رسائی کے لنکس

logo-print

مواخذے کی کارروائی: پوچھ گچھ کے لیے ٹرمپ کے وکیل طلب


فائل فوٹو

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا ہے۔

ایوان کی یہ کمیٹی صدر ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں تحقیقات کر رہی ہے۔

انٹیلی جنس کمیٹی کے ڈیمو کریٹ چیئرمین ایڈم شف نے پیر کو صدر ٹرمپ کے وکیل کو سمن جاری کیا ہے جس میں اُنہیں 15 اکتوبر کو یوکرین سے متعلق دستاویزات کے ہمراہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کریں کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو یوکرین کی گیس کمپنی میں بھاری تنخواہ پر ملازمت دینے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کیا تھا یا نہیں۔

جو بائیڈن 2020 کے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے مقابلے پر ڈیموکریٹس کے متوقع امیدوار ہوسکتے ہیں۔ صدر کے ناقدین بائیڈن کے خلاف ایک دوسرے ملک سے مبینہ طور پر مدد طلب کرنے کو صدر کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال قرار دے رہے ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے 25 ستمبر کو اس الزام کی چھان بین کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔​

صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے چیئرمین نے صدر ٹرمپ کے وکیل کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کمیٹی صدر ٹرمپ کے خلاف قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ایڈم شف نے خط میں روڈی جولیانی سے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران شواہد ملے ہیں کہ آپ نے صدر ٹرمپ کو 2020 کے انتخابات میں ذاتی فوائد پہنچانے کے لیے ایجنٹ کا کردار ادا کیا اور اس مقصد کے لیے صدر کے آفس کے اختیارات کو پامال کیا گیا۔

روڈی جولیانی پر الزام ہے کہ انہوں نے جو بائیڈن کے خلاف یوکرین میں تحقیقات شروع کرانے کے لیے کوششیں کی تھیں۔ تاہم، اُن پر کسی غلط کام میں ملوث ہونے کے باضابطہ الزامات نہیں ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بقول، امریکی وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام تصدیق کرچکے ہیں کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ہونے والی ان کی گفتگو کو وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بھی سنا تھا اور اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔

صدر ٹرمپ کا اپنے ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ ایڈم شف اُن کے مواخذے کی خاطر لاکھوں لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

کیا صدر کا مواخذہ ممکن ہے؟

امریکہ میں کانگریس کو یہ اختیار ہے کہ وہ طے شدہ طریقہ کار کے ذریعے کسی بھی موجودہ صدر کو برطرف کر سکتی ہے۔

مواخذے کا عمل کئی مراحل پر مشتمل ہے اور اس دوران صدر یا مواخذے کی کارروائی کی زد میں آنے والے شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں کانگریس کے سامنے وکیل اور شہادتیں پیش کر سکے۔

امریکہ کی تاریخ میں آج تک کسی صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکا ہے۔ البتہ صدر رچرڈ نکسن نے اپنے خلاف مواخذے کا سامنا کرنے کے بجائے صدارت سے استعفی دے دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG