رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کشمیر میں 'آزادی مارچ' ایل او سی سے آٹھ کلو میٹر دور روک دیا گیا


ریلی میں لاتعداد موٹر سائکلیں اور گاڑیاں شامل ہیں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی ہزاروں افراد پر مشتمل ریلی کی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی جانب پیش قدمی کی جبکہ انتظامیہ نے مظاہرین کو مقررہ مقام سے آگے جانے سے روکنے کے لیے کئی مقامات پر رکاوٹیں لگا کر راستوں کو بند کر دیا۔

کشمیروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے کارکنان پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے بھمبر سے سرینگر تک مارچ کرنا چاہتے ہیں۔

جے کے ایل ایف کے مطابق گاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور پیدل افراد پر مشتمل قافلے میں شریک لوگ مظفرآباد سے ایل او سی کی جانب جانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ مظاہرین پاکستان اور بھارت دونوں کے زیر انتظام کشمیر کو ایک خود مختار ریاست بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ ایل او سی کو پار کرکے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر جانا چاہتے ہیں جہاں دو ماہ سے زائد عرصے سے کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد ہیں۔

احتجاج میں شریک مظاہرین مسلسل "ہم آزادی چاہتے ہیں، یہاں (پاکستان سے) بھی اور وہاں (بھارت سے) بھی" کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔

مقامی حکام اور پولیس کی جانب سے اس ریلی کو روکنے کی اب تک کوشش نہیں کی گئی تاہم اسے متنازع علاقے کی سرحد ایل او سی کے قریب جانے سے روکنے کے لیے کئی مقامات پر رکاوٹیں لگا دی گئی ہیں۔

احتجاج میں شریک طب کے شعبے سے وابستہ 64 سالہ ڈاکٹر اعجاز احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ میں اس مارچ میں اس لیے شریک ہوں تاکہ اپنے کشمیر بھائیوں سے اظہار یکجہتی کر سکوں۔ وہ دو ماہ سے کرفیو اور دیگر پابندیوں کا شکار ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے روشن مغل کے مطابق چکوٹھی کے راستے سری نگر کی طرف جانے والے آزادی مارچ کو لائن آف کنٹرول سے آٹھ کلو میٹر دور روک لیا گیا۔
جسکول کے مقام پر کنٹینرز لگائے گئے تھے تاکہ احتجاج میں شامل مظاہرین اس مقام سے آگے نہ جا سکیں۔
آزادی مارچ کی قیادت کرنے والے جے کے ایل ایف پاکستان کے رہنما توقیر گیلانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ اپنی منزل سرینگر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
توقیر گیلانی کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ نے انہیں آگے جانے نہ دیا تو غیر معینہ مدت کے دھرنا دیں گے۔
آزادی مارچ کے شرکاء نے جمعے کے روز پاکستانی کشمیر کے مختلف علاقوں سے جنگ بندی لائن چکوٹھی کی طرف سفر شروع کیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلی میں شریک افراد 20 کلو میٹر کا سفرکرکے ایل او سی کی جانب جا رہے ہیں۔ یہ حکومت کے لیے بڑا چلینج ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں ہر شخص اس کی آزادی کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں خطاب میں دنیا کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ امن کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

مظاہرین کی لائن آف کنٹرول کی جانب پیش قدمی پر فواد چوہدری نے کہا کہ ایل او سی کے پار جانے کا مطلب ہوگا کہ ایک جنگ زدہ علاقے میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایسی صورت حال سے بچنا چاہتا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے صرف تشویش کے اظہار کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ان کو اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

خیال رہے کہ بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قوم پرست حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پانچ اگست کو آئین میں ترمیم کی تھی۔

اس ترمیم سے بھارت کے آئین میں کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہو گیا ہے جبکہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام کے بعد وادی میں پابندیاں اور کرفیو نافذ ہے جبکہ نئی دہلی اور اسلام آباد میں بھی تعلقات میں کشیدگی ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) ایل او سی کے دونوں جانب متحرک تنظیم مانی جاتی ہے۔ جے کے ایل ایف کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں موجود رہنما کو انتظامیہ حراست میں لے چکی ہے اور قید میں ہیں۔

جے کے ایل ایف نے 1992 میں ایسا ہی ایک احتجاج کیا تھا جس میں وہ سرحد پار کرکے بھارت کے زیر انتظام کشمیر جانا چاہتے تھے تاہم پولیس نے ان کے احتجاج کو روک دیا تھا۔ سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں اس وقت 12 مظاہرین ہلاک بھی ہوئے تھے۔

بھارت کی آئین میں ترمیم کے روز یعنی پانچ اگست کے بعد سے ہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کے قریب احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

گزشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم کا بیان بھی سامنے آیا تھا کہ جموں و کشمیر کی صورتِ حال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عوام کا کرب وہ سمجھ سکتے ہیں۔ تاہم لائن آف کنٹرول(ایل او سی) عبور کر کے کشمیریوں کی مدد کرنے کی کوشش بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف ہو گی۔

اپنی ایک ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں غیر انسانی کرفیو لگے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اگر کسی نے بھی اپنے طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی کوشش کی تو اس سے بھارت کے بیانیے کو تقویت ملے گی۔

حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اگر کشیدگی کے باعث بھارت اور پاکستان کی جوہری جنگ ہوئی تو دونوں ممالک میں مقیم 12 کروڑ 50 لاکھ شہری فوری طور پر ہی ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔

مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی سفارتی کوششیں
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:29 0:00

امریکہ کی یونیورسٹی آف کولیراڈو اور رٹجرز یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے بعد سامنے آنے والی رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ جنگ کے بعد اس کے اثرات بڑے پیمانے پر سامنے آئیں گے جس میں کرہ عرض کا متاثر ہونا بھی شامل ہے۔

بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کرنا بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارت تنازع کشمیر کے حل کے لیے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی پیش کش کو بھی مسترد کرتا رہا ہے۔ بھارت وزیر اعظم نریندر مودی واضح کر چکے ہیں کہ شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کے مطابق پاکستان اور بھارت دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی مسائل حل کرنے کے پابند ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG