رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی فن کاروں کو پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ کام نہ کرنے کی تنبیہ


بھارتی فلم پروڈیوسر، ڈائریکٹر سبھاش گھئی اور پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان : فائل فوٹو

بھارتی فلم انڈسٹری کی یونین نے بھارتی گلوکاروں اور موسیقاروں کو پاکستانی فن کاروں کے ساتھ کام نہ کرنے کی تنبیہ جاری کی ہے۔

فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سنے ایمپلائز نے مقامی فن کاروں کو خبر دار کیا ہے کہ اگر انہوں نے کسی پاکستانی فن کار کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

یونین کی جانب سے یہ بیان کچھ بھارتی فن کاروں اور پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان کے درمیان مشترکہ طور پر آن لائن کام کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای کو انڈین سنیما ایسوسی ایشن کی سب سے بڑی یونین کا درجہ حاصل ہے۔ اس نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ادارے نے کچھ عرصہ پہلے تمام ممبران کو پاکستانی فن کاروں یا گلوکاروں اور ٹیکنیشنز کے ساتھ کام نہ کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں لیکن کچھ ممبران اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

ایف ڈبلیو آئی سی ای نے دعویٰ کیا کہ راحت فتح علی خان کے ساتھ باہمی تعاون کا یہ واحد واقعہ نہیں بلکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی گلوکاروں کے ساتھ بہت سے اشتہارات اور گانوں کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ لہذا تمام ممبران کو سختی کے ساتھ متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان ہدایات کی قطعی خلاف ورزی نہ کریں۔

بیان کے مطابق اگر کوئی ممبر پاکستانی فن کاروں، گلوکاروں یا تکنیکی ماہرین کے ساتھ کسی بھی طرح سے تعاون یا کام کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔

راحت فتح علی اور بھارتی موسیقار سلیم، سلیمان
راحت فتح علی اور بھارتی موسیقار سلیم، سلیمان

بیان میں کام سے روکنے کی وجہ موجودہ تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی بتائی گئی ہے۔

حال ہی میں پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے ایک انٹرویو میں ان پر عائد پابندی کے بارے میں کھل کر اظہار کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھارت میں پابندی کے باوجود موسیقی کے انگنت پرستاروں نے ان کے کام کو پسند کیا اور ان سے اظہار محبت کیا ہے۔ لیکن فلم 'نوٹ بک' کے ساؤنڈ ٹریک سے اُن کا گانا ہٹا دیا گیا حالانکہ وہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہا تھا۔

اس سے قبل ​2017 میں شاہ رخ خان اور ماہرہ خان کی اداکاری سے سجی فلم 'رئیس' ریلیز ہوئی تھی لیکن اس کے خلاف بڑے پیمانے پر سخت احتجاج ہوا تھا۔ تاہم فلم کی شوٹنگ پابندی کے اعلان سے پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG