رسائی کے لنکس

logo-print

'سوشل میڈیا نے شاعری کا انداز بدل دیا ہے'


فائل فوٹو

"مذہبی کتابیں سب سے زیادہ بکتی ہیں۔ اس کے بعد ناولز اور کہانیوں کا نمبر ہے۔ شاعری بالکل ختم ہو گئی ہے۔ اب شاعری کی کتابیں بہت کم بکتی ہیں۔"

یہ الفاظ تھے عدیل حق کے جو کراچی کے ایکسپو سینٹر میں جاری عالمی کتب میلے میں کتابوں کا اسٹال لگائے ہوئے تھے۔

شاعری والی بات نے ہمیں چونکا دیا۔ ہمارا گمان تھا کہ شاعری ناولز اور دیگر کتابوں کی نسبت زیادہ بکتی ہے۔ لہٰذا ہم نے ایک اور کتب فروش سے اس کے متعلق دریافت کیا۔

بدر الغازی نے بھی ایکسپو سینٹر میں جاری کتب میلے میں کتابوں کا اسٹال لگایا ہوا تھا۔ ان کے بقول شاعری کی کتابیں تو سمجھیں ایک طرح سے دم توڑ چکی ہیں۔ چند ایک ایسے شعرا ہیں جن کا کلام اب بھی بک رہا ہے۔ باقی زیادہ تر تو اب نہیں پڑھے جا رہے۔

شاعری کی اس صورتِ حال اور مستقبل سے متعلق جاننے کے لیے ہم نے آرٹس کونسل کی راہ لی جہاں عالمی اردو کانفرنس میں عالمی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ شاعری میں عوام کی دلچسپی جاننے کا اس سے بہتر ذریعہ کوئی نہیں تھا۔

آرٹس کونسل کے لان میں مشاعرے کے لیے پنڈال سجا ہوا تھا۔ سیکڑوں کرسیاں رکھی تھیں اور لان اور اس کے ارد گرد کی عمارتیں برقی قمقموں سے جگمگا رہی تھیں۔ بڑی تعداد میں لوگ آرٹس کونسل کے احاطے میں موجود تھے۔

مشاعرے کے اسٹیج پر تقریباً 30، 35 شعرا براجمان تھے جن میں سے کئی بیرونِ ملک سے آئے تھے۔ مشاعرہ سننے والوں میں بڑی عمر کے لوگوں کے علاوہ نوجوان بھی تھے۔ لان میں رکھی تمام کرسیاں بھری ہوئی تھیں۔ کئی لوگ زمین پر بھی بیٹھے تھے اور جگہ نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے ارد گرد کھڑے تھے۔

پنڈال میں موجود ایک نوجوان عمر منصور کا کہنا تھا کہ انہیں شاعری سننے کا شوق ہے لیکن مشاعرے اب کم ہوتے جا رہے ہیں۔ پہلے لوگ گھروں میں بھی مشاعرے کراتے تھے اور تقریبات میں مشاعروں کا اہتمام ہوتا تھا۔ لیکن اب یہ سلسلہ صرف عالمی اردو کانفرنس یا ایکسپو سینٹر میں ہونے والے ایک، دو مشاعروں تک محدود ہو گیا ہے اور شہر میں اس بڑے پیمانے پر اب سال میں صرف ایک یا دو مشاعرے ہوتے ہیں۔

پنڈال میں موجود لوگوں سے جب ہم نے شاعروں سے متعلق جاننا چاہا تو اکثر لوگ وہاں موجود شاعروں کی اکثریت کو نہیں جانتے تھے۔ چند ایک تھے جنہوں نے کچھ نامور شعرا کا نام لیا اور کہا کہ وہ تو پیرزادہ قاسم، افتخار عارف اور امجد اسلام امجد کو جانتے ہیں اور انہی کا کلام سننے آئے ہیں۔

مشاعرے میں شرکت کے لیے ایک بھارتی شاعر رنجیت سنگھ بھی آئے ہوئے تھے۔ وہ اسٹیج پر آئے تو بولے کہ میں آج بھی پہلے والا ہی رنجیت سنگھ ہوں۔ سیاست اور حالات چاہے بدلتے رہیں لیکن فن کار نہیں بدلتے۔ لہٰذا آپ حاضرین چاہیں تو کھل کر داد دے سکتے ہیں۔

بھارتی شاعر رنجیت سنگھ
بھارتی شاعر رنجیت سنگھ

اپنا کلام سنانے کے بعد وہ اسٹیج سے اترے تو ہم رنجیت سنگھ کے پاس جا پہنچے۔

رنجیت سنگھ نے بتایا کہ وہ پاکستان پانچویں مرتبہ آئے ہیں اور ہر بار آکر کافی اچھا لگتا ہے۔ لیکن اس بار ان کے آنے کا مقصد گوردوارہ کرتار پور کی زیارت کرنا تھا۔

ہم نے مشاعروں سے متعلق دریافت کیا کہ کیا ہندوستان میں بھی مشاعروں میں کمی آئی ہے؟ تو کہنے لگے کہ میری تو عمر اتنی نہیں کہ میں ماضی اور حال کے مشاعروں کی صورتِ حال میں تبدیلی پر کوئی تبصرہ کر سکوں۔ لیکن بدلتے وقت کے ساتھ مشاعرے بھی تبدیل ہوئے ہیں۔

ان کے بقول حالیہ دور میں کافی اچھے مشاعرے ہو رہے ہیں اور پرانے مشاعروں سے بہتر ہو رہے ہیں۔ اچھے اور نئے نوجوان آ رہے ہیں اور اچھی باتیں کر رہے ہیں۔

اس دوران رنجیت سنگھ کے کچھ مداح ان کے گرد جمع ہو گئے اور ان کے ساتھ تصاویر بنانے لگے۔ ہم آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی کے رکن اور مشاعرے کی نظامت کرنے والے شکیل خان سے ملے اور ان سے مشاعروں کے مستقبل کی بابت دریافت کیا۔

شکیل خان نے بتایا کہ اردو کانفرنس میں ڈنمارک، سوئیڈن، امریکہ اور برطانیہ جیسے ملکوں سے بھی شاعر آئے ہوئے ہیں اور ان کے ہمراہ مشاعرے میں پاکستان کے بھی کئی شاعر موجود ہیں۔

شکیل خان کا کہنا تھا کہ لوگوں میں مشاعروں میں شرکت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول اردو کانفرنس کے تحت گزشتہ 11 مشاعرے آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں ہوئے تھے جہاں صرف 600 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ اس بار ہونے والا مشاعرہ پہلے کی نسبت کافی بڑا ہے اور یہاں ان کے بقول 1500 سے زائد کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ لوگ زمین پر بھی بیٹھے ہیں اور درجنوں لوگ کھڑے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ مشاعروں میں شرکت کر رہے ہیں اور شعری ذوق رکھتے ہیں۔

شکیل خان
شکیل خان

انہوں نے کہا کہ نوجوان طلبہ و طالبات بھی یہاں بڑی تعداد میں مشاعرہ سننے آئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی نسل میں ادبی ذوق برقرار ہے۔

معیاری و غیر معیاری شاعری سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس بحث کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شاعری تو ہو رہی ہے۔

شکیل خان نے کہا کہ فیض احمد فیض اور احمد فراز کے دور میں یہ کہا جاتا تھا کہ غالب اور میر جیسے شاعر نہیں ہیں۔ آج یہ کہا جاتا ہے کہ فیض اور فراز جیسے شاعروں کی کمی ہے۔ یہ شکوہ یونہی ہوتا رہے گا۔ لیکن اردو آگے بڑھ رہی ہے۔

مشاعرہ سننے آئی یاسمین عباس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے مشاعروں کا شوق رکھتی ہیں اور پابندی سے مشاعروں میں شرکت کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اب بھی کئی افراد اور خاندان ایسے ہیں جو اپنے گھر میں مشاعروں کا اہتمام کرتے ہیں اور وہ ان میں سے بھی کئی میں شریک ہوتی ہیں۔

یاسمین عباس
یاسمین عباس

شاعری کے مستقبل سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ لوگ سننا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔ اگر شاعری معیاری ہو تو شاعری کا مستقبل تاب ناک ہے۔

لیکن ساتھی ہی انہوں نے شکوہ کیا کہ شاعری کا معیار گرتا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ابھی جو مشاعرہ ہو رہا ہے میں اس سے خوش نہیں ہوں۔ چند ایک مشہور شاعر ہیں جو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ ورنہ اکثریت کو لوگ نہیں جانتے۔

فرح فاطمہ بھی مشاعرہ سننے آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ نوجوان نسل اسمارٹ فونز اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں لگ کر کتابوں سے دور ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کتابیں پڑھتے بھی ہیں اور ادبی ذوق بھی رکھتے ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی نے ادب کو ہم تک پہنچانے کے انداز کو بدل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاعری کا ذوق تو آج کل کے نوجوان سب سے زیادہ رکھتے ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر کتنی شاعری پوسٹ ہوتی ہے۔ یو ٹیوب پر لوگ شاعری پڑھنے کی ویڈیو پوسٹ کرتے ہیں جنہیں لاکھوں لوگ دیکھتے ہیں۔ لہٰذا شاعری ختم نہیں ہو رہی۔ لیکن بدلتے وقت کے ساتھ شاعری پیش کرنے کا طریقہ بدل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اردو زبان ہے، تب تک شاعری بھی زندہ رہے گی۔ سوشل میڈیا نے شاعری پیش کرنے کے انداز کو بدل دیا ہے۔ معیاری و غیر معیاری سے قطعِ نظر لوگ شاعری پڑھتے رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG