدہ ہو گئیں تھیں۔ ان کے بقول، انہیں اپنی پینشن اور دیگر مراعات کھو جانے سے زیادہ اپنی زندگی کی پراوہ ہے۔

جاری کردی بیان میں یوانونیچ کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ کی یوکرائن کے صدر کے ذاتی وکیل سے ہونے والی ٹیلی فون پر گفتگو سے متعلق معلومات بھی بیان کی گئیں۔ (فائل فوٹو)
جاری کردی بیان میں یوانونیچ کی طرف سے امریکی صدر ٹرمپ کی یوکرائن کے صدر کے ذاتی وکیل سے ہونے والی ٹیلی فون پر گفتگو سے متعلق معلومات بھی بیان کی گئیں۔ (فائل فوٹو)

دوران سماعت ایک موقع پر جب یوو ینووچ مختصر وقفے کے بعد واپس آئیں تو تفتیش کار کا کہنا تھا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ یہ عمل انتہائی مشکل اور جذباتی ہے۔

یوو ینووچ کو امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کے درمیان 25 جولائی کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے پہلے ہی واپس بلا لیا گیا تھا۔

پیر کے روز سامنے آنے والے بیان میں وہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ جن کی وجہ سے یوانونیچ کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ (فائل فوٹو)
پیر کے روز سامنے آنے والے بیان میں وہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ جن کی وجہ سے یوانونیچ کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ (فائل فوٹو)

یوو ینووچ کے مطابق، انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ صدر ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی اور ان کے ساتھی یوکرین کے صدر اور دیگر حکام پر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کا آغاز کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کے بقول، انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ صدر ٹرمپ کی اس معاملے میں حمایت کریں۔ لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپریل میں انہیں محکمہ خارجہ کے ایک اعلٰی افسر کارل پیریز نے یوکرین کے وقت کے مطابق رات ایک بجے فون کیا اور فوری وطن واپس آنے کا مشورہ دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آخر اتنی جلدی کیا ہے جس پر کارل پیریز نے کہا کہ یہ آپ کی سیکورٹی کے لیے مشورہ ہے۔

ایوان نمائندگان میں تفتیش کے دوران یوو ینووچ نے واضح کیا کہ یوکرین میں قیام کے دوران وہ صدر ٹرمپ کی وفادار رہیں۔

رپبلکنز کی طرف سے یوکرین میں تعینات سابق امریکی سفیر میری یوو ینووچ کا بیان جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے حال ہی میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی منظوری دی ہے۔

جو بائیڈن آئندہ سال صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG